مضامین

بڑی پر پیچ ڈگر ہے اس سیاست کی

زین العابدین ندوی دارالعلوم امام ربانیؒ ، نیرل ۔ مہاراشٹر 9161229141

اس موضوع کو زیر تحریر لانے کا کوئی خاص ارادہ نہیں تھا ، کیونکہ بدلتے رنگ پسند نہیں آتے ، مہاراشٹر کی حالیہ سیاست کا عجب ہی تماشا ہوا ، لیکن ہمارے ایک عزیز کے اصرار  نے قلم اٹھا نے پر مجبور کیا ، تو لیجئے سنئے وہ عجب داستاں جس نے عقلوں کو حیران اور ہندی عوام کو پریشان کر رکھا تھا ، تو چل میں آتا ہوں کی کہانی دیکھنے کو ملی ، ایک طرف جہاں راتوں رات بر سر اقتدار پارٹی بھاجپا نے اپنے سورسز اور ما ل ومنصب کا نا جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حکومت کا اعلان کیا ،گورنر کو غیر اصولی اور غیر آئینی کردار ادا کرنے پر مجبور کیا ، جو نہ صرف یہ کہ ایک دھاندلی تھی بلکہ کھلی ڈکیتی تھی جس نے ایک طرف تو یہ ثابت کیا کہ اس ملک میں قانون نہیں بلکہ اقتدار اور مال ومنصب کی بنیاد پر فیصلےصادر ہوا کرتے ہیں ، اس ملک کا کوئی سیاسی فرد قابل اعتبار نہیں ، بلکہ دل بدلی ان کی اصل پہچان ہے ،اجیت پوار اور ان جیسے نا جانے کتنے سیاسی لیڈران اس کی زندہ مثالیں ہیں ،  اس کی پوری شکل ایک بار سامنے آچکی تھی اور مہاراشٹر میں جمہوریت کو ننگا کیا جا چکا تھا ، مگر اللہ رحم کرے یہاں کی عدلیہ اور اصحاب عدلیہ پر جن کا بھی اب اس ملک میں کوئی اعتبار باقی نہیں رہا ، بہر صورت نہ جانے کیسے اس نے بھاجپا کے خلاف فیصلہ سنا دیا اور بھاجپا کو منہ کی کھانی پڑی اور مایوسی ان کے ہاتھ آئی ،  اور ان کی پوری کوششوں پر پانی پھر گیا اور ان کی گندی سیاست کا قصہ یہیں تمام کر دیا گیا ، عدالت کے اس فیصلہ سے ہمیں خوشی بھی ہے اور غمی بھی ، خوشی تو اس لئے کہ ایسے موقع پر جبکہ مال ومنصب اور اقتدار کے نشہ میں جمہوریت کا خون کیا جا رہا ہو ، اور سر عام سیکولزم کا جنازہ نکالا جا رہا ہو ،عدالت نے ان کا سر کچلنے کا کام کیا جس نے انہیں ناکام کر دیا اور ان کا خواب شر مندہ تعبیر نہ ہو سکا ، اور ساری خوا ہشات دھری کی دھری رہ گئیں ،اس لئے عدالت کا یہ فیصلہ قابل مبارکباد ہے ، لیکن غم و رنج اس بات کا ہے کہ عدالت نے ایک طرف تو مناسب اور جائز فیصلہ لیا لیکن دوسری طرف قضیہ بابری میں تمام شواہد ودلائل کے باوجود یکطرفہ فیصلہ کا اعلان کیا ، اس لئے اس  کے حالیہ فیصلہ کی صحت کی بنیا د پر بابری کے تعلق کئے گئے فیصلہ کو بھلایا نہیں جا سکتا  ۔

ایسے موقع پر عدالت کے ددونوں فیصلوں کا تجزیہ ضروری معلوم ہوتا ہے ، کہ آخر وہی عدالت ایک موقع پر بہت ہی مناسب اور درست فیصلہ کرتی ہے اور دوسری جانب برسوں کی سماعت اور شواہدودلائل کے باوجود یک رخی فیصلہ کرتی ہے آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟میری ناقص سمجھ میں جو بات آتی ہے وہ یہ کہ یہاں فیصلہ اپنوںکا تھا جس میں ہر صورت میں کامیابی اپنوں کی ہی یقینی ہے اور اس طرح کی فیصلہ سے داد بھی حاصل  ہو گی اور عدالت کا اعتماد بحال کرنا ممکن ہو گا ، اور ایک ایسا موقع میسر ہوگا جس میں یہ کہنا آسان ہوگا کہ عدالت کے فیصلے مبنی بر حقائق ہو اکرتے ہیں ، لیکن قضیہ بابری کے سلسلہ میں اگر فیصلہ حقائق کی بنیاد پر کیا گیا ہوتا تو ہندوتوا ک شکست فاش ہوتی  ، گر چہ سیکولرزم کا سر بلند ہوتا ، قضیہ بابری میں اپنی شکست کا خطرہ تھا اور یہاں مہاراشٹر الیکشن میں دونوں صورت میں اپنی ہی کامیابی  کا یقین تھا ، یہ ہے اس انصاف کی وہ حقیقت جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا  ۔

اب جبکہ عدالت کا فیصلہ آچکا ہے اور ادے ٹھاکرے کا وزیر اعلی ہونا تقریبا طے ہو چکا ہے ، اور ایک بار پھر ایک فوٹو گرافر وزارت اعلی کی کرسی پر براجمان ہونے والا ہے ، حلف برداری کی تاریخ بھی یکم دسمبر کو متعین کی جا چکی ہے ، کہنے کو این سی پی ، کانگریس  اور شیو سینا کے حلقہ میں خوشیوں کا بسیرا ہے ، اور بھاجپا میں نراشا اور مایوسی کا غلبہ ہے ، یہ تو وہ اثرات جہاں تک عوام کی رسائی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کہیں بھی نراشا نہیں ہے بلکہ سب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھنے والے لوگ ہیں  ۔

Tags
مزید دکھائیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close