مضامین

بھارت میں‌ہر جگہ دارالاسلام قائم کرنا چاہیے

مولانا سیّد سلیمان ندوی نور اللہ مرقدہ

آخر میں ایک چیز کی طرف مجھ کو اور مسلمانوں کو متوجہ کرنا ہے، اور وہ دارالاسلام ہے۔ مدّت سے یعنی1908ء سے جب میں ندوۃ العلماکے صیغہئ اشاعت اسلام کا نائب ناظم تھا، یہ خواہش میرے دل میں ہے کہ نومسلموں کے قیام و تعلیم و تربیت کے لیے کوئی خاص جگہ بنائی جائے، جس کا نام ”دارالاسلام ہو“ جس طرح یتیم خانے آپ نے قائم کیے ہیں، نومسلم خانے بھی آپ قائم کیجیے، عہد حکومت مغلیہ میں ”داروغہئ جدید الاسلام“ کے نام سے ایک عہدہ تھا، نومسلموں کی غور و پرداخت وغیرہ اس کا فرض تھا، اس کو بہت سی سرکاری اعانتیں ملتی تھیں، آج کل جو لوگ اسلام قبول کرتے ہیں، ان کی بہت بُری حالت ہوتی ہے، اسلام کے بعد سب سے پہلی تعلیم جو ان کو دی جاتی ہے، وہ گداگری کی ہے۔ کیا یہ اسلام کے شایانِ شان ہے؟ زکوٰۃ کے مصارف میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کا ایک حصہ رکھا ہے، اور اس مدسے باقاعدہ اس کے لیے مصارف ادا ہوسکتے ہیں، پھر بتدریج یہ بھی ضروری ہے کہ ملک کے مختلف خاموش اطراف میں اس قسم کے متعدد دارالاسلام قائم ہوں، جہاں ایک سے دوسری جگہ نو مسلم حسب حال منتقل ہوسکیں، اور وہاں وہ کچھ اسلامی تعلیم اور کوئی حرفت سیکھیں، یا مسلمان زمیندار ان کو کاشتکاری کے کاموں میں لگائیں۔ غور کیجیے کہ اس وقت چھوٹی چھوٹی صنعت و حرفت کے تمام کام دیسی نو عیسائیوں کے ہاتھوں میں ہیں، علاقہئ ترہت کے راج میں جس قدر دیسی عیسائی ہیں وہ بڑھئی اور لوہار کے کام سے بخوبی اپنی پرورش کررہے ہیں، پونہ، لاہور لکھنؤ وغیرہ بڑے شہروں میں جلد سازی، چھپائی، اور اسٹیشنری کے متفرق کام ان کو سکھائے جاتے ہیں، کیا آپ ایسا نہیں کرسکتے۔
(مولانا سیّد سلیمان ندوی نور اللہ مرقدہ،خطبہ َصدارت ,اجلاس ہفتم ، جمعیت علمائے ہند ،منعقدہ ، 11/ تا14/مارچ 1926ء مطابق25/ تا28/شعبان1344ھ، بمقام کلکتہ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: