اہم خبریں

بھارتیوں کے بیچ نفرت انگیزی ہمیں منظور نہیں :حکیم الدین قاسمی

مذہب کی بنیاد پر فرق کرنے والی دفعہ 341 کے خلاف جنتر منتر پر دھرنا
مسلمان پسماندگی اور امتیاز دونوں کے شکار ہیں: مولانا حکیم الدین قاسمی
نئی دہلی 4؍اگست

جنتر منتر دہلی پر آج دفعہ 341 کے خلاف مسلمان اور کرسچن دلتوں کا مشترکہ احتجاج منعقدہوا،جس کی قیادت نیشنل کائونسل آف دلت کرسچن، جمعیۃ علماء ہند ، کیتھولک بشپ کانفرنس آف انڈیا ، نیشنل کائونسل آف چرچس آف انڈیا نے کی ۔
شیڈول کاسٹ آرڈر 1950 کے پیرا 3 کے تحت مذہب کی بنیاد پر عیسائیوں اور مسلمانوں کو درج فہرست ذات کے حقوق اور مراعات محروم کردیا گیا ہے۔ یہ حکم 10 اگست 1950 کو صدر جمہوریہ ہند نے جاری کیا تھا ۔ یہ سیکولر ملک میں ایک سنگین ناانصافی اور مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک ہے اور ہندوستان کے آئین کے بنیادی اصولوں سے متصادم بھی ہے۔ اگرچہ، اس آرڈر کے پیرا 3 میں بالترتیب 1956 اور 1990 میں ترمیم کی گئی تاکہ درج فہرست ذات کے اندر سکھوں اور بدھ مت کے ماننے والوں کو ایس سی کے حقوق فراہم کیے جاسکیں، لیکن پھر بھی عیسائی اور مسلمان ابھی بھی اس سے باہر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ درج فہرست ذات کے عیسائی اور مسلمان 10 اگست کو ‘یوم سیاہ’ یا ‘قومی یوم احتجاج’ کے طور پر مناتے ہیں۔ دلت عیسائیوں اور دلت مسلمانوں کے ساتھ 72 سال سے جاری اس امتیازی سلوک اور ناانصافی کے خلاف احتجاج کے لیے ملک بھر میں دھرنے، ریلیاں اور ایجی ٹیشنز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ 10 اگست 2022 کے ملک گیر احتجاج کے پیش خیمہ کے طور پر، 4 اگست 2022 کو دہلی میں ایک دھرنا منعقد کیا گیا ۔ اس موقع پر مطالبہ کیا گیا کہ اس تفریق کو قانون سے ختم کیا جائے ، نیز جسٹس رنگا ناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کو نافذ کیاجائے ۔
اس دھرنے میں این سی ڈی سی ، این سی سی آئی اورسی بی سی آئی اور جمعیۃ علماء ہند کے قائدین نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے دلت عیسائی اور دلت مسلم کارکنان اور مسلم برادریوں کے رہنماؤں نے دلت عیسائیوں اور دلت مسلمانوں کی جدوجہد سے یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے دھرنے میں شرکت کی۔
اس موقع پر اپنے خصوصی خطاب میں جمعیۃ علماء ہندکے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے بتایا کہ اس ناانصافی کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کے سابق صدر فدائے ملت مولانا اسعد مدنی ؒ اور موجودہ صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے ہر موقع پر احتجاج درج کیاہے۔ یہ جمعیۃ علماء ہند کی تجاویز میں یہ بات بنیادی طور سے شامل ہے کہ آئین کی دفعہ 341 میں ترمیم کرکے اس میں مسلم اور عیسائی دلتوں کو بھی شامل کیا جائے ۔ کسی بھی قانون میں مذہب کی بنیاد پر کی گئی تفریق آئین کی بنیادی دفعات کے خلاف ہے ۔حیرت کی بات ہے کہ گزشتہ ۷۲ سالوں سے یہ تفریق برتی جارہی ہے ۔ آج جب کہ ملک اپنی آزادی کا ۷۵؍واں سال ( امرت مہوتسو) منا رہا ہے ۔ اس سے زیادہ کوئی مناسب وقت نہیں ہوسکتا ، جب اس مذہبی تفریق کو ختم کردیا جائے ۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں صدیوں سے چلا آرہا ، برادری ، ذات پات کا نظام بلاتفریق ہر مذہب کے ماننے والوں میں رائج ہے۔ اسے نہ ختم ہونے کی معاشی پسماند گی ایک بنیادی وجہ ہے ۔ اس لیے یہ سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذہب کے عینک سے چیزوں کو دیکھنے کے بجائے ، معاشی پسماندگی کو بنیاد بنائے ۔ کوئی دلت اگر مسلمان ہو جائے یا عیسائی ہو ، یا دوبارہ ہندو ہو جائے تو اس سے اس کی معاشی زندگی میں کیا فرق پڑتا ہے ؟ اس لیے اس طرح کی بنیاد نہ صرف حیرت انگیز ہے بلکہ لوگوں کی فکری ترقی میں بھی رکاوٹ ہے ۔

دھرنے سے خطاب کرنے والیدوسرے سرکردہ لیڈران میں شری عبدالخالق (برپیٹا آسام)، ڈاکٹر تھول ایم پی ، وی جے جارج، (این سی ڈی سی کے صدر)، ڈاکٹر۔ ای ڈی چارلس (جنرل سکریٹری (این سی ڈی سی)، ریٹائرڈ ریورنڈ ایم اے ڈینیئل (بشپ، میتھوڈسٹ چرچ تلنگانہ)،فادر وجے کمار نائک سکریٹری سی بی سی سی آئی فس برائے ایس سی /بی سی ،نکولس برلا سکریٹری آفس برائے ٹرائبل افیئر سی بی سی آئی، مسٹر پردیپ بنسریور (سیکرٹری، دلت اور آدیواسی کنسرن این سی سی آئی)، فادر اے ایکس جے بوسکو ایس جے، (مشیر این سی ڈی سی)، مسز میگلن جیری (نائب صدر این سی ڈی سی)، مسٹر ایس ایس واگمارے اور ڈاکٹر مائیکل مارٹن (این سی ڈی سی کے نائب صدر) اور مسٹر وجے کمار موٹھکوری ( خازن این سی ڈی)، ستار جی دلت مسلم فورم نے دھرنے سے خطاب کیا۔ ان کے علاوہ جمعیۃ علماء ہند سے مولانا غیور احمد قاسمی سیئنر آرگنائزر جمعیۃعلماء ہند، مولانا عظیم اللہ صدیقی قاسمی، مولانا اسلام الدین قاسمی ناظم اعلی جمعیۃ علماء صوبہ دہلی ، مولانا دائود امینی ، مولانا قاری عبدالسمیع،مولانا قاسم نوری صدر جمعیۃ علماء ضلع نئی دہلی، مولانا زاہد قاسمی مشرقی دہلی.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: