مضامین

*بھر نہیں سکتا کبھی لالچ کا پیٹ*

از قلم : *محمد ہاشم اعظمی مصباحی*

نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی
حِرْص اور لالچ دو ایسے الفاظ ہیں جن کا معنیٰ ایک ہی ہے لالچ اُردو زبان کا جبکہ حِرْص عَرَبی زبان کا لفظ ہے حِرْص و لالچ کسی بھی چیز کی مزید خَواہش کرنے کا نام ہے جیسا کہ حکیمُ الاُمَّت حضرت علامہ مفتی اَحمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالیٰ عَلَیْہ نے رقم فرمایا : کسی چیز سے جی نہ بھرنے اور ہمیشہ زیادَتی کی خَواہِش رکھنے کو حِرْص اور حِرْص رکھنے والے کو حَرِیْص کہتے ہیں یاد رکھیں ہرحرص بری نہیں ہوتی ہے بلکہ اچھی بھی ہوتی ہے اچھی حرص یا لالچ کو شریعت میں "حرصِ محمود” کا نام دیا گیا ہے دراصل حِرْص کی اچھائی یا بُرائی کااِنحصار اُس شے پر ہے جس کی حِرْص کی جارہی ہے لہٰذا اچھی چیز کی حِرْص اچھی اور بُری چیز کی حِرْص بُری ہوتی ہے جسے شریعت میں "حرص مذموم” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ اچھائی یا بُرائی کی طرف جانا ہمارے اختیار میں ہے لیکن سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کن کن چیزوں کی حِرْص ’’حرصِ محمود‘‘ہے تاکہ اسے اپنایا جاسکے اور کون کون سی اشیاء کی حرص ’’حرصِ مذموم‘‘؟ تاکہ اس سے بچا جاسکے اس سلسلے میں حِرْص کی اَقسام کی مختصر وضاحت ملاحظہ کیجئے: (۱) رضائے الٰہی کے لئے کئے جانے والے اعمال اِنْ شَآءَ اللہ انسان کو جنت میں لے جائیں گے لہٰذا نیکیوں کی حرص محمود یعنی پسندیدہ ہوتی ہے مثلاً نماز، روزہ، حج ،زکوٰۃ ،صدقہ وخیرات، تلاوت، ذکر اللہ، دُرُودِ پاک، حصولِ علمِ دین ، صِلہ رحمی ،خیرخواہی اور نیکی کی دعوت عام کرنے کی حِرص محمود ہے ( باطنی بیماریوں کی معلومات،ص۱۱۹)
مگر آج ہم جس حِرْص و لالچ کے بارے میں بتانے جارہے ہیں وہ بُری لالچ ہے جسے شریعت نے "حرصِ مذموم” کہا ہے یقین جانیں بری لالچ کرنے والا انسان بہت برا اور نہایت قابِلِ رَحم ہوتا ہے اِس لئے کہ ہوشیار لوگ طرح طرح سے لالچ دے کر اور بیوقوف بناکر اپنے کام نکلوالیتے ہیں مثلاً کبھی کوئی نوکری کا جَھانْسَہ دے کر پیسے بٹورلیتاہے اور کبھی کوئی خاتون جھانسے میں آجائے تو حرص و ہوس کے قبیح جال میں پھنس کر طرح طرح کی لالچ کے ذریعہ خاتون کی عصمت دری کرتا ہے اور اگر پھنس گیا تو زندگی بھر کی رعنائیوں سے محروم بھی ہوجاتا ہے لالچی انسان کبھی مُختلِف اِداروں اور کمپنیوں کے پُرکشش پیکیجز کے جال میں پھنس جاتا ہے پیکیجز اور اِنعام کی لالچ میں آکر زندگی بھر کی جمع پُونجی سے محروم بھی ہوجاتاہے.
دوسروں کی دولت و نعمت کو دیکھ کر خود بھی اس کوحاصل کرنے کے پھیر میں پریشان رہنا غلط اور صحیح ہر قسم کی تدابیر میں دن رات لگے رہنا حرص و لالچ کا تقاضاہے جو ہمیشہ ھل من مزید کی صدائیں دیتا رہتا ہے حرص و طمع در حقیقت انسان کی ایک پیدائشی خصلت ہے چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ اگر آدمی کے پاس دومیدان بھر کر سونا ہوجائے تو پھر وہ ایک تیسرے میدان کو طلب کریگا کہ وہ بھی سونے سے بھر جائے اور ابن آدم کے پیٹ کو قبر کی مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو شخص اس سے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمالے گا۔(صحیح مسلم ، کتاب الزکاۃ،رقم ۱۰۴۸،ص۵۲۱)
اورایک حدیث شریف میں ہے کہ ابن آدم بوڑھا ہو جاتاہے مگر اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں ایک امید دوسرے مال کی چاہت۔(صحیح البخاری ، کتاب الرقاق، رقم ۶۴۲۰،ج۴ ،ص۲۲۴)
حضرت علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : لالچ اور حرص کا جذبہ خوراک، لباس، مکان، سامان، دولت، عزت، شہرت غرضیکہ ہر نعمت میں ہوا کرتا ہے۔ اگر لالچ کا جذبہ کسی انسان میں بڑھ جاتا ہے تو وہ انسان طرح طرح کی بداخلاقیوں اور بے مروتی کے کاموں میں پڑجاتا ہے اور بڑے سے بڑےگناہوں سےبھی نہیں چوکتا(جنتی زیور)
لالچ دل سے ہمدردی کا جذبہ نکال دیتی ہے، لالچ دُنیا وآخرت میں ذِلّت و رُسوائی کا سبب بنتی ہے، لالچ اِنسان کو بے سُکونی میں مُبْتَلا کردیتی ہے، لالچ اِنسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی اور لالچ کا اَنجام اِنتہائی بَھیانک ہوتا ہے۔ اَلْغَرَض لالچ کی تباہ کاریاں اِس قَدر زِیادہ ہیں کہ اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ سچ پوچھئے تو حرص وطمع ہزار گناہوں کا سرچشمہ ہے لہٰذا عقلمندی اِسی میں ہے کہ ہم لالچ اور دوسروں کے مال پر نَظَر رکھنے سے بچتے ہوئے قَناعت اور سادگی کی راہ اپنائیں، یُوں ہماری زندگی بھی پرسُکون گزرے گی اور دنیا وآخرت میں بھی ہمیں اِس کی خوب خوب بَرَکتیں نصیب ہوں گی۔
*حرص و لالچ کا علاج*: اس قلبی مرض کا علاج صبر و قناعت ہے یعنی جو کچھ خدا کی طرف سے بندے کو مل جائے اس پر راضی ہو کر خدا کا شکر بجا لائے اور اس عقیدہ پر جم جائے کہ انسان جب ماں کے پیٹ میں رہتا ہے اسی وقت فرشتہ خدا کے حکم سے انسان کی چار چیزیں لکھ دیتا ہے۔ انسان کی عمر انسان کی روزی انسان کی نیک نصیبی انسان کی بدنصیبی یہی انسان کا نوشتہ تقدیر ہے لاکھ ادھر اُدھر سرمارلو مگر وہی ملے گا جو تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے یہی سمجھ کر کہ خدا کی رضا اور اس کی عطا پر راضی ہوجاؤ اور یہ کہہ کر لالچ کے قلعے کو ڈھا دو کہ جو میری تقدیر میں تھا وہ مجھے ملا اور جو میری تقدیر میں ہوگا وہ آئندہ ضرور ملے گا اور اگر کچھ کمی کی وجہ سے قلب میں تکلیف ہو اور نفس ادھر ادھر لپکے تو صبر کرکے نفس کی لگام کھینچ لو اسی طرح رفتہ رفتہ قلب میں قناعت کا نور بھی چمک اٹھے گا اور حرص و لالچ کا اندھیرا بادل بھی چھٹ جائے گا.
یاد رکھو! اگر آدمی طمع نہ کرے اور صبر کرے تو یہ شاید اس پر گراں تو گزرے گا لیکن وہ اس دنیا میں ذلیل و رسوا نہ ہو گا۔اور اگر طمع کرے گا صبر نہ کرے گا تو وہ پریشانی اٹھانے کے علاوہ ذلیل و خوار بھی ہوگا نیز لالچ کے باعث لوگوں کی ملامت کا نشانہ بھی بنے گا مزید برآں آخرت میں بھی عذاب میں مبتلا ہوگا اس کے برعکس اگر صبر کا مظاہرہ کرے گا تو اس کی بدولت اجر و ثواب کا مستحق ٹھہرے گا اور لوگوں میں بھی تحسین اور احترام حاصل ہوگا انسان ٹھنڈے دل سے غور کرے کہ اس کی یہ حرص اور طمع آخر ہے کس لیے ؟ اگر کھانے پینے کی خاطر ہے تو گدھے اور بیل وغیرہ کہیں زیادہ کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔ اگر شان و شوکت مطلوب ہے تو کتنی غیر قومیں اس ضمن میں آگے بڑھی ہوئی ہیں غرض ہر برائی کے لیے متبادل مثال کسی بری شے میں دکھائی دے گی ہاں اگر طمع سے ہاتھ اٹھالے اور تھوڑے پر صبر و قناعت کرنا سیکھ لے تو اسے اپنی مثال انبیائے کرام علیہم السلام اور اولیاء و صالحین میں ملے گی یقیناً صبر و قناعت انبیاء و صالحین کا طرز زندگی ہے اور ہمیں بھی اسی شاہراہ کا مسافر بننا چاہئے اسی میں ہمارے لئے دارین کی سعادت ہے ورنہ تو بقول آرزو لکھنوی…
بھرنہیں سکتاکبھی لالچ کاپیٹ
دھنستا رہتا ہے گڑھا پاٹا ہوا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: