مضامین

بھارت کا نیا سمیدھان از: موہن بھاگوت

ہندی سے اردو، مترجم: شبیر احمد قاسمی

(1) سمیدھان کی آتما (روح)

(١) بھارت کا یہ نیا سمیدھان ہندو دھرم کے مطابق ہے،

(٢) اس سمیدھان کے مطابق بھارت کو ایک ہندو راشٹر گھوشت کیا جاتا ہے، اب بھارت کے لئے صرف ہندوستان لفظ ہی کا استعمال کیا جاۓگا،
(٣) ہندو دھرم کا عقیدہ ہے کہ ہر ایک انسان مرتبہ کے اعتبار سے دوسرے انسان سے الگ الگ ہیں، اس لئے ہر ایک آدمی کو برابر کا ناگرک قرار نہیں دیا جا سکتا ہے، ناگرکتا کا ادھیکار دھرم ہی ہو گا،
(٤) آج کل بہت ساری ذاتیاں اور دھرم ہو گیے ہیں اس لئے ان سب کو ایک ستر(دھاگے) میں پرونا بہت ضروری ہیں،

(٥) ہندو دھرم کے مطابق انسانوں میں چار طبقات ہیں.
اس سمیدھان میں تمام ذاتیوں اور دھرموں کو ان ہی چار طبقات میں بانٹا گیا ہے،
(٦) سرکاری نوکریوں میں پدوں کی تقسیم،لوک سبھا اور ودان سبھاؤں میں ممبروں کا انتخاب ان ہی چار طبقات کے ادھار پر ہی کیا جائے گا،
(٧) کسی بھی جرم کی سزا کا قانون بھی ہندو دھرم کے طبقہ وادی قانون کے مطابق ہی نافذ کیا جائے گا،
(٨) بھگوان نے عورت کو صرف بچے پیدا کرنے کے لئے بنایا ہے،اس لئے اس کے تمام ادھیکار ہندو دھرم کے مطابق ختم کیا جارہاہے،
(٩) بھارت کا راشٹریہ گانا وندے ماترم اور راشٹریہ جھنڈا بھگوا ہو گا،
(١٠) اس سمیدھان کے مطابق برہمن کو سب سے پوتر (پاک) انسان اور گاۓکو سب سے پوتر جانور قرار دیا جا تا ہے،
(١١) یہ نیا سمیدھان ٢١, مارچ ٢٠٢٠ء(ہندو کیلنڈر کا نیا سال) سے لاگو ہو گا،

(2) ناگرکتا؟

ہندو دھرم کے ادھار کے مطابق چار قسم کے ناگرک بناۓ جا ئیں گے،
(١) first class citizens,
پہلے نمبر کا شہری:
برہمن ذاتی کے لوگوں کو پہلے نمبر کا شہری قرار دیا جا ئےگاجن کو ہر طرح کے ناگرک ادھیکار پراپت ہونگے،
(٢) second class citizens
دوسرے نمبر کا شہری:
چھتری اور ٹھاکر سماج کے لوگوں کو دوسرے نمبر کا شہری قرار دیا جا تا ہے،

(٣) Third class citizens.
تیسرے نمبر کا شہری:
ویش یا بنیا سمودائے کے لوگوں کو تیسرے نمبر کا شہری قرار دیا جا تا ہے،
(٤) fourth class citizens.
چوتھے نمبر کا شہری:
ان کے علاوہ تمام ذاتی و دھرم کے لوگوں کو چوتھے نمبر کا ناگرک گھوشت کیا جاتا ہے،
ان سب کو شودر نام سے بھی پکارا جائے گا،
اس میں بدہ،جین،سکھ، عیسائی،پارسی،مسلمان اور دیگر دھرموں کے لوگوں کو شامل کیا جائے گا اور اس میں انوسوچت ذاتی،انوسوچت جن ذاتی،پچھڑی ذاتیوں کے لوگ جیسے یادو،جاٹ،گجر،کرمی،کمہار،نائی ، وغیرہ کو بھی شامل کیے جا ئیں گے ،
اور دوسری ذاتیاں جو کسی بھی طبقہ میں نہیں ہیں،
جیسے،کایستھ،پنجابی وغیرہ ان کو بھی شودر طبقہ میں رکھا جائے گا،
عورت چاہے کسی بھی طبقہ کی ہو،اس کوشودر طبقہ میں ہی شمار کیا جائے گا،

پہچان کا نشان،

ہر طبقہ کے ماتھے (پیشانی) پر اس کے طبقے کا نام گودوایا جاۓ گا،
جیسے برہمن کے ماتھے پر برہمن،چھتری کے ماتھے پر چھتری،ویش کے ماتھے پر ویش اور شودر کے ماتھے پر شودر لکھا جا ۓ گا،
سرکار اس کام کو چھ مہینے کے اندر مکمل کرنے کے لئے ضروری پراؤدھان کرے گی،

(3) راشٹر پتی،پردھان منتری،ایم پی،ایم ایل اے،،،

ہندوستان کے راشٹر پتی،پردھان منتری،راجوں کے مکھ منتری ومنتری،ایم پی اور ایم ایل اے
برہمن ہی ہونگے،
موجودہ پردھان منتری (نریندرمودی) جو شودر ہے اس سمیدھان کو لاگو کرنے کے بعد اپنے پدہ سے استعفی دے دیں گے،
اور طبقہ کے مطابق شودروں والے کام کریں گے،
اور اسی طرح ہندوستان کے گرہ منتری (امت شاہ)جو ویش ہیں اپنے پدہ سے استعفی دے کر ویشوں والے کام کریں گے،

(4)ووٹ ڈالنے کا حق،

(١) صرف برہمن،چھتری اور ویش کو ہی ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہو گا،
شودر اور عورت کوچاہے کسی بھی طبقہ کے ہو ووٹ دینے کا حق نہیں ہو گا،

(٢) برہمن کے ایک ووٹ کی قیمت چھتری کے سو ووٹوں اور ویش کے ہزار ووٹوں کے برابر ہو گی،
مثلاً کسی چناؤ میں ایک برہمن ووٹ ڈالتا ہے اور ننانوے٩٩ چھتری یا ٹھاکر ووٹ ڈالتے ہیں تو برہمن کے ووٹ کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے برہمن کا امیدوار کامیاب مانا جائے گا،اسی طرح کسی چناؤ میں ایک برہمن ووٹ کر تا ہے اورنوسو ننانوے٩٩٩,
ویش یا بنیا ووٹ کرتے ہیں تو برہمن کا امیدوار کامیاب مانا جائے گا،

(5) پڑھنے لکھنے کا ادھیکار،،

(١) برہمن کو کسی بھی سبجیکٹ پڑھنے کا اختیار ہو گا،

(٢) چھتری کو صرف دسویں کلاس تک پڑھنے کا اختیار ہو گا،

(٣) ویش کو صرف پانچویں کلاس تک پڑھنے کا اختیار ہو گا،

(٤) شودروں اور عورتوں کو کچھ پڑھنے کا اختیار نہیں ہوگا،

(6) بولنے کی آزادی،،

(١) برہمن کو کسی بھی مسںٔلہ پر،کہیں بھی اور کسی کے بھی خلاف بول سکتا ہے،
اس کو پوری آزادی ہے،

(٢) باقی تینوں طبقوں کے لوگ کسی بھی برہمن یا اس کے کاموں اور اس کے فیصلوں کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بول سکتا،اگر انھوں نے ایسا کیا تو ان کی زبان کاٹ لی جائے گی،

سزا کے طور پر چھتری کی ایک انچ،ویش کی دو انچ،اور شودر کی پوری زبان کاٹ لی جائے گی،

(7) گھومنے پھرنے کی آزادی،،،

(١) برہمن کو پورے ہندوستان میں اور باہر ممالک میں کہیں بھی گھومنے پھرنے کا حق حاصل ہو گا جس کا پورا خرچہ ویش سماج کے لوگوں کو اٹھا نا پڑے گا،
(٢) دیگر تمام طبقات کے لوگ صرف ہندوستان میں گھوم پھر سکتے ہیں،ان کو باہر ممالک میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی،
اگر ان کا کوئی رشتے دار باہر ممالک میں رہتے ہیں توان کو ہندوستان آنے کی اجازت نہیں ہوگی اور ان کے ودیشی رشتے دار بھارت نہیں آ سکیں گے،،

(٣) ہوائی جہاز سے صرف برہمن ہی سفر کر سکتے ہیں،
چھتری ریل گاڑی سے،ویش بس سے اور شودر ساںٔیکل و تانگے سے سفر کر یں گے،اور برہمن کے سفر کا سارا خرچہ ویشوں کو اٹھا نا پڑے گا،

(8) سوچنا( پیغام رسانی کے آلات)کا ادھیکار،،

موبائل فون اور انٹرنیٹ کا استعمال صرف برہمن ہی کر سکتا ہے،باقی لوگ صرف ٹیلیویژن ہی دیکھ سکتے ہیں،

(9) سنپتی (مال و دولت) کا ادھیکار،،

(١) برہمن جہاں چاہے رہ سکتا ہے،
اگر اس کو کسی کا گھر پسند آ جاتا ہے تو برہمن وہاں پر بنا کرایہ دئیے جب تک چاہے رہ سکتا ہے بلکہ اس دوران برہمن کے کھانے پینے کی ذمہ داری مکان مالک کی ہو گی،،

(٢) اگر برہمن کو کوئی گھر بہت زیادہ پسند آجاتی ہے اور اس کو لینا چاہیے تو مکان مالک کو وہ گھر برہمن کو دان دینا پڑے گا،

(٣) برہمن کو کسی کی گاڑی یا کوئی سامان پسند آجاتا ہے تو مالک کو وہ گاڑی یا سامان برہمن کو دان دینا پڑے گا،،

(10) سرکاری سیواؤں کا پراؤدھان،،

(١) برہمن کو ہر سرکاری وبھاگ کا پرمکھ بنایا جائے گا،جیسے ضلع کا ڈی ایم،یا ایس پی،
کسی پراںٔیویٹ سنستھا کا منیجنگ ،
ڈائریکٹر،کسی اسکول کا پردھان دھیاپک اور کسی فوج کا کمانڈر وغیرہ،
(٢) چھتریوں کی بھرتی بھارتی سینا کے نچلی پدوں پر کی جائے گی،
جس سے وہ سیما پر کھڑے ہو کر دیش کی رکچہ کریں گے،اور اپنی جان کی بازی لگا دیں گے،
(٣) ویش سماج ساری دکانیں چلا ںٔیں گے،چاہے وہ سبزی کی ریڑھی ہو،پنچر کی دکان یا کوئی بڑی دکان،
(٤) شودر طبقہ کے لوگ مزدوری اور کسانوں کا کام کریں گے اور دیش کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنی جان جی لگا دیں گے،
ان کا کام صرف سیوا کر نا اور گندگی کی صفائی کرنا ہے،

(11) نیایٔے (انصاف)ووستھا،،
انصاف کا ووستھا پوری طرح سے برہمن کے ہاتھوں میں رہے گا،
سپریم کورٹ سے لیکر ڈسٹرکٹ کورٹ کے سبھی جج برہمن ہو نگے،
آج کل ویش سماج کے بھی کئی لوگ جج بن گئے ہیں اور انھوں نے نیایٔے ووستھا کو ویاپار (کاروبار)بنا دیا ہے اس لیے ان سب کو ہٹا دیا جائے گا،،

(12) سزا کا قانون،
(١) قتل کی سزا:
اگر برہمن کسی کو قتل کر دیتاہے تو اس کو چتاؤنی دیکر چھوڑ دیا جا ئے گا،
اگر چھتری کسی کو قتل کر دیتاہے تو اس کو الٹا لٹکا دیا جا ئے گا جب تک کہ اس کی موت نا ہو جائے،
اگر ویش سماج کا شخص کسی کو قتل کر دیتاہے تو اس کو گاڑی میں باندھ کر تب تک گھسیٹا جائے گا جب تک کہ مر نا جائے،
اگر شودر کسی کو قتل کر ے تو اس کو سولی پر لٹکا دیا جا ئے گا،

(٢) زنا کی سزا:۔
اگر برہمن کو کسی بھی طبقہ کی کوئی لڑکی(چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ) پسند آجاتی ہے تو وہ اس کے ساتھ بے جھجھک رہ سکتا ہے،اور سمبندھ بنا سکتا ہے،لڑکی کے گھر میں بھی رہ سکتا ہے اور لڑکی کو اپنے گھر میں بھی رکھ سکتا ہے،اورجب تک چاہے رہ سکتا ہے،
برہمن کو اس لڑکی سے شادی پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور نا ہی اس پر بلاتکار کا کوئی آروپ لگے گا،

اگر کوئی چھتری کسی کے ساتھ زنا کرتا ہے تو سزا کے طور پر اس کا لنگ (اعضاء تناسل)١,انچ کاٹ دیا جا ئے گا،
اگر ویش زنا کرتا ہے تو اس کا لنگ ٢,انچ کاٹ دیا جا ئے گا،اور اگر شودر زنا کرتا ہے تو اس کا پورا لنگ کاٹ دیا جا ئے گا،

(٣) چوری،ڈکیتی،،

اگر برہمن چوری کرتا ہے تو چوری کا سامان دان سمجھتے ہوئے برہمن کو معاف کر دیا جا ئے گا،
اور چھتری چوری کرتا ہے تو سو ڈنڈا مارا جائے گا،
اور ویش چوری کرے گا تو پانچ سو ڈنڈا مارا جائے گا،اور شودر چوری کرے گا تو ایک ہزار ڈنڈے مارنے کی سزا ملے گی،

(13) راشٹریہ بھاشہ،،

ہندوستان کی راشٹریہ بھاشہ ہندی ہو گی جسے ہر ہندوستانی کو سیکھنا اور بولنا ہو گا،اور سائنسکرت بھی انوواریہ (ضروری) ہو گی،اور دس سال بعد سائنسکرت کو راشٹریہ بھاشہ بنا دیا جا ئے گا،،،،،

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: