اہم خبریں

بھارت کی گرتی معیشت کو سنبھالا دینا مسلمانوں کا بھی وطنی فریضہ: ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے بسنت رائے

بھارت کی گرتی معیشت سے تباہ ہوتے ملک کو سنبھالا دینا ہر مسلمان کا بھی وطنی فریضہ ہے، اور نبوی تعلیمات کے مطابق روزگار کے دس میں سے نو مواقع تجارت میں ہیں، اس لیے مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ تجارت کرنی چاہیے، ان خیالات کا اظہار جمعیت علمائے بسنت رائے کے ناظم اعلیٰ مفتی محمد نظام الدین قاسمی مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ نے لیتھا کی جامع مسجد میں منعقد ایک پروگرام میں کیا۔ پروگرام سے مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی جمعیت علمائے ہند، اور مفتی زاہد امان قاسمی سکریٹری جمعیت علما و ناظم اعلیٰ لجنۃ العلما والمفتین نے بھی خطاب کیا اور لاک ڈاون میں تعلیمی مسائل، معاشی مسائل پر غور،مقامی لیڈر شپ کی اہمیت و ضرورت اور جمعیت علمائے ہند کی جاری ممبر سازی کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔
معلومات کے لیے عرض کردوں کہ جمعیت علمائے بسنت رائے کے ذمہ داروں پر مشتمل ایک وفد علاقے میں مسلسل دورہ کر رہا ہے اور روزانہ دو گاوں کی مساجد میں جا جا کر موجودہ چاروں مسائل پر لوگوں کی توجہ مبذول کراکر مقامی یونٹ تشکیل دینے کے لیے کوشاں ہے۔ مورخہ 5 ستمبر 2020 کو بعد نماز مغرب لیتھا کی جامع مسجد میں پروگرام کیا گیا، جب کہ عشا کے بعد بسمبر چک کی مسجد میں پروگرام کیا گیا۔ مقامی طور پر سر دست مولانا اکرام الدین صاحب مظاہری امام جامع مسجد، حاجی طاہر صاحب، ماسٹر عبد الغنی صاحب لیتھا میں اور قاری محمود صاحب، جناب نور نبی بھائی ، ماسٹر شمیم صاحب اور دیگر حضرات کو ذمہ دار بنایا گیا۔ وفد کا یہ تیسرا دورہ تھا، اس سے پہلے بنسی پوراور اعظم پکڑیا کا دورہ کیا جاچکا ہے۔ وفد میں ناظم اعلیٰ جمیت علمائے بسنت رائے مولانا مفتی محمد نظام الدین قاسمی کے علاوہ مولانا محمد یاسین جہازی صاحب، جمعیت علمائے ہند، مفتتی محمد زاہد امان قاسمی صاحب سکریٹری جمعیت اور مولانا سرفراز قاسمی صاحب نائب مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ و خازن جمعیت علمائے بسنت رائے کے نام شامل ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: