مضامین

بُنکروں کی گھریلو صنعت خطرے میں!

تحریر:جاوید اختر بھارتی

رابطہ 8299579972
javedbharti508@gmail.com

بنکروں کی ہڑتال بدستور جاری ہے غریب مزدور بنکروں کی حالت انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے بھکمری کے دہانے پر کھڑا بنکر خون کے آنسو رو رہا ہے پھر بھی اترپردیش کی موجودہ حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہڑتال کے دوران پورے صوبے سے اعلیٰ حکام کے ذریعے وزیر اعلیٰ اترپردیش کے نام میمورنڈم دئیے جانے کا سلسلہ بھی جاری ہے –
جس میں غیر معینہ مدت کی ہڑتال پاور لوم کی بندی کا ذکر رہتا ہے ، بجلی محکمہ کے ذریعے کئے جارہے بنکروں پر استحصال کا بھی ذکر رہتا ہے ساتھ ہی ستمبر میں حکومت اور بنکر نمائندگان کے مابین ہونے والی بات چیت کا بھی ذکر رہتا ہے اور بنکروں کی موجودہ صورتحال کا بھی ذکر رہتا ہے
حکومت کی وعدہ خلافی کا بھی ذکر رہتا ہے اور سب کے بعد فلیٹ ریٹ پر بجلی کی سہولت کو بحال کرنے کا پرزور مطالبہ بھی رہتا ہے اس لئے کہ فی الحال سارا مسئلہ بجلی کا فلیٹ ریٹ ختم کئے جانے کی ہی وجہ سے پیدا ہوا ہے –
یہ ہر بنکر کو احساس ہے کہ اگر آج پاورلوم ہم مکمل طور پر بند نہیں کریں گے تو آگے چل کر دو تین ماہ میں چھوٹے بنکروں کے پاورلوم خود بخود بند ہوجائیں گے بلکہ پاورلوم بِک جائیں گے اور یہ پشتینی پیشہ برباد ہوجائے گا اور کپڑے کی یہ گھریلو صنعت ختم ہوجائے گی اسی لیے اترپردیش
میں بنکروں نے اپنے پاورلوم کو 15 اکتوبر سے بند کیا ہوا ہے اور اب دیگر طبقے کے لوگوں نے بھی حمایت کرنا شروع کردیا ہے اور بنکر تحریک میں شامل ہونے لگے ہیں لیکن کچھ مخصوص بنکر لیڈران یاتو حکومت سے ڈر رہے ہیں یا پھر برسر اقتدار پارٹی میں شمولیت کی راہ ہموار کررہے ہیں اور اگر بنکروں کی تحریک فلاپ ہوئی تو وہی لیڈران اس کے ذمہ دار ہوں گے –

بجلی کے فلیٹ ریٹ کی لڑائی پہلے ہی دو رخی تھی اب تین روخی ہوچکی ہے ایک طرف بنکر نمائندگان بھوکے پیاسے تحریک و ہڑتال کی کامیابی کے لیے دن رات ایک کئیے ہوئے ہیں تو دوسری طرف حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی تیسری طرف بنکروں میں سب نہیں لیکن کچھ ایسے ہیں جو بنکر ہڑتال کو توڑنے توڑوانے پر تلے ہوئے ہیں جبکہ غریب بنکروں کی حالت بگڑ تی جا رہی ہے اب کس سے لڑا جائے حکومت سے یا تحریک کو کچلنے کی کوشش کرنے والوں سے،، اور کس کو سنبھالا جائے کیونکہ وہ لوگ اپنے کاروبار کو چلانے پر تلے ہیں تو غریب بنکروں کی آنکھوں میں خون کے آنسو نظر آتے ہیں،، اور تحریک فلاپ ہونے کا انجام کیا ہوگا اس کے اثرات بھی نظر ارہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ بنکر اب سے اپنے مستقبل کے بارے میں غور کرے کیونکہ آنے والا وقت بہت خراب ہوسکتا ہے جو لوگ آج خود اپنے سماج سے بغاوت پر آمادہ ہیں اور خود اپنی ہی تحریک کو کمزور کررہے ہیں آنے والے وقت میں کون ان کی لڑائی لڑےگا جبکہ آج ساری سیاسی پارٹیاں خاموش ہیں شائد وہ اسی کو 2022 میں مدعا بنانے کی فکر میں ہیں تب تک تو بنکروں کی صنعت پوری طرح دم توڑ دے گی تمام طرح کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے بنکر نمائندگان نے بھی ہڑتال و تحریک کے لائحہ عمل میں کچھ تبدیلی کی ہے مگر بنکر سماج میں جو سرکاری دلال ہیں انہیں یہ طریقہ بھی ہضم نہیں ہورہا ہے اور پورے سماج کو نقصان پہنچانے میں وہ اب بھی لگے ہوئے ہیں جبکہ خود ان کی بھی حالت اتنی ہی خراب ہے جتنی عام مزدور بنکروں کی ہے سب کچھ دیکھنے کے بعد یہی احساس ہوتا ہے اور اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ آخر بنکروں کا انجام کیا ہوگا آج اشیاء خورد ونوش میں زیادہ تر ایسی چیزیں ہیں جو پوری رات جاگ کر محنت کرنے کے بعد اسے ایک کلو حاصل کرنے کی قیمت ادا کرنے بھر بھی مزدوری نہیں ملتی اب اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بنکروں کا اور ان کے بچوں کا مستقبل تباہ ہونے سے کیسے بچ سکتا ہے کاش اب سے بنکروں کو سمجھ اجاتی پورا سماج متحد ہوجاتا تاکہ بنکر تحریک کامیاب ہوجاتی، فلیٹ ریٹ کا مطالبہ پورا ہوجاتا گھریلو صنعت بھی تباہ ہونے سے بچ جاتی اب دیکھنا ہے آگے کیا ہوتا ہے -بنکروں کی ہڑتال کا تقریباً ایک ماہ کا دن پورا ہونے کو ہے مزدور بنکروں کی کمر ٹوٹتی جارہی ہے گھروں کے چولہے میں اب سچ مچ آگ جلنا بند ہونے لگی یعنی غریب بنکروں کی حالت اب انتہائی بدتر ہوچکی ہے واقعی ان کا حال اب ناقابل بیان ہوتا جا رہا ہے اور حکومت کے اندر ابھی تک کوئی لچک پیدا ہوتی نظر نہیں آتی جبکہ بنکر نمائندگان بھی پورا پورا دن بھاگ دوڑ کرتے دیکھے جاتے ہیں ان کے سامنے بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں ایک طرف بنکر ہڑتال کا لائحہ عمل طے کرنا تو دوسری طرف سبھی بنکروں کو اس سے واقف کرانا علاوہ ازیں سماج کو متحد رکھنا اور انتشار سے بچانا بھی بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے –
اب دیکھنا یہ ہے کہ بنکروں کا مطالبہ کب پورا ہوتا ہے چیکنگ کے نام پر بھی بنکروں کے اندر دہشت اور خوف نظر آتا ہے حکومت بنکروں کے مسائل کو اسی طرح نظر انداز کرتی رہی تو بنکروں کی یہ گھریلو صنعت بھی ختم ہو جائے گی جیسے دیگر بہت سے چھوٹی چھوٹی صنعتیں ختم ہوگئیں –
javedbharti508@gmail.com
– – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – –

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: