اہم خبریں

بھوپال میں جمعیت کے مذاکراتی اجتماع کا انعقاد:حوصلوں میں اڑان بھرنے کی ایک کامیاب کوشش

مولانا خالدانورپورنوی،المظاہری

ملک کی تازہ ترین صورت حال انتہائی تکلیف ، روح فرسا اوربھیانک ہے ، پولیٹیکل فائدے کے لئے ایک خوفناک سیاست انجام دینے کی کوششیں زوروں پر ہیں،ہرآئے دن ایک نیا فتنہ جنم لیتاہے ، اس کو سوچنے،سمجھنے سے پہلے پھر ایک نئی مصیبت مسلط کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، اس کے پیچھے کا مقصد صرف یہ ہےکہ مسلمانوں کےحوصلوں کو توڑ کر انہیں بےمقصد بنادیاجائے ، ایسے میں سب سے اہم اور ضروری کام یہ ہےکہ مسلمانوں، اور مسلمانوں کےلئے کام کرنے والے افراد وجماعتوں کے حوصلوں کو مضبوط ومنضبط کیاجائے، باہمت، اور جرات وشجاعت جیسی صفات سے مزین کرکے ملک وقوم کےلئے انہیں بامقصد بنایا جائے ، انہی جذبوں، حوصلوں، اور حوصلوں میں نئی اڑان بھرنے کےلئے جمعیۃ علما ہند کے قائد وصدر محترم جناب مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب نے وسطِ ہند کے ایک تاریخی اور تہذیبی شہر ‘ ‘ بھوپال ‘ ‘ کے فارچون ریز ارٹ اینڈ گارڈن میں،بتاریخ 9-10،ستمبر2022،کو جمعیۃ علما ہند کےتمام صوبائی صدور ونظمائے اعلی کا دوروزہ مذاکراتی اجتماع کا انعقاد کیا ،جس خوبصورتی،سلیقہ مندی سے ماضی کے واقعات،اور مستقبل کے نقشوں کو پیش کیاگیا،ہمیں امیدہے کہ اس کے مفیداثرات دیکھنے کو ملیں گے!
جمعیۃ علما ہند کےدس نکاتی پروگرام کو ضلعی ومقامی سطح پر نافذ کرنے ،ملت کےلئے ملت فنڈ کا قیام، معاشرتی اصلاح، سیرت النبی کوئز، دینی تعلیمی تحریک کو عام کرنے کےساتھ، ملک کے درپیش مسائل پر تفصیل سے تبادلہ خیالات کرنے ، اور صوبائی کارکردگی کا جائزہ لینے کےلئے دوروزہ مذاکراتی اجتماع کو چار نششتوں میں تقسیم کیاگیا، اجلاس کی صدارت جمعیۃ علما ہند کےقائد وصدر محترم جناب مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب نے کی، قرآن کریم کی تلاوت سےپہلی نشست کا آغاز ہوا، اس نشست میں ملک کی تمام صوبائی یونیٹوں کے صدور ونظمائے اعلی نے صوبائی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی ، اس طرح کا اجتماع پہلی بار ہوا،تھا، جس میں صوبہ کے ذمہ داران مرکزی قیادت کےسامنے اپنے بکھرے ہوئے کاموں کو پیش کر رہے تھے،صوبوں کی کارکردگی اور رپورٹ کو سن کر جمعیۃ علما ہند کے صدر محترم نے سراہا، اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آپ نے کہا! جمعیۃ علما ہند آپ ہیں، جمعیۃ علما ہند کا اثاثہ اور سرمایہ آپ لوگ ہیں،اسی کے ساتھ انہوں نے اس عہد کو دہرایاکہ : ہم سب کا عزم ہوناچاہئیے کہ ضلع، تحصیل، تعلقہ تک ہی نہیں، بلکہ گاؤں تک ہم کیسے پہونچیں؟انہوں نے کہا :کہ اگر ہم قوم کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں محلہ سطح تک جمعیۃ کے نمایندے بنانے ہوں گے، تبھی جاکر ارتداد اور بے دینی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے دعوی کیا کہ بیالیس فی صد نوجوان ارتداد کی ز د میں ہیں، وہ گاؤں میں بھی رہتے ہیں اور شہر میں بھی، ہم ان کی اصلاح تب ہی کرسکتے ہیں جب جمعیۃ کے نمایندے ہر جگہ موجود ہوں۔انھوں نے جماعت کے ذمہ داروں سے عہد لیا کہ جن جگہوں پر اب تک جمعیۃ کی یونٹیں نہ بنی ہیں، وہاں ضلع، بلاک اور مقامی سطح تک جمعیۃ کی یونٹیں قائم کی جائیں۔
جمعیۃ علماہند کے دائرہ کارکو وسیع کرنے اور صوبائی یونیٹوں کو مزید فعال ، مستحکم اور کارآمد بنانے کےلئے پانچ زون میں تقسیم کیاگیا، زون (۱) کرناٹک، تامل ناڈو، کیرالہ،آندھرا پردیش و تلنگانہ،انڈمان و نکوبار، گوا ، جن کے کنوینر مفتی شمس الدین بجلی اور ذمہ دار مولانا بدرالدین اجمل منتخب کئے گئے۔ زون(۲) مہاراشٹرا، گجرات، مدھیہ پردیش، راجستھان ، جب کہ کنوینر و ذمہ دار مولانا حافظ ندیم صدیقی صاحب۔زون (۳) مغربی بنگال، آسام، منی پور، تری پورہ، میگھالیہ،اڈیشہ، ناگالینڈ ،اس کے کنوینر مولانا عبدالقادر آسام و مفتی عبدالسلام اور ذمہ دار:مفتی افتخار قاسمی۔ زون نمبر(۴) میں بہار، جھارکھنڈ، مشرقی زون و سط زون یوپی ، اس کے کنوینر مولانا کلیم اللہ خاں قاسمی اورذ مہ دار مولانا صدیق اللہ چودھری ہیں۔زون(۵) مغربی زون یوپی،دہلی، ہریانہ، پنجاب و ہماچل، اتراکھنڈ ، اس کے کنوینر مولانا محمد عاقل گڑھی دولت اور ذمہ دار حاجی محمد ہارون بنائے گئے۔ یہ نشست دو بجے ختم ہوگئی۔
دوسری نشست کا آغاز 4 بجے شام سے ہوا، یہ صرف ڈیڑھ گھنٹہ کی مجلس تھی، ہرہر زون کے لئے بیٹھنے کی علاحدہ جگہ متعین تھی، جمعیۃ علما ہند کی جانب سے کئی طرح کے سوالات تھے،مثلا جمعیۃ علماء ہندکوسرگرم سیاست میں حصہ لینا چاہئے،یانہیں؟ اس طرح کے کئی اور اہم سوالات تھے، ہر ہر زون کو اختیار دیا گیاتھا کہ وہ مشورہ سے کوئی رائے قائم کرکے اس کا جواب جمع کردیں، یہ نشست مختصر مگر بڑی اہم ثابت ہوئی۔
مغرب کی نماز کے بعد تیسری نشست کا آغاز ہوا، سب سے پہلےپروجیکٹ کے ذریعہ دینی تعلیمی بورڈ کا ایک جامع دینی تعلیمی تحریک کے طور پر تعارف پیش کیاگیا۔ملک میں ارتداد کی جو لہر چل رہی ہے سرکاری سروے کے مطابق ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس نے ملک بھر سے آئے ہوئے صوبائی صدور ونظماء کی آنکھیں کھول دیں، اس کے روک تھام کے لئے دینی تعلیمی بورڈ کی جانب سے قائم منظم مکاتب کے قیام کو ضروری قرار دیاگیا، منظم مکاتب کے نظام کو چلانے کے طریقے، بامقصد اور مفید سے مفید بنانے کے اصول وآداب بھی بڑے سہل انداز میں بتائے گئے۔ اس نشست میں ملت فنڈ کا تعارف بھی پروجیکٹ کے ذریعہ پیش کیاگیا، مختلف فلاحی وتعمیری پروگرام کے لئے جمعیۃ علما ہند کی جانب سے ملت فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیاہے ، صوبائی، ضلعی، اور مقامی سطح پر ملت فنڈ کی تحریک کو متحرک اور فعال بنایاجائے ، اس پر روشنی ڈالی گئی، اس نشست میں صدر محترم نے فرمایا: عام لوگوں کے ذہنوں میں اور خاص لوگوں کے ذہنوں میں بھی، دوستوں کی نظر میں بھی، اور ناوافق لوگوں کی نظر میں بھی جمعیۃ علما ء مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت ہے ، اور بہت سارے لوگ اسی وجہ سے اس کی مخالفت بھی کرتے ہیں کہ وہ سب سے بڑی جماعت ہے اور کام نہیں کر رہی ہے ۔
اس نشست میں صدر محترم نے جمعیۃ یوتھ کلب کا بھی اجمالاذکر کیا، لیکن توقع کے مطابق کام نہ ہونے کی وجہ سے بڑے جذباتی اور آبدیدہ ہوگئے ، کہنے لگے: مجھے حیرت ہے کے لوگوں کو نیند کیسے آجاتی ہے ، ملت کے موجودہ حالات پر کافی فکر مندی ظاہر کی اور کہا کہ ہمارے پاس اب منزل کے دوران رک کر سستانے کا وقت نہیں ہے بلکہ ہر حال میں آگے قدم بڑھانا ہو گا۔ انھوں نے ماضی میں بزرگوں کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج جو بھی دینی تحریکیں چل رہی ہیں وہ جمعیۃ علماء کی قربانیوں کا ثمر ہ ہیں۔
صوبائی، ضلعی ، اور مقامی یونیٹوں کو فعال بنانے کے لئے پانچ زون میں تقسیم کرنے کے ساتھ صوبہ میں ایک ناظم تنظیم و ترقی اور ہر ضلع میں ملت فنڈ آرگنائزر کی بحالی کو ضروری قراردیا۔
چوتھی نشست کا آغاز 10 ستمبر کو صبح 9 بجے ہوا ،سب سے پہلے شعبہ ‘ ‘دعوت اسلام ‘ ‘ کو پروجیکٹ کے ذریعہ پیش کیاگیا، اس کے ذریعہ سمجھایاگیا کہ آپ اپنے ایمان کا محاسبہ کس طرح کریں گے ، اسی کے ساتھ سیرت النبی ﷺکوئز کا تعارف کرایا گیا۔ صدرمحترم نے اس موقع پر فرمایا: کہ سیرت طیبہﷺ کے حقیقی او رانسانیت دوست پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہا:کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ جہ کی وجہ سے توہین کے واقعات سرزد ہو تے ہیں، اس لیے حیات طیبہ کے گوشے کو عام کیا جائے، اس کے لیے سردست اسلامک کوئز شروع کرنے کی بھی تجویز منظور کی گئی،اس نشست میں تمام صوبائی یونیٹوں کے صدور حضرات نے اپنے خیالات کا اظہارکیا،انہوں نے کہا:اس طرح کے مذاکراتی اجتماع سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا،دوسرے صوبوں کی کارکردگی کو دیکھ کر ہمیں بھی کچھ کرنے کا جذبہ پیداہوا،اجلاس کے منتظم صدر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش حاجی محمد ہارون اور ان کی ٹیم کی عمدہ ضیافت کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی جناب مولاناحکیم الدین صاحب قاسمی کہا : مایوس مت ہوئیے،اور جمعیۃ علماء ہند کو اپنی آخرت بنالیجئے،انہوں نے کہا:جذبہ صادق اور عزم وحوصلہ کے ساتھ آگے بڑھئے،آپ جمعیۃ علماء ہندہیں،اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام تحریکوں کے آپ معاون ہیں ، مختصراندازمیں جمعیۃ علماء ہند کی کارکردگی کو پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا:جمعیۃ علماء ہند تو مظلوموں کی جماعت ہے،ایک ایسے وقت میں جب کہ جماعت وتبلیغ کانام لیناگناہ سمجھاجانے لگاتھا،یہ جمعیۃ علماء ہند ہی ان کے ساتھ کھڑی نظرآرہی تھی، جمعیۃ علماء ہند اس ملک کے لیے نعمت ہے۔ صدر جمعیۃ علماء ہندکا یہ عزم ہے کہ گاؤں گاؤں تک جمعیۃ علماء قائم ہو، جو جمعیۃ کی ریاستی یونٹوں کے بغیر ممکن نہیں ہے، اس لیے آپ حضرات مکمل ارادے کے ساتھ جمعیۃ کو مستحکم کریں۔ جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانانیازاحمدفارقی صاحب نے مختصر لیکن اہم اخطاب فرمایا،انہوں نے سب سے پہلے جمعیۃ علماء ہند کی اس ٹیم کی تعریف کی کہ ان ہی کے تعاون سے اتنے کم وقت میں اس طرح کا کامیاب پروگرام آپ کے سامنے پیش کیاجارہاہے،انہوں نے کہا:صدرمحترم جمعیۃ علماء ہند کی جو سوچ ہے،اس کو عملی شکل دینے اور زمین پر اتارنے کے لئے ہم سب اور ہماری ٹیم ذریعہ ہیں،ملک کے حالات سےبھی انہوں نے باخبرکیا۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماءہند کےصدرمحترم نے کہا کہ ان کے لیے جمعیۃ علماء ہی ان کا کنبہ ہے جس کے لیے وہ پوری طرح وقف ہیں، انھوں نے کہا کہ میرا ر شتہ دار وہی ہو گا،جس نے خود کو جمعیۃ کے کاز سے وابستہ کیا ہے۔مولانا مدنی نے جمعیۃ کے ذمہ داروں کو اخلاص اور یک سوئی کے ساتھ،دین، ملک و ملت و انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کرنے کی دعوت دی اور کہاکہ اخلاص کے بغیر اللہ کی توفیق و مدد حاصل نہیں ہوتی۔ جمعیۃ ملت اسلامیہ ہند کی پاسبان جماعت ہے، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کی تحریک کے بعد جمعیۃ علماء ہی ملت کی آبرو ہے، جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے، امت کے زیادہ تر افراد کی امیدیں ہم سے وابستہ ہو جاتی ہیں، اسی وجہ سے جب ہم امید کے مطابق کام نہیں کرپاتے تو وہ تنقید کرتے ہیں۔
اس مذاکراتی اجتماع میں شرکت سے احقر کو بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا،وہ تمام موضوعات جواس اجتماع کے ایجنڈے تھے،ان پر بات ،چیت کے لئے تفصیل درکارہے،پھر کبھی ان شاء اللہ،جمعیۃ علماء ہندکی پوری ٹیم،خاص طورسے اس کے صدرمحترم جناب مولاناسیدمحموداسعدمدنی صاحب ،ناظم عمومی جناب مولاناحکیم الدین صاحب قاسمی،سکریٹری جناب مولانانیازاحمدفارقی صاحب قابل مبارکبادہیں،مولانا محمد رفیق صاحب گجرات کی دعاء پر مذاکراتی اجتماع اختتام پذیرہوا۔
____________________
استاذ جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ
جنرل سکریٹری رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: