مضامین
Trending

بھارتیوں‌کو غدار وطن کہنے کے پس پردہ سازش

محمد یاسین جہازی 9891737350

جب سے آر ایس ایس کی پیدا کردہ بی جے پی سرکار آئی ہے، تبھی سے بھارت کے مسلمان اور دیگر اقلیتی برادران وطن کو سرکار اور آر ایس ایس کے کارکنان تمام معاملوں میں ’غدار وطن‘ کہنے سے نہیں چونکتے۔ اگر آپ سرکار کے نظریہ اور کسی طریق عمل پر سوال اٹھاتے ہیں، یا دستور ہند کے تحت ملنے والے اپنے کسی حق کا مطالبہ کرتے ہیں،اور نہ ملنے پر جمہوری طریقے پر احتجاج کرتے ہیں، تو سرکاری لوگوں کا یہی جواب ہوتا ہے کہ ”دیش کے غداروں کو…… گولی مارو…… کو۔ یعنی بھارت کے آئین کی پاسداری اور عمل آوری پر بھی یہ لوگ آپ کو غدار کہتے ہیں، آخر اس کا راز کیا ہے، یہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔
یہ ایک ایسا سوال ہے کہ اب اس کا جواب دینا کوئی مشکل نہیں ہے، یہاں ذیل کی سطروں میں چند حوالے پیش کیے جارہے ہیں، جن سے ان جملوں کے پیچھے سرکاری کارندوں کی ذہنیت اور حقیقت سامنے آجائے گی۔
مولانا عبد الحمید نعمانی صاحب لکھتے ہیں کہ
ہندوتو کے حلقے کے بیشتر افراد ملک کے آئین اور ترنگا جھنڈا کو دل سے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ ملک کے موجودہ آئین اور ترنگے جھنڈے کی موجودگی میں واحد ہندوتو کی سنسکرتی کا نعرہ و فلسفہ بامعنی نہیں رہ جاتا ہے۔“ (ہندوتو اور راشٹر واد، ص/21)
گرو گول ولکر بھارت کے آئین پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
”ہمارا آئین ایک ضخیم اور بھدی دستاویز ہے، جس میں مغربی ممالک کے مختلف دستوروں سے مختلف قسم کے مواد کو ایک دوسرے متضاد شکل میں گھسایا گیا ہے۔ اس میٰں ایسا کچھ نہیں ہے، جو ہمارا اپنا کہا جاسکے۔ کیا اس کے رہنما اصولوں میں حوالے کے لیے بھی کوئی ایک نقل ہے کہ ہمارا قومی مشن کیا ہے؟ زندگی میں ہمارا بنیادی اصل پیغام کیا ہے؟ بالکل نہیں۔“ (Bunch of Thoughts، ص/238۔ بحوالہ ہندوتو اور رشٹرواد، ص/22)
یہاں اور ایک طویل اقتباس ملاحظہ کریں
”آزادی سے پہلے جب قانون ساز اسمبلی نے ترنگے جھنڈے کو اپنا قومی جھنڈا قرار دیا تو سنگھ کے انگریزی ترجمان آرگنائزر نے (14اگست 1947) کو لکھا: ’جو لوگ قسمت سے اقتدار میں آگئے ہیں، وہ ہمارے ہاتھوں میں ترنگا دے سکتے ہیں، لیکن ہندو اسے قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کا احترام کریں گے۔ لفظ تین اپنے آپ میں ایک برا تاثر ہے اور جس جھنڈے میں تین رنگ ہوں گے، وہ یقینی طور سے بہت برے نفسیاتی اثرات ڈالے گا، اور ملک کے لیے بہت مضر و نقصان دہ ثابت ہوگا‘۔
اس سے ایک سال پہلے گروگول ولکر نے 14جولائی 1946کو آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر ناگپور میں اعلیٰ سطحی کیڈرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ’بھگوا جھنڈا پوری طرح سنسکرتی کی نمائندگی کرتا ہے، یہ بھگوان کا مجسم شکل ہے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ آخر میں پوری قوم اس بھگوا جھنڈے کے سامنے سر نگوں ہوگی۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: گروجی سمرگرہ درشن)۔“ (ہندوتو اور ہندو راشٹر، ص/21)
آر ایس ایس کے بانیوں کے نظریات میں اٹلی اور جرمنی کے فاشزم کے زہریلے اثرات پائے جاتے ہیں، ان میں سے ایک زہریلی خصوصیت یہ بھی ہے کہ لوگوں کو اپنا ہمنوا بنانے کے لیے جھوٹ فریب کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کو دشمن بناکر پیش کیا جائے، تاکہ اکثریت کی تائید و تقویت حاصل رہے۔ حالیہ CAAکا قانون اس نظریہ کا عملی مظہر ہے، کیوں کہ NRCمیں اپنی شہریت ثابت کرنے میں سبھی بھارتیوں کے حق شہریت پر سوالیہ نشان لگے گا اور ہندو مسلم سبھی کو ثابت کرنا پڑے گا؛ لیکن پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش جیسے مسلم ممالک کا نام اور چھ کمیونٹی میں صرف مسلمان کے نام کا استثنی اسی خاصیت کا اثر ہے۔ اب جب کہ بھارتیوں نے اس سازش کو سمجھ لیا ہے اور ہندو مسلم فسادات نہیں ہورہے ہیں، تو سرکاری کارندے بوکھلاہٹ کے شکار ہوگئے ہیں اور ایک خاص کمیونٹی کے لوگوں کو ٹارگیٹ کرکے ’غدار وطن‘ کہہ کر معاملہ کو فرقہ وارانہ بنانا چاہتے ہیں؛ لیکن ایسے نفرت کے پجاری کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ جس بھارتی سنسکرتی میں اپنی سنسکرتی کی بات کرتے ہیں، اس سنسکرتی میں جھوٹ، نفرت اور مذہبی جھگڑے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہاں کل بھی گنگا جمنی تہذیب کی چھاپ تھی اور آج بھی ہے اور کل بھی برقرار رہے گی؛ کیوں کہ یہ بھارت کی قدرتی خاصیت ہے اور قدرت سے بغاوت تباہی کا دوسرا عنوان ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: