مضامین

بنیادی دینی تعلیم کی ضرورت

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

===================================
گذشتہ چند سالوں میں تعلیم کے مسئلہ پر مسلمانوں میں بیدا ری آئی ہے ، کنونٹ ، پرائیوٹ تعلیمی ادارے اور سرکاری اسکولوں میں مسلم بچے بچیوں کا تناسب تیزی سے بڑھا ہے ، سہولتیں بھی پیدا ہوئی ہیں ، مکتب اور مدارس میں بھی طلبہ پہونچ رہے ہیں ؛یہ رجوع اس قدر بڑھا ہے کہ بہت سارے مدارس میں طلبہ کا داخلہ جگہ اور وسائل کی قلت کی وجہ سے نہیں ہو پا رہا ہے ، یہی حال معیاری اسکولوں اور کنونٹ کا ہے ، بڑی بڑی رقمیں دینے اور بہت سارے اوقات صرف کرنے اور سفارشوں کے با وجود ، داخلے میں پریشانیوں کا سامنا ہے ، امیر شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب ؒفرمایا کرتے تھے کہ’’ اب تعلیم کے سلسلے میں معاملہ بے کسی اور بے بسی کا نہیں ہے ، اگر کوئی نہیں پڑھ رہا ہے تو یہ بے حسی ہے ، گارجین کی اور ان لوگوں کی جن کی سر پرستی بچوں کو حاصل ہے ۔‘‘
اس خوش کن صورت حال کے با وجود مکاتب اور مدارس کے دائرے سے باہر نکلیے تو ہمارے بچے جن اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، ان میں سے بیش تر میں بنیادی دینی تعلیم کا یا تو نظم ہی نہیں ہے یا ہے تو برائے نام ہے ، دوسرے موضوعات کی طرح اس پر توجہ نہیں ہے ، جس کی وجہ سے ہمارے طلبہ وطالبات بنیادی دینی تعلیم سے دور رہ جاتے ہیں ، اور ان کی دینی زندگی متاثر ہوتی ہے اور وہ بیش تر حالات میں دین سے نا بلد اور عمل سے دور ہو کر زندگی گذارتے ہیں ، اس افسوس ناک صورت حال کا حل یہ ہے کہ ہمارے اسکول اور کنونٹ جو مسلمانوں کے ذریعہ چلائے جا رہے ہیں ، ان میں بنیادی دینی تعلیم کا مناسب اور معقول انتظام لا زماً کیا جائے اور دوسرے موضوعات کی طرح اس پر خصوصی توجہ دی جائے ، تاکہ وہاں سے نکلنے والے طلبہ دینی تعلیم وتربیت سے پورے طور پر آراستہ ہوں ، جو ادارے دوسروں کے قبضے میں ہیں، ان میں ایسا دباؤ بنایا جائے کہ وہ مسلم بچوں کے لیے مناسب دینی تعلیم کا نظم کریں ۔ ایک طریقہ حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ نے یہ بتایا ہے کہ بچوں کے لیے دینی اقامت گاہیں بنائی جائیں، جن میں اسکول کے بعد کا وقت بچے وہاں گذار یں اور کچھ اوقات ان کے لیے مختص کر دیا جائے کہ ان اوقات میں بچے دینیات پڑھ لیں ، اقامت گاہیں اسلامی تربیت کا بھی مرکز ہوں جن میں بچوں کی نشوونما اسلامی اقدار کے ساتھ کی جائے ، اسے ایک زمانہ میں’’گیلانی اقامت گاہ‘‘کا نام دیا گیا تھا ، یہ شکل صرفہ والی ہے ، لیکن اوپر والی دونوں شکلوں سے زیادہ کار آمد ہے ، نئی تعلیمی پالیسی کے نافذ ہونے کے بعدبنیادی دینی تعلیم کی فراہمی کا سب سے اہم ذریعہ گاؤں کی سطح پر چھوٹے چھوٹے صباحی اور مسائی مکاتب کے مؤثر، منظم اور مربوط نظام کا قیام ہے ، ان مکاتب میں بچے بچیوں کو دینیات کا نصاب پڑھایا جائے ، تاکہ وہ دین کی بنیا دی تعلیم، اسلامی تہذیب اور صحیح عقائد سے باخبر ہو کر زندگی گذار سکیں امارت شرعیہ اس سلسلہ میں کافی فکر مند ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اسکول کے ذمہ داراپنے اسکولوں میں دینیات کا کورس چلائیں ۔اس کام میں گارجین حضرات کی دلچسپی کی بھی ضرورت ہے کہ وہ اپنے بچوں کو قریب کے مکاتب ومدارس اور مساجد کے ائمہ کرام کی خدمت میں بھیجنے کو یقینی بنائیں ،بچے تو بچے ہوتے ہیں ، گارجین حضرات کی دلچسپی نہیں ہوگی تو وہ سارا وقت کھیل کو د میں برباد کردیں گے ، اس کورس میں داخل ہونے سے ان کا وقت ضائع ہونے سے بچ جائے گا اور غیر شعوری طور پر انہیں وقت کی قدر وقیمت کا بھی اندازہ ہو گا ، جس سے وہ آئندہ زندگی میں فائدہ اٹھا سکیں گے ۔ ائمہ حضرات جمعہ کی نماز سے قبل اگر اس موضوع کو اپنی تقریر کا موضوع بنائیں تو یہ منصوبہ تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے ،حضرت امیر شریعت مفکر اسلام مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم کے حکم پرامارت شرعیہ نے بنیادی دینی تعلیم کے فروغ، عصری تعلیمی اداروں کے قیام اور اردو زبا ن کے تحفظ کے لیے یکم فروری۲۰۲۱ء سے ’’ہفتہ برائے ترغیب تعلیم وتحفظ اردو‘‘منانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد ملت کے خواص حضرات میں نئی نسلوں کی بنیادی دینی تربیت اور عصری اعلیٰ تعلیم کے تئیں فکر پیدا کرنی ہے ہمیں ہر سطح پر اس تحریک کو کامیاب کر نا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ جو لوگ اس کام کو کر سکتے ہیں وہ اپنی خدمات رضا کارانہ طور پر ملت کے بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے فارغ کریں اور اس کے لئے تحریک چلائیں انشاء اللہ تحریک کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔ اس سلسلے میں کمشنری اور ضلعی سطح پر پرو گرام کا خاکہ مرتب کر لیا گیا ہے. مرکزی دفتر سے بھی انشاءاللہ ان پروگراموں میں ذمہ داران شریک ہوں گے اس موقع سے عصری تعلیمی نظام کے بنیادی دینی تعلیم اور اسلامی ماحول میں قیام اور اردو کے تحفظ کے لیے قابل عمل پہلوؤں پر بھی غور کیا جائے گا. اءمہ، علما ء، دانشوروں اور علم دوست حضر ات سے ہر سطح پر اسے کامیاب کر نے کی گذارش کی جاتی ہے (بشکریہ نقیب)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: