اسلامیات

بھارتی سنی مسلمانوں میں شیعیت کے اثرات

محمد یاسین جہازی

بھارت میں اکثر مسلم حکمراں اہل سنت والجماعۃ تھے؛ البتہ کچھ ریاستوں میں شیعہ کی حکمرانی قائم تھی۔ مغلیہ حکومتوں کے تقریبا سبھی بادشاہ بھی اہل سنت والجماعۃ تھے؛ لیکن جب ایران کے شیعی صفوی حکومت کا شاہ دوم طہما سپ اول (1524- 1576)نے ہمایوں بادشاہ کو پناہ دی اور اسے سوری بادشاہ کو شکست دینے اور اس کی حکومت کو دوبارہ بحال کرنے میں بھرپور تعاون کیا، تبھی سے شاہانِ مغلیہ کے ایران کے ساتھ اچھے مراسم قائم ہوئے اور اس کی وجہ سے شیعی عناصر حکومت کے کاموں میں دخیل ہوئے۔بطور خاص اورنگ زیب عالم گیر کے انتقال کے بعد جب مغلیہ حکومت کمزور پڑنے لگی تو ان شیعی عناصر نے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی اور بادشاہ ان کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے رہے۔لال قلعہ میں تعزیہ داری اور شہزادوں کا اس میں پوری دل چسپی سے حصہ لینا یہ سب کچھ شیعی اثرات کا ثمرہ تھا۔
سلطنتِ مغلیہ میں ان کے گہرے اثرات کی وجہ سے ان کے مذہبی عقائد کی چھاپ پورے ہندستان پر پڑ گئی تھی۔ پورے ہندستان میں شیعی عقائد اور ان کے مشرکانہ رسوم اس طرح غیر شیعہ مسلمانوں کے دل و دماغ میں رچ بس گئے تھے کہ اگر ان کو صحیح طور پر کلمہ شہادت بھی ادا کرنا نہ آتا ہو؛ مگر وہ تعزیہ داری اور اس کے ساتھ عقیدت مندی کا والہانہ جذبہ سینوں میں موج زن رکھتے تھے اور اس کو اپنے مسلمان ہونے کی سند سمجھتے تھے۔ سنی مسلمانوں کی مسجدوں میں تعزیے رکھے رہتے تھے اور ان کے محلوں میں چبوترے بنے ہوتے۔ محرم کے مہینے میں سنی مسلمان بڑی عقیدت سے تعزیہ اٹھاتے۔ حیرت ناک بات یہ تھی کہ شیعہ اتنے بڑے ملک میں سنیوں کے مقابل میں مٹھی بھر تھے؛ لیکن کروڑوں اہل السنۃوالجماعۃ مسلمانوں کے دلوں میں شیعوں نے اپنے سارے عقائد و مراسم، جذبات و خیالات کی چھاپ ڈال دی تھی اور پورے ہندستان کو شیعیت کے رنگ میں رنگ دیا تھا۔(ماہنامہ دارالعلوم دیوبند،دارالعلوم دیوبند اور رد شیعیت، شمارہ۱۲، جلد۹۷،دسمبر۲۰۱۳ء تھوڑی ترمیم و اضافہ کے ساتھ)
مشاہدات اور واقعات اس اقتباس کی صداقت پر گواہ ہیں کہ آج بھارت کے اکثر سنی مسلمانوں کے معاشرے میں محرم آتے ہی شیعوں کے یہ تہوار بھی جنون کی شکل اختیار کرلیتے ہیں، حالاں کہ ان میں سے اکثر بالخصوص دیہاتی سماج کے افراد اس چیز سے بھی واقف نہیں ہیں کہ شیعہ کس چڑیا کا نام ہے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ جن لوگوں نے سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ بلاکر دھوکہ دیا اور نواسہ رسول ﷺ کے لیے قتل و غارت گیری میں شرکت کی۔ پھر شہادت حسین کی خوشی میں ڈھول تاشوں کی تان پر فتح کے فخرو غرور کے پھریرے اڑائے اور جشن مناتے ہوئے خود بھی ناچے اور اپنی عورتوں کو بھی نچایا اور نچا رہے ہیں، ایسے لوگ ہرگز ہرگز محب حسین نہیں ہیں، یہ قاتلان حسین ہیں، جو اپنی شرمندگی اور ذلت کو چھپانے کے لیے نسل در نسل ناٹک رچ رہے ہیں۔
اس لیے۔۔۔ اس لیے سنی مسلمانوں سے دردمندانہ گذارش ہے کہ یہ جس فرقہ و مذہب کا جشن یا ماتم یا پھر جشن ماتم ہے، انھیں ہی منانے دیا جائے۔ماضی کی ان کی حرکتوں کا بوجھ اپنے کاندھے پر محسوس نہ کریں اور ایک محترم مہینے میں غیر اسلامی خرافات کا شکار نہ ہوں؛ بلکہ اس کی نویں اور دسویں تاریخ کو روزہ رکھ کر صبر حسینی کا عملی پیکر پیش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی مرضیات پر چلائے ، آمین۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: