اسلامیات

بوڑھے والدین کی خدمت نہ کرنے کا وبا ل

مفتی شوکت علی بھاگلپوری

]۱۲[ (۱) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّا قَالَ: رَغِمَ اَنْفُہٗ،ثُمَّ رَغِمَ اَنْفُہٗ،ثُمَّ رَغِمَ اَنْفُہٗ،قِیْلَ مَنْ یَا رَسُوْلَ اللہ ِ؟قَالَ مَنْ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ عِنْدَ الْکِبَرِاَوْاَحَدَھُمَا اَوْکِلَیْہِمَا ثُمَّ لَمْ یَدْخُلِ الْجَنَّۃَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ.
(مسلم:۲/۴۱۳؛رقم:(۰۱-۱۵۵۲)، ترغیب:۳/۸۱۲؛ رقم:۲۲،مشکٰوۃ:۸۱۴؛رقم: ۱۱۹۴)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایاکہ:اُس کی ناک خاک آلود ہوجائے، پھر اُس کی ناک خاک آلود ہوجائے، پھر اُس کی ناک خاک آلود ہوجائے، دریافت کیا گیا: کس کی یا رسول اللہ؟ آپ ا نے ارشاد فرمایا کہ: اُس کی جس نے اپنے والدین یا دونوں میں سے ایک کو بڑھاپے میں پایا پھر بھی وہ (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہو سکا۔ (مسلم،ترغیب)
والدین کی خوشنودی اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے
]۲۲[ (۲) عَنْ عَبْدِ اللہ ِ بْنِ عَمْرٍورَضِیَ اللہ ُ عَنْھُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا:”رِضَا اللہ ِ فِی رِضَا الْوَالِدِ،وَسُخْطُ اللہ ِ فِی سُخْطِ الْوَالِدِ “.
(ترمذی:۲/۲۱؛رقم:۰۰۹۱،ترغیب:۳/۱۲۲؛رقم:۰۳،مشکٰوۃ:۹۱۴؛رقم:۶۴۹۴)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا کا ارشاد ہے کہ: حق تعالیٰ شانہ‘ کی خوشنودی ماں باپ کی خوشنودی میں ہے، اور اللہ جلّ شانہٗ کی ناراضگی ماں باپ کی ناراضگی میں ہے۔ (ترمذی)
والدین کی نافرمانی کانقصان
]۳۲[ (۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہ ُ عنْھُمَا قَالَ:قَالَ رَسُ وْلُ اللہ ِ ا:” مَنْ اَصْبَحَ مُطِیْعاً لِلّٰہِ فِی وَالِدَیْہِ اَصْبَحَ لَہٗ بَابَانِ مَفْتُوْحَانِ مِنَ الْجَنَّّۃِ وَاِنْ کَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا، وَمَنْ اَصْبَحَ عَاصِیًا لِلّٰہِ فِی وَالِدَیْہِ، اَصْبَحَ لَہٗ بَابَانِ مَفْتُوْحَانِ مِنَ النَّارِ، اِنْ کَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا قَالَ رَجُلٌ وَاِنْ ظَلَمَاہُ قَالَ: وَاِنْ ظَلَمَاہُ وَاِنْ ظَلَمَاہُ وَاِنْ ظَلَمَاہُ“۔
(شعب الایمان:۶/۶۰۲؛ رقم:۶۱۹۷، مشکوۃ:۱۲۴؛ رقم:۳۴۹۴)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا کا ارشاد ہے کہ: جس نے صبح اس حال میں کی کہ وہ ماں باپ کے حق میں اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرنے والا ہے (یعنی حکم الٰہی کے مطابق ماں باپ کے حقوق ادا کرنے والا ہے) تواُس کے لئے جنت کے دو دروازے کھلے ہوتے ہیں، اور اگر اُس کے ماں باپ میں سے کوئی ایک زندہ ہو (جس کی وہ اطاعت کرتا ہے) تو اُس کے لئے ایک دروازہ کھلا ہوتاہے، اور جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ ماں باپ کے حق میں اللہ کی نافرمانی کرنے والا ہے (کہ حکم الہٰی کے مطابق والدین کے حقوق ادا نہیں کرتا) تو اُس کے لئے جہنم کے دو دروازے کھلے ہوتے ہیں، اور اگر ماں باپ میں سے کوئی ایک زندہ ہو(جس کی وہ نافرمانی کرتاہے) تو جہنم کا ایک دروازہ کھلا ہوتا ہے(یہ ارشاد سن کر) ایک صحابی نے عرض کیا: اگر چہ ماں باپ اُس پر ظلم کریں؟ آپ ا نے فرمایا: جی ہاں اگر چہ ماں باپ اُس پر ظلم کریں، اگر چہ ماں باپ اُس پر ظلم کریں، اگر چہ ماں باپ اُس پر ظلم کریں۔ (شعب الایمان)
اللہ جل شانہ ٗتین آدمی کو قیامت میں رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے
]۴۲[ (۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْھُمَا عَنْ رَسُوْلِ اللہ ِا قَالَ: ”ثَ لَاثَۃٌ لَایَنْظُرُ اللہ ُ اِلَیْھِمْ یَوْمَ الْقِیَمَۃِ: اَلْعَاقُّ لِوَالِدَیْہِ، وَمُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَالْمَنَّانُ عَطَاءَ ہٗ، وَثَ لَاثَۃٌ لَایَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ: اَلْعَاقُّ لِوَالِدَیْہِ، وَالدَّیُّوْثُ، وَاَلرَّجِلَۃُ“۔
(رَوَاہُ النَّسائیُّ:۱/۵۷۲؛ رقم:۱۶۵۲، والبزارُ واللفظ لَہٗ باسنادین جیدین، والحاکم و قال: صحیح الاسناد (ترغیب:۳/۳۲۲)
ترجمہ:حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا کا ارشاد ہے کہ: قیامت کے دن حق تعالیٰ شانہ تین آدمی پرنظر (رحمت) نہیں فرمائیں گے:(۱) ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا(۲) شرابی (۳)کچھ دے کر احسان جتانے والا۔اور تین آدمی جنت میں نہیں جائیں گے: (۱) ماں باپ کا نافرمان (۲) دیوث (بھڑوا): یعنی جانتے ہوئے بھی بیوی کو بدکاری سے نہ روکنے والا(۳) مَردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتیں۔ (نسائی،بزار،حاکم)
والدین جنت بھی ہیں جہنم بھی
]۵۲[ (۵) عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ” اِنَّ رَجُلاً قَالَ: یَارَسُوْلَ اللہ ِ مَاحَقُّ الْوَالِدَیْنِ عَلٰی وَلَدِھِمَا؟ قَالَ: ھُمَا جَنَّ تُکَ وَنَارُکَ.“(رَوَاہُ ابْنُ مَاجَہ:۰۶۲؛ رقم:۲۶۶۳، ترغیب: ۳/۶۱۲)
ترجمہ: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ایک صحابی نے دریافت کیا: یارسول اللہ ماں باپ کا اپنی اولاد پر کیاحق ہے؟آ پ ا نے فرمایا: وہ تمہاری جنت بھی ہیں او رجہنم بھی: (یعنی ان کی خدمت کروگے اور وہ خوش ہوں گے تو جنت ملے گی ورنہ جہنم میں جانا پڑسکتا ہے)۔اللّٰہم احفظنا منہ۔ (ابن ماجہ)

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: