مضامین

بھارتی مسلمان برادران وطن کے لئے نفع بخش بنیں

ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی خادم تدریس جامعہ نعمانیہ وی کوٹہ، آندھرا پردیش

اس دنیائے دوں میں ہر ایسی چیز جو نفع بخش اور نفع آور نہیں ہے اہل دنیا اس کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ اس کے نام و نشان تک مٹا دیتے ہیں ۔
اور یہ عین فطرت و رسم دنیا بھی ہے کیونکہ جو چیز نفع نہ دیتی ہو اس کو سجا کر رکھنا عقلمندی کی بات نہیں ہے، اس کی حفاظت کرنا دانشمندی نہیں ہے۔
اس کے برعکس جو چیز نفع بخش ہو، لوگوں کے لئے فائدہ مند ہو، جس سے اہل عالم استفادہ کرتے ہوں ، ایسی چیزوں کی ہرطرح سےحفاظت کی جاتی ہے ،حفاظت ہی نہیں بلکہ آنکھوں میں بسا کر دل کے نہاں خانوں میں محفوظ کی جاتی ہے، اور یہ طریقہ صرف سامان و اشیاء کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ نفع بخش انسانوں کے ساتھ بھی یہی طریقہ اپنایا جاتا ہے۔
ہر ایسا فرد جس کی ذات سے باشندگانِ عالم نفع اٹھاتی ہو، جس کی ذات لوگوں کے لیے مشعل کا کام دیتی ہو، جس کی ذات لوگوں کے لئے ضرورت ہو، جو اپنی ذات سے سکان عالم کو فائدہ پہنچاتی ہو، ایسا فرد فرید کو حضرت انسان عزت کی نگاہ دیکھتا ہے، پلکوں پہ بیٹھاتا ہے، اور اس کی ہر طرح سے حفاظت کرتا ہے، بلکہ ایسا شخص اہل عالم کے نزدیک گوہر نایاب سے بھی زیادہ قیمتی اور بیش بہا ہوتا ہے۔
ایسا فرد جو یکتائے زمن ہو اس کو ہر ایک اپنے دل میں جگہ دیتا ہے، اس سے اپنے آپ کو قریب کرتا ہے اور اس کی ذات سے جہاں تک ممکن ہوتا ہے فائدہ اٹھاتا اور اس سے استفادہ کرتا ہے۔
ایسا در ثمین کو کوئی اپنے سے جدا نہیں کرتا، اپنے سے الگ نہیں کرتا، کبھی اس کو تنہا نہیں چھوڑتا، اور وہ بھی کبھی اپنے آپ کو تنہا محسوس نہیں کرتا ہے۔
آج ہم مسلمانان ہند اپنے آپ کو اپنے ہی ملک ہندوستان میں تنہا محسوس کر رہے ہیں، ہم میں سے ہر فرد یہی شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ اب ہمارا ملک پہلے جیسا نہیں رہا، اب ہم اپنے پڑوسی بھائیوں کی نگاہ میں ایک کانٹا بن چکے ہیں، وہ ہمیں اس ملک میں اسلامی تشخصات کے ساتھ دیکھنا پسند نہیں کرتے ہیں، وہ ہمیں اپنے میں ضم کرنے کی مکمل کوشش میں ہیں، ہمارے چین و سکون سلب کرلیا ہے ہماری زندگی اجیرن بن گئی ہے۔
ایسی صورت میں آج ہم بھارتی مسلمان ذرا اپنے وجود کے بارے میں سوچیں کہ ایا اس وقت ہم اپنے ملک میں لوگوں کے لئے نفع بخش ہیں یا نہیں، ہم لوگوں کی ضرورت ہیں یا نہیں، ہم اپنی ذات سے لوگوں کو نفع پہنچا رہے ہیں یا نہیں۔
اگر آج ہم اپنی ذات سے اپنے ملک کے لوگوں کو نفع پہنچاتے، ہم ان کی ضرورت ہوتے، تو آج بھی ہم ان کے دلوں پر حکومت کرتے، وہ ہمیں اپنے سروں پر بٹھاتے، اور وہ ہمارے مخالف نہیں بلکہ محافظ ہوتے، ہم میں سے ہر ایک اس سے واقف ہے کہ ابتداء اسلام میں مکہ مکرمہ میں جو فرشتہ صفت انسان حلقہ بگوش اسلام ہوتے ان پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑا جاتا ، انہیں طرح طرح سے تکلیفیں اور اذیتیں دی جاتیں ، انہیں آگ کے انگاروں پر لٹکایا جاتا اور تپتے ہوئے پتھروں پر گھسیٹا جاتا ، یہاں تک کہ ان کو اپنے دیار سے مجبوراً ہجرت کرنا پڑا، لیکن انہی میں سے امیرالمؤمنین سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی تھے جب آپ ہجرت حبشہ کے ارادہ سے مکہ مکرمہ سے رخت سفر باندھا تو وہی دشمن آپ کے سامنے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ جیسے شخص کو نکالا نہیں جاسکتا ہے آپ تو ہمارے لئے سر کے تاج ہیں، تاریخ میں یہ واقعہ محفوظ ہے، جب آپ رضی اللہ عنہ "برک غماد” پہنچے تو "ابن دغنہ” جو قوم قارہ کا سردار تھا اس نے پوچھا اے ابو بکر کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ آپ نے کہا:
*اخرجنى قومى فاريد ان اسيح في الارض واعبد ربى*
مجھے میری قوم (قریش) نے نکال دیا ہے میں چاہتا ہوں کہ میں زمین میں سیر و سیاحت کروں اور اپنے رب کی عبادت کروں۔
ابن دغنہ نے کہا:
*فان مثلك يا ابابكر! لا يخرج ولا يخرج، انك تكسب المعدوم، وتصل الرحم، وتحمل الكل، وتقرى الضيف، وتعين على نوائب الحق*
"اے ابو بکر! تجھ جیسے لوگ نہ از خود نکلتے ہیں اور نہ نکالے جاتے ہیں، بلاشبہ تم مفلسوں کے لئے کماتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہو، مہمان نوازی کرتے ہو، اور حق پر قائم رہنے کی وجہ سے کسی پر آنے والی مصیبتوں میں اس کی مدد کرتے ہو”
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ وہیں سے واپس مکہ مکرمہ تشریف لائے، اور ابن دغنہ شام کے وقت قریش کے سرداروں کے پاس گیا اور کہا:
*ان ابابكر لا يخرج مثله ولا يخرج،اتخرجون رجلا يكسب المعدوم، ويصل الرحم، ويحمل الكل ويقرى الضيف، ويعين على نوائب الحق*
"بے شک ابو بکر جیسا (عمدہ) آدمی نہ خود نکلتا ہے اور نہ نکالا جاتا ہے، کیا تم ایسے شخص کو نکالتے ہو جو مفلسوں کے لئے کماتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے، دوسروں کا بوجھ اٹھاتا ہے، مہمان نوازی کرتا ہے اور حق پر قائم رہنے کی وجہ سے کسی پر آنے والی مصیبتوں میں اس کی مدد کرنے والا ہے ”
(سیرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ:51)
یہ واقعہ اس دور کا ہے جب کفار مکہ نے مسلمانوں کی زندگی کو دوبھر کردیا تھا، وہ دور پرآشوب اور پر خطر تھا، اس دور میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کفاروں کے سردار کہتا ہے کہ آپ کی شخصیت تو سراپا خیر ہے آپ جیسی عظیم المرتبت شخصیت کو کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
اگر موجودہ دور میں ہم مسلمانان ہند ان تمام خوبیوں سے آراستہ ہوجائیں، جن صفتوں سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ متصف تھے، تو کیا آج ہمارے برادران وطن ہمارے ساتھ وہی معاملہ نہیں کرے گا جو کل کفار کے سردار نے خلیفہ اول کے ساتھ کیا تھا، یقیناً ہمارے ساتھ بھی وہی معاملہ برتا جائے گا۔
اللہ تعالی ہم مسلمانوں کو لوگوں کے لئے نفع بخش بنائے،اور ہمیں بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: