مضامین

بھاگوت، بھارت اور بھارت کا بھوشیہ

مولاناعبدالحمید نعمانی

ملاحظات

بہت سے لوگ سنگھ اور اس کے پیشواؤں کے فکر و عمل اور طریقہ کار سے پوری طرح واقف نہیں ہیں، خاص طور سے مسلم سماج میں بھارت کو جاننے کو لے کر بہت زیادہ سنجیدگی اور کوشش نظر نہیں آتی ہے اور جو سنجیدہ ہیں ان کی کوشش ضرورت کے مطابق سامنے نہیں آ پاتی ہے، اس کی راہ میں کئی طرح کی رکاوٹیں ہیں، دیگر طبقات کا بڑا حصہ، ملک کے بدلتے حالات میں پیدا مسائل کے دباؤ میں وسائل حیات اور کئی سارے مذہبی، نظریاتی، تہذیبی اور اقتصادی سوالات کے جوابات سے دور ہیں، بلکہ صحیح یہ ہے کہ محنت کش طبقات کو ان سے عمدا دوررکھا گیا ہے بلکہ دور رکھا جاتا ہے، ورنہ یہ فیصلہ کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے کہ بھارت کے حال کو بنانے اور بھوشیہ(مستقبل)کی تعمیر کی راہ ہموار کی جا رہی ہے یا نشان راہ کو مٹانے کا کام کیا جا رہا ہے،؟ سنگھ سربراہ ڈاکٹر بھاگوت کے حالیہ بیانیہ کو بھی اسی سوال کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، وہ بھارت کے بھوشیہ پر توجہ دینے کے بجائے اپنے حساب سے بھوشیہ کا بھارت بنانے پر پوری توجہ مبذول کیے ہوئے ہیں، ان کے خطابات کا ایک مجموعہ،” بھوشیہ کا بھارت ” کے نام سے کتابی شکل میں مختلف زبانوں میں شائع ہو چکا ہے، بھارت کا مستقبل اور مستقبل کا بھارت میں بہت زیادہ فرق اور معاملہ پوری طرح سے الٹ سا گیا ہے، پہلی صورت میں ملک کے تکثیری سماج کے مطابق بھارت کے مستقبل کا نقشہ عمل بنانے کی جدوجہد سے عبارت ہے جب کہ دوسری شکل میں بھاگوت اور سنگھ کے نقشہ عمل کے مطابق مْستقبل کا” ہندو ہندو استھان ” بنانے کی کوشش ہے، اسی دوسری راہ پر لے جانے کا عمل جاری ہے، ڈاکٹر بھاگوت، حیوانات کے ڈاکٹر ہیں آدمیوں کے امراض کے نہیں، بسا اوقات لوگ معاملہ سمجھنے میں غچا کھا جاتے ہیں ڈاکٹر بھاگوت بھی بہ ذات خود متضاد باتیں کر کے غچا دینے کا کام کرتے رہتے ہیں، انگریزی، ہندی کے آرگنائزر اور پانچ جنیہ کو دیے گئے انٹرویو میں بھی اسی طرح کی مغالطہ انگیز متضاد باتیں ہیں، ان پر اگر حقائق کی روشنی میں بحث و گفتگو ہو گی تو کئی سارے گوشے سامنے آئیں گے،
ڈاکٹر بھاگوت نے جس طرح ہندوؤں کے حملہ آور تیور و رویے کی تائید و تحسین کی ہے اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے، انھوں نے اپنے دعوے کو سامنے رکھتے ہوئے جہاں اصل ایشوز سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے وہیں سوالات کو بغیر جوابات کے چھوڑ کر خود کے بجائے دیگر خصوصا اسلام اور مسلمانوں کو جوابات دہی کی پوزیشن میں رکھنے کا کام کیا ہے، تا کہ ہندو اکثریت کے ایک حصے کو مزید حملہ آور کی شکل میں آگے بڑھا کر بھارتیوں کے بھارت کی جگہ صرف بھاگوت اور سنگھ کے خوابوں کے مکمل ہندو استھان کی راہ ہموار ہو جائے، ڈاکٹر بھاگوت کے بیانیے پر مختلف پارٹیوں کے ذمہ داروں نے تنقید و تائید بھی کی ہے، وہ اپنے اور سنگھ کے نقطئ نظر کو مطالبے، دھمکی اور دعوے دل سے پیش کرتے ہیں،سیاسی پارٹیوں کے ذمہ داروں نے موہن بھاگوت کے بیانیے پر جو تبصرے اور سوالات کیے ہیں وہ قابل توجہ و بحث ہیں، ایک سوال تو یہ ہے کہ ڈاکٹر بھاگوت، بھارت اور اس کے شہریوں کے لیے جو معیار و حیثیت طے کرتے ہیں وہ کس حیثیت سے ایسا کرتے ہیں، وہ آر ایس ایس کے سر سنچالک ضرور ہیں لیکن آئین سے پرے اصولی و عملی طور پر مطلق العنان حکمراں نہیں ہیں، اس کے پیش نظر بھارت میں رہنے کا معیار طے کر سکتے ہیں اور نہ ملک کے شہریوں پر اپنی پسند کے شرائط عائد کر سکتے ہیں، اس پہلو پر بجا طور سے برنداکرات اور اویسی صاحب نے توجہ دی ہے،جب کہ ایک اصل مسئلے کی طرف، جس سے توجہ ہٹائے رکھنے کے لیے سنگھ اور دیگر ہندوتو وادی عناصر کوشش کرتے ہیں، ادت راج نے متوجہ کیا ہے کہ بھاگوت جی بتائیں کہ سناتن دھرم میں دلتوں، پس ماندہ طبقات اور عورتوں کی کیا حالت تھی،؟ یہ سوال ہندوتو کے مزعومہ مثالی عہد اور اس کو واپس لانے اور نمونہ بنانے کی کوششوں سے اچھی طرح پردہ اٹھانے کا کام کرتا ہے، ویسے بھی "ہندو استھان ” جس کو باقی رکھنے کی وکالت و حمایت ڈاکٹر بھاگوت کرتے ہیں کے لیے بھارت کے آئین اور سیکولر جمہوری بھارت میں کوئی جگہ نہیں ہے، مبینہ سناتن دھرم کے اصل متون، وید، پران، اپنیشد، رامائن، مہا بھارت، اور دھرم شاستروں، منو سمرتی، ارتھ شاستر وغیرہ میں بھی ہندو، ہندوتو کو جگہ نہیں ملی ہے، ڈاکٹر بھاگوت عموما تاریخی شعور و ادراک سے دور جا کر عام سی بے بنیاد قسم کی باتیں کرکے سماج کو گمراہ کرنے کا کام کرتے ہیں، جدید بھارت میں کسی قابل ذکر مسلمان نے فائق ہونے کا دعوٰی نہیں کیا ہے، جب ایسا ہے نہیں تو اس کے حوالے سے بات قطعی بے معنی ہے، ملک کے تمام تر کلیدی مناصب پر غیر مسلم ہی براجمان ہیں، اس تشویشناک صورت حال کوئی بھی سمجھ دار مسلمان خود کو فائق کیسے کہہ اور سمجھ سکتا ہے، یقینی طور پر ماضی میں ملک کے مختلف حصوں میں تقریبا بارہ سو سال تک مسلم نام والے حکمراں رہے ہیں، لیکن یہ تو تاریخ ہے، اس میں حال کے لوگ کس طرح تبدیلی و مداخلت کر سکتے ہیں، کیا سنگھ، گپت، موریہ عہد، رامائن، مہا بھارت، وجیا نگر، مہا رانا پرتاپ، شیوا جی کے طرز حکمرانی کا ذکر کرتے ہوئے اظہار فخر نہیں کرتا ہے،؟وہ تو تصوراتی اور مفروضہ کہانیوں کو تاریخ بنا کر اس سے سماج کو جوڑنے کی کوشش مدتوں سے کر رہا ہے، چاہے مسلمان ہو یا کوئی اور تاریخ سے الگ نہیں کر سکتا ہے، اس کا مطالبہ تاریخی شعور کی نا پختگی کی علامت ہے، تاریخ بھول جانے کے لیے نہیں بلکہ اس سے سبق اور رہنمائی و روشنی لینے کے لیے ہے، ہندوتو وادی عناصر تاریخ سے ڈرے سہمے رہتے ہیں کہ ان کی تاریخ کوئی زیادہ اچھی نہیں رہی ہے، لیکن ماضی سے رشتہ اور یاد داشت انسانی سماج کی ضرورت ہے،،ڈاکٹر بھاگوت کیا تاریخ کو تاریکی میں ڈال کر بھارت کے بھوشیہ کو بھسم کر دینا چاہتے ہیں؟ ہندوتو وادیوں نے اس سوال پر توجہ نہیں دی کہ اسلام اور مسلمانوں کے بغیر بھارت کیسا اور کس حالت میں تھا؟ اگر آج بھی بھارت سے اسلام اور مسلمانوں کو الگ کر دیا جائے تو سنگھ اور دیگر ہندوتو وادیوں کی حالت کتنی قابل رحم ہو جائے گی، ان کے نام پر ہی تو تمام تر کار وبار حیات جاری ہے، یہ حقیقت ہے کہ ہر کوئی کسی نظریہ، جماعت کو اسے دیگر سے فائق مانتے سمجھتے ہی اختیار کرتا اور اس میں رہتا ہے، وجہ ترجیح و اختیار، معقول بنیاد ہے، اسے ترک کرنے کا مطالبہ ایک نامعقول مطالبہ ہے، ہر مذہب و نظریہ والے حتی کہ ڈاکٹر بھاگوت بھی اپنے نظریہ و عمل کو فائق کہتے اور سمجھتے ہیں، ہم بھی اپنے نظریہ کے متعلق ایسا ہی سمجھتے ہیں، یہ غلط بھی نہیں ہے، غلط تو یہ ہے کہ اپنے نظریہ و عمل کو زبردستی دیگر پر لادا جائے، ہم جہاں ہیں وہیں رہنا بہتر سمجھتے ہیں، ہم بعد کے نظریہ و عمل کو اختیار کرکے پہلے کے تسلسل کو برقرار رکھا ہے، اس کے پیش نظر واپسی قطعی بے معنی ہے، واپسی، گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنے اور پشت کے بل چلنے کے ہم معنی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: