غزل

بے عمل ہی نہیں تو دین سے بیزار بھی ہے

🖋: محمد طارق قاسمی لکھیم پوری

حکمِ شاہی بھی ہے، جلاد بھی ، تلوار بھی ہے
کسی منصور میں اب جُرءتِ اظہار بھی ہے؟

شیخ جی کے لئے اب دَیر و حرم یکساں ہیں
لب پہ کلمہ بھی ہے اور دوش پہ زُنّار بھی ہے

عشق سادہ ہے تکلف سے اُسے کیا مطلب
حسنْ مغرور و ریا کار ہے ، عیار بھی ہے

تم کو شکوہ ہے کہ موجود نہیں جلوہء طور
مومنو! تم میں کوئی طالبِ دیدار بھی ہے؟

کیسے بڑھنا ہے تمہیں جانبِ منزل،سوچو
راہ تاریک ہے اور سامنے دیوار بھی ہے

صرف رہزن ہی بھلا مورد الزام ہے کیوں
شاملِ جرم تو یہ قافلہ سالار بھی ہے

تیرا کیا ہوگا مسلمان ذرا تو ہی بتا
بے عمل ہی نہیں تُو دین سے بیزار بھی ہے

لغات:
منصور : ایک مشہور صوفی جنکو "اناالحق” کہنےکی وجہ سے قتل کیا گیا، پورا نام حسین بن منصور حلاج
دَیر : مندر
دوش: کندھا
زنار : وہ دھاگہ جو پجاری ایک طرف کے کندھے پر ڈال کے دوسری طرف کی بغل سے نکالتا ہے

Tags
مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close