مضامین

بھارت کا صدارتی انتخاب

محمد یاسین جہازی


محمد یاسین جہازی
9891737350
دستور کے آرٹیکل 52 کے مطابق ایک صدر جمہوریہ ہونا ضروری ہے.
صدارتی انتخاب عام انتخابات کے برعکس Single Vote Transfer کے ذریعہ کیا جاتا ہے جس کا پروسیس درج ذیل ہے :
1. اس میں صرف الیکشن جیت کر ایم پی اور ایم ایل اے بنے ہوئے افراد ہی ووٹ ڈال سکتے ہیں.
2. صدر جمہوریہ کے ذریعہ منتخب ایم پی اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لے سکتے.
3. 1971 کی مردم شماری کے مطابق ایم پی اور ایم ایل اے کے ووٹوں کی قدر طے کی جاتی ہے.
4. ریاست کی مردم شماری کی تعداد کو ایم پی وایم ایل اے کی تعداد سے تقسیم کیا جاتا ہے.
5. پھر حاصل شدہ نتیجہ کو ایک ہزار سے دوبارہ تقسیم کیا جاتا ہے.
مثلا ایک ریاست A میں 100 مردم شماری ہے اور 5 ایم ایل اے ہے تو اس 100 کو 5 سے تقسیم کریں گے. 100÷5= 20.
اس حاصل شدہ 20 کو ایک ہزار 1000سے تقسیم کریں گے.
20÷1000=0.02
یعنی ایک ایم ایل اے کے ووٹ کی قدر 0.02 ہوگی.
6. لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین ایم پی کے ووٹوں کی قدر ایم ایل اے کی ووٹوں کی قدر کے برابر ہونی چاہیے. اور اسے اس طرح نکالا جاتا ہے کہ سبھی ریاستوں کے منتخب ایم ایل اے کے ووٹوں کی قدر کو جوڑا جاتا ہے.
جیسے مثال سابق میں ایک ایم ایل اے کی قدر تھی 0.02 تو سبھی 5 ایم ایل اے کی مجموعی قدرہوگی0. 1
پھر اس مجموعی قدر کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے منتخب ممبران کی کل تعداد (نامزد اراکین کو چھوڑ کر) سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ مان لیجیے کہ ایم پی کی مجموعی تعداد ہے 3. تو ایم ایل اے کی مجموعی قدر1.0 کو 3 سے تقسیم کریں گے. 1.0÷3=0.33. اس طرح حاصل کردہ ا سکور 0.33 ہر ایم پی کے ووٹ کی قدر ہوگی.
7. لوک سبھا اور ودھان سبھا انتخابات کے برعکس، صدارتی انتخاب میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا فاتح نہیں ہوتا۔ بلکہ صدارتی انتخاب میں وہی امیدوار فاتح قرار دیا جاتا ہے جو ووٹروں کے ووٹوں کے کل قدر کے نصف سے زیادہ حاصل کرتا ہے ۔ یعنی صدارتی انتخاب میں پہلے سے ہی یہ طے ہوتا ہے کہ جیتنے والے امیدوار کو کتنے ووٹ حاصل کرنے چاہئیں۔
8. اگر حالیہ صدارتی انتخاب کی بات کریں تو اس وقت صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج کے تمام اراکین کے ووٹوں کی مجموعی قدر 10 لاکھ 98 ہزار 882 ہے۔ آئندہ صدارتی انتخابات میں کسی بھی امیدوار کو جیتنے کے لیے 5 لاکھ 49 ہزار 442 ووٹ درکار ہوں گے۔ جس امیدوار کو پہلے اتنے ووٹ ملیں گے، وہی امیدوار ملک کا اگلا صدر جمہوریہ ہند ہوگا۔
9. بھارت کے پندرھویں صدر کے انتخاب کے لیے 15 جون کو نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیاتھا، کاغذات نامزدگی کی آخری تاریخ 29 جون تھی۔ صدارتی انتخاب 18 جولائی کو ہوگا اور نتائج کا اعلان 21 جولائی 2022 کو کیا جائے گا۔
10. این ڈی اے کی طرف سے دروپدی مرمو اور متحدہ اپوزیشن کی طرف سے یشونت سنہا کو صدارتی امیدوار بنایا گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: