مضامین

بہادر شاہ ظفر کا دستر خوان اور ایک تاریخی سچائی

از> محمد ہاشم اعظمی مصباحی نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی 9839171719

آخری مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر کے شاہانہ دسترخوان پر چاول کے پکوانوں میں یخنی پلاؤ، موتی پلاؤ، نکتی پلاؤ، نورمحلی پلاؤ، کشمش پلاؤ، نرگسی پلاؤ، لال پلاؤ، مزعفر پلاؤ، فالسائی پلاؤ، آبی پلاؤ، سنہری پلاؤ، روپہلی پلاؤ، مرغ پلاؤ، بیضہ پلاؤ، انناس پلاؤ، کوفتہ پلاؤ، بریانی پلاؤ، سالم بکرے کا پلاؤ، بونٹ پلاؤ، کھچڑی، شوالہ اور قبولی ظاہری۔ سالنوں میں امید ہے کہ میری طرح آپ نے بھی یہ نام کبھی نہیں سنا ہو گا .قلیہ، دوپیازہ، ہرن کا قورمہ، مرغ کا قورمہ، مچھلی، بینگن کا بھرتا، آلو کا بھرتہ، چنے کی دال کا بھرتہ، بینگن کا دلمہ، کریلوں کا دلمہ، بادشاہ پسند کریلے، بادشاہ پسند دال، سیخ کباب، شامی کباب، گولیوں کے کباب، تیتر کے کباب، بٹیر کے کباب، نکتی کباب، خطائی کباب اور حسینی کباب شامل ہوتے تھے۔ روٹیوں کی یہ اقسام شاید آپ نے انٹرنیٹ پر بھی نہ دیکھی ہو.چپاتیاں، پھلکے، پراٹھے، روغنی روٹی، خمیری روٹی، گاؤدیدہ، گاؤ زبان، کلچہ، غوصی روٹی، بادام کی روٹی، پستے کی روٹی، چاول کی روٹی، گاجر کی روٹی، مصری کی روٹی، نان، نان پنبہ، نان گلزار، نان تنکی اور شیرمال۔ میٹھے کی طرف نظر ڈالیے ۔متنجن، زردہ مزعفر، کدو کی کھیر، گاجر کی کھیر، کنگنی کی کھیر، یاقوتی، نمش، روے کا حلوہ، گاجر کا حلوہ، کدو کا حلوہ، ملائی کا حلوہ، بادام کا حلوہ، پستے کا حلوہ، رنگترے کا حلوہ۔اب ذرا شاہی دسترخوان کے مربّوں سے بھی شادکام ہو لیجئے مربے ان قسموں کے ہوتے تھے.آم کا مربا، سیب کا مربا، بہی کا مربا، ترنج کا مربا، کریلے کا مربا، رنگترے کا مربا، لیموں کا مربا، انناس کا مربا، گڑھل کا مربا، ککروندے کا مربا، بانس کا مربا۔ کھانے کے بعد میٹھا بھی ضروری ہے لذت دہن کے لئے تو اس شاہی دسترخوان کی مٹھائیوں کی اقسام یہ ہوتی تھیں.جلیبی، امرتی، برفی، پھینی، قلاقند، موتی پاک، بالو شاہی، در بہشت، اندرسے کی گولیاں، حلوہ سوہن، حلوہ حبشی، حلوہ گوندے کا، حلوہ پیڑی کا، لڈو موتی چور کے، مونگے کے، بادام کے، پستے کے، ملاتی کے، لوزیں مونگ کی، دودھ کی، پستے کی بادم کی، جامن کی، رنگترے کی، فالسے کی، پیٹھے کی مٹھائی اور پستہ مغزی۔
یہ مزےدار رنگا رنگ کھانے سونے اور چاندی کی قابوں، رکابیوں، طشتریوں اور پیالوں پیالیوں میں سجے اور مشک، زعفران اور کیوڑے کی خوشبو سے مہکا کرتے تھے۔ چاندی کے ورق الگ سے جھلملاتے تھے۔ کھانے کے وقت پورا شاہی خاندان موجود ہوتا تھا جس وقت یہ فضول لوگ اس قسم کے کھانوں سے لطف لے رہے تھے اس وقت تن کے گورے من کے کے کالے انگریز اپنے لشکر اور توپوں کو صیقل کر رہے تھے اور جدید سہولیات سے مرفہ کرنے میں مصروف تھے.اور تاریخ گواہ ہے کہ شاہی خاندان کے ساتھ پر تکلف دسترخوان پر لذت کام و دہن میں مصروف رہنے والے یہی بہادر شاہ ظفر رنگون کی جیل میں سوکھی نان کو پانی میں بھگو بھگو کر کھا رہے تھے. شاید آپ کو ناگوار لگے لیکن یہ ایک زمینی سچائی ہے اس کے برعکس ایک 65 سالہ بوڑھی انگریز عورت گولڈا مئیر جس کو تاریخ آئرن لیڈی کے نام سے یاد کرتی ہے جس نے عربوں کو آگے لگا کر بھاگنے پر مجبور کیا تھا اور اپنی شرائط پر صلح کیا تھا اس سے واشنگٹن پوسٹ کے ایک صحافی نے پوچھا تھا کہ میڈم آپ نے امریکہ کے ساتھ اسلحہ خریدنے کے لیے جنگ کے دوران ایک انتہائی مہنگی ڈیل کی تھی حالانکہ اس وقت اسرائیل کی معیشت بہت زیادہ خراب تھی جسکی وجہ سے آپ کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے تو کیا آپ کو امید تھی کہ آپ یہ جنگ جیت لیں گی اور آپ کو اس وقت کیا محسوس ہوتا تھا جب آپ یہ ڈیل کر رہی تھیں؟ اس عیار عورت نے جواب دیا تھا کہ جب آپ عیاشی کے لیے پیسے اڑانا کرنا شروع کر دیتے ہیں تو آپ کے ارادے اور ادارے کمزور ہو جاتے ہیں اور آپکی دفاعی حکمت عملی خاکستر ہو جاتی ہے اور مجھے پتا تھا کہ میں یہ سب کچھ اپنی قوم کے لئے کر رہی ہوں.میں نے کہیں پڑھا تھا کہ مسلمانوں کے نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر کی دیوار پر انتہائی غربت اور فاقہ کشی کے باوجود آخری وقت میں بھی تین تلواریں ٹانگی ہوئی تھیں اور اسی واقعہ نے مجھ کو ہمت دی تھی کہ میں یہ ڈیل کروں اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے.آج بحثیت مسلمان ہم پستی و گراوٹ کی جن حدود کو چھو رہے ہیں اللہ ہی رحم کرے.کیونکہ دو دو سو منزلہ عمارتیں بنانے کے لیے اور ایک رات میں ڈانسرز پر پچاس پچاس کروڑ روپے اڑانے کے لئے تو ہمارے پاس بہت کچھ ہے جب کہ غریب مسلم ممالک میں بچے ایک وقت کی روٹی بھی حاصل نہیں کر سکتے ہیں.پینے کا پانی نہیں ہے باقی سہولیات تو بہت بعد میں آتی ہیں.آج ہماری ترجیحات عیاشیاں ہیں نہ کہ اسلام کی بقا کے لئے تیاریاں اللہ تعالٰی ہم سب کو ہدایت دے کیونکہ مسلمانوں کا اصل شیوہ عیاشی نہیں فقر اور غیرت ہو نا چاہیے موجودہ فلسطین معاملے میں بھی بالآخر جیت اسرائیل کی ہی ہوگی کیونکہ ہمارے مسلمان سربراہان کے ناپاک اجسام کو گندگی کے ڈھیر اور عیاشی کے سامان امریکہ اور اسرائیل ہی فراہم کرتے ہیں اور یہ بےغیرت اس کے بغیر رہ نہیں سکتے اسی کا نتیجہ ہے کہ آج متحدہ عرب امارت کے عیاش سربراہان مملکت نے اسرائیل جیسے مسلم دشمن ملک نہ صرف یہ کہ تسلیم کر لیا ہے بلکہ مفاہمت و معاہدے بھی طے کر لئے گئے ہیں ہم نےحضرت سیف اللہ کا یہ قول بھلا دیا ہے”جب تلواروں کو زنگ لگ جائے تو وہ صرف رقص کے کام آتی ہیں”

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: