مضامین

بچے کچے فیض

اداریہ سکاڑ 4/جنوری 2020ء ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا) Cell:9890245367

آسمان سے زمین کی طرف کڑکڑاتی ہوئی بجلی کو مٹھی میں پکڑنے کی کوشش یہ قسمت سے چھوٹ نہیں سکتی۔ پچھلی صدی میں سینئر باغی شاعر فیض احمد فیضؔ کی ایک نظم اس طرح کی بجلی کی طرح تھی۔ باغی کی حیثیت سے زندگی گزارنے والے مختلف حادثات کا جنہوں نے سامنا کیا یہ شاعر خود کی نظم میں اکثر حادثات کا مقابلہ کرتے ہوئے اس شاعر نے اس جھلسی ہوئی نامور نظم ”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ“ ایسا محبوبہ سے کہتے ہوئے یہ سماج کا جو دینا ہے اُسے ادا کرنے والی وہ نامور شخصیت دوسرا کوئی اور شاعر نہیں بلکہ وہ انقلابی اُبلتا ہوا شاعر صرف شاعر نہیں رہتا وہ تو انقلابیوں کے خون بہتا ہوا اپنی رگوں میں محسوس کرنے والا وہ دوست تھا۔ کمیونسٹ اعتدال پسند نظریات والی ایک بڑی پیڑی پچھلے صدی کے درمیان میں گزری۔ اُس میں سے ایک فیض صاحب۔ فیض صاحب کا انتقال ہوا آج 35 برس گزر گئے۔ لیکن اس شاعر کے قصے، واقعات اور کہانیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ بہت اچھے پروفیسر، مدیر، دوسری جنگ عظیم میں کرنل کے عہدہ پر ترقی پانے والے، فوجی آفیسر اور اُس وقت کے کمیونسٹ ملک کے باغی کہلائے جانے والے دس برسوں تک جیل میں کاٹنے والے انقلابی انگریز میڈم سے نکاح کرنے والے، اس لیے مذہبی جنونیوں نے اُن کے خلاف حقارت آمیز رویہ رکھا تھا۔ اس طرح مختلف جہتوں، رنگوں سے گزرنے والے فیض احمد فیض کی زندگی بھری پڑی ہے۔ پاکستان جسے اسلام مخالف سمجھتا تھا اُسے موت کی سزا دینے کے بعد ساڑھے تین دہوں کے بعد ہندوستان میں بھی اُسے ہندومخالف کہا جارہاہے۔ یہ قدرت کا کھیل ہی سمجھنا چاہیے۔ آئی آئی ٹی کانپور کے کچھ طلبہ نے پچھلے مہینے میں یعنی 17دسمبر کو شہریت درستی اور این پی آر کی مخالفت میں سکون سے مورچہ نکالا تھا۔ اس مورچہ میں انہوں نے فیض کی نظم ”ہم دیکھیں گے“ کو اجتماعی طور پر گایا تھا۔ جس میں سے کئی مصرعوں میں اللہ کے بارے میں ہندوتوادی کو کھٹکنے لگا۔ اُس وقت مخالفین نے اعتراض درج کیا۔ جس کے بعد فوری ہی آئی آئی ٹی کے سنچالکوں نے خصوصی سمیتی کا قیام کیا اور ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کرڈالا کہ فیض ہندو مخالف ہیں یا نہیں؟ اس تحقیقات کمیٹی کا موضوع ہے یا نہیں، یا پھر اُن کی نظم میں ہے یا نہیں۔ پھر بھی اس تحقیقاتی موضوع نہ ہونے کے باوجود یہ نظم کو پڑھنے پر کیوں شرارتی لوگوں کا اس میں ہاتھ نہیں تھا؟ اس کی تحقیقات شروع ہوکر صاف اور واضح طریقہ سے اگر کررہی ہے تو درحقیقت کیا ہے یہ۔ یہ تمام لوگوں کو معلوم ہے۔ فیض کی نظم پر ایک مرتبہ اتنا طوفان کھڑا ہواہے اُس نظم میں آخر ہے کیا؟ یہ معلوم کرنے کی ضرورت مخالفین کو محسوس نہیں ہوئی۔ یہ اس طرح جو جوالہ مکھی سیاست میں پیداہوا ہے۔
1979ء کے آس پاس پاکستان کے راشٹرپتی ضیاء الحق کے ان کے کاروبار سے متعلق جو عورتوں پر لادی گئی جو پابندی تھی۔ اس کے خلاف میں فیض نے یہ نظم لکھی تھی ہم دیکھیں گے، جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی، جب ارضِ خدا کے کعبہ سے، سب بُت اُٹھوائے جائیں گے، ہم اہلِ صفا مردودِحرم مسند پر بٹھائے جائیں گے، سب تاج اُچھالے جائیں گے، اس نظم کے مصرعوں میں جو متنازعہ بن رہے ہیں، ان مصرعوں کا صاف معنی و مطلب یہ ہے کہ ایک دن بجلی کڑکے گی اور آنکھیں چکاچوند ہوجائے گی۔ اس کے بعد آغاز ہوگا۔ مخلوق کی حکمرانی کا۔ کٹرپنتھی گھبرائے ہوئے لوگ سامنے آئیں گے۔ ظالم تاج اور تخت ٹوٹ پھوٹ جائیں گے۔ اس نظم میں ذکر کیا گیا خدا،یہ مذہبی کتاب کا نہیں ہے۔ فیض کی شاعری اسلام یا کسی اور مذہب میں کبھی رُکاوٹ ڈالنے والی نہیں ہے۔ ناخوشگوار کمیونسٹ رہنے والا یہ شاعر کا جو تصور ہندو مخالف ٹھہرانے کی یہ کوشش ہے، اُس پر ہنسی آتی ہے۔ اس لیے کہ یہ معاملہ سوچ و فکر رکھنے والوں کی گفت و شنید کا نہیں بلکہ خرافات کا ہے۔ اختلافِ رائے، آزادی ایسے موضوعات پر ان کا کلام لکھا ہواہے۔ جسے لمپین پروٹیلیٹ یا بروزوا کہہ کر کمیونسٹ کہتے ہیں۔ وہ گمراہ کن بنیادوں پر سوکھی سوچ سمجھ بوجھ والے ہیں۔ اپنی شاعری میں یہ ہتھیار کے طورپر استعمال کیے گئے محبت کا راگ الاپا ہے۔ جسے نفرت کا نہیں۔ نقشِ فریادی یہ اُن کا پہلا شعری مجموعہ 1945ء میں شائع ہوا۔ اُس کے دیپاچہ میں انہوں نے کہا ”شعر لکھنا جرم نہ سہی لیکن بے وجہہ شعر لکھنا دانشمندی بھی نہیں۔شاعر کی شخصیت تاریخ سے زیادہ سچائی کے قریب کھڑی ہوتی ہے، ایسا پلوٹو نے کہا تھا۔ یعنی یہ جو جملہ ہے یہ تمام شاعروں کے لیے لاگو نہیں ہوتا ہے۔ لیکن یہ شائستہ فصیح فیض کے لیے یہ بالکلیہ طورپر چسپاں ہوتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: