اہم خبریں

بچے کی فکری قوت کی تشکیل برونر کے نظریہ میں

محمد یاسین جہازی

برونر کا دماغی ترقی کا نظریہ
جیروم برونر(Jerome Bruner) ایک امریکی ماہر نفسیات تھے۔ انھوں نے انسانی دماغی نفسیات کے ساتھ ساتھ تعلیمی نفسیات میں سیکھنے کے نظریہ پر کام کیاہے۔ ان کا سیکھنے کا نظریہ تعلیم بذریعہ ریسرچ (discovery learning) اوراسپائرل نصاب (spiral curriculum) پر مبنی ہے۔
بچوں کی علمی ترقی کے بارے میں ان کی تحقیق نے تین طریقوں کو تجویز کیاہے:
1. فعال نمائندگی(Enactive representation) (کارروائی پر مبنی)
پیدائش سے لے کر 18 ماہ تک کے بچوں کے ذہن میں معلومات حرکت و ایکشن کی شکل میں اسٹور ہوتا ہے۔ بچہ دنیا کو حرکت و عمل سے سیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
2. تصویری نمائندگی (Iconic representation)
18ماہ سے لے کر 6 سال کی عمر تک کے بچے تصویر دیکھ کر معلومات حاصل کرنے کے قابل ہوجاتا ہے ۔
3. علامتی نمائندگی (Symbolic representation)
7 سال سے بچے علامتی زبان جیسے حروف ،علامات وغیرہ پہنچاننے لگتے ہیں۔ یہ طریقہ پچھلے دونوں طریقوں سے زیادہ لچکدار ہوتا ہے۔
اسپائرل نصاب
برونر کا خیال تھا کہ تمام بچےمشکل سے مشکل معلومات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کسی بھی موضوع کو کسی بھی طور پر کسی بھی بچے کو مؤثر طریقے سے پڑھایا جاسکتا ہے۔ برونر کے مطابق بچے کو پہلے آسان معلومات فراہم کیا جائے ، تاکہ بعد میں اس سے زیادہ پیچیدہ معلومات کو سکھانے میں آسانی ہوسکے اور پھر ایک مرحلے پر بچہ خود سے سیکھنے کے قابل ہوجائے۔
برونر کے نزدیک زبان کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ زبان کے ذریعہ ہی مشکل سے مشکل معلومات کو سکھایا جاسکتا ہے۔ الفاظ کا استعمال بچوں کی فکری تعمیر و ترقی کی نمائندگی کرتا ہے۔ برونر کا ماننا ہے کہ بچہ پیدائشی طور پر ذہین واقع ہوتا ہے اور کسی بڑے آدمی کی طرح مشکل مسائل کو حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
ڈسکوری لرننگ
برونرنے تجویز پیش کی ہے کہ طالب علم اساتذہ کے سہارے کے بجائے از خود معلومات کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح رٹ کر سیکھنے کے بجائے خود سے سیکھے۔ اساتذہ کو صرف ایک سہولیات فراہم کرنے اور راستہ بتانے کا کردار ادا کرنا چاہیے، جس کی روشنی میں طلبہ خود سے سیکھ سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: