مضامین

تاجدارِ تحقیق و تصنیف محمود حسنی مقام محمود کے قریب پہنچ گئے

محمد عامل ذاکر مفتاحی متعلم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

یہ امر حقیقی ہے کہ دنیائے انسانی میں ہر شخص کو ایک نہ ایک دن مالک حقیقی سے جا ملنا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے "کل نفس ذایقة الموت” کہ ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہر دن بے شمار انسان موت کی نیند سلا دیے جاتے ہیں لیکن بعض ایسی شخصیتیں ہیں جن کے جانے سے صرف ایک گھر ، علاقہ ، بستی ، قریہ ، ملک کا خسارہ نہیں ہوتا بلکہ پورے عالم کا خسارہ ہوتا ہے ٹھیک ایسی ہی شخصیت نمونہ سلف و صالحین ، نواسہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمود حسنی ندوی ؒ بھی داغ مفارقت دے گئے جن کے جانے سے پورے عالم بالخصوص علمی و ادبی ، ثقافتی و تہذیبی ، تصنیفی و تحقیقی دنیا کا ناقابلِ تلافی خسارہ واقع ہوا ہے ، شاید ایسی ہی شخصیت کے بارے میں شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ نے کہا ہے ،
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

حضرت ندوی ؒ کی ولادت :

یہ سورج لکھنؤ میں ٢٨ جمادی الاولی ١٣٩١ھ مطابق ٢٢ جولائی ١٩٧١ء کو حسنی خوش حال و نیک صالح خاندان میں طلوع ہوا ، اور اعلیٰ اوصاف و کمالات کے جامع ترین حاملین اشخاص کے ذریعے ارتقاء نشوونما اور پرورش و پرداخت کی منزلیں طے کرتے رہے ، اس منفرد تربیت کا اثر یہ ہوا کہ آپ ندوی ؒ وقت گزاری و بیہودہ گوئی ، کھیل کود سے کنارہ کشی اختیار کرتے تھے اور قلم و دوات کو مضبوطی سے تھامے رہتے تھے جس کے باعث آپ قلمی دنیا میں شہرت کا لوہا منوایا ۔

ندویؒ کا تعلیم سلسلہ:

ندوی ؒ ندوۃ العلماء کے ایک مکتب میں تعلیمی سلسلہ کا آغاز کیا اور پورے ذوق و شوق کے ساتھ علم دین حاصل کیا ، اور عربی درجات کی تعلیم مدرسہ ضیاء العلوم رائے بریلی میں حاصل کی ، اس کے بعد یہ نیر تاباں نے ثانویہ اور عالمیت کی تکمیل کے لیے دارالعلوم ندوۃ العلماء کا رخ کیا اور اپنی علمی پیاس کو بجھاتے رہے ، بعد ازاں حدیث شریف کا دو سالہ کورس ١٩٩٢ء میں کیا جس سے صلاحیت میں مزید چار چاند لگ گئے اور ساتھ ہی حاضر جوابی بھی پیدا ہو گئی اور اس کے بعد آپ کا علمی رجحان المعھد العالی للدعوۃ و الفکر الاسلامی ایک سالہ کورس کی جانب ہوا اس کورس سے بھی آپ نے خوب فائدہ اٹھایا اور ساتھ ہی آپ کی قابلیت میں نکھار ابھرا آپ ندوی ؒ نے تعلیمی سلسلہ کو یہی مکمل کر لیا ۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ آپ ندوی ؒ کو استاذ العلماء اور وقت کے شیخ المشائخ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی نور اللہ مرقدہ کے زیرِ سایہ علمی سفر طے کرتے رہے اور انہی کے سایہ عاطفت و شفقت میں زندگی کے مراحل گزارتے رہے

تدریسی خدمات :

درس و تدریس کا آغاز مدرسہ ضیاء العلوم سے ہی کیا جہاں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہوتی ہے کہ انسان جس ادارہ سے تعلیم حاصل کی ہو پھر وہی تدریسی خدمات بھی انجام دے اور کمال یہ کہ اس کے ساتھ ہی ساتھ آپ رائے بریلی میں تصنیف و تحقیق سے بھی وابستگی اختیار کرلی ، اور اس قدر جد و جہد کے دامن کو تھاما کہ دنیائے انسانی نے آپ ندوی ؒ کی تصنیفی و تحقیقی خدمات اعتراف کرنے پر مجبور ہوگئی کئی سالوں تک اپنے علم و معرفت سے طالبان علوم نبوت کی علمی پیاس کو سیراب کرتے رہے ، آپ ندوی ؒ کے بے شمار شاگرد موجود ہیں جو مختلف علمی و ادبی میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ دکھا رہے ہیں ۔

رسالہ تعمیر حیات اور آپ ندویؒ کی خدمات :

١٥ روزہ تعمیر حیات ندوۃ العلماء لکھنؤ سے شائع ہونے والا ہندوستانی سطح ہی پر نہیں بلکہ عالمی سطح کا واحد رسالہ ہے جس میں نامور و بے باک صلاحیت سے لبریز شخصیتوں کے علمی ، ادبی ، تحقیقی ، اصلاحی ، تبلیغی و روحانی مضامین کی اشاعت ہوتی ہے کی خدمت میں ٢٠٠١ء سے معاون ایڈیٹر کے طور پر وابستہ رہے اور معاونت کا حق کما حقہ نبھاتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ ہی عرصہ کے بعد آپ کی شخصیت و قابلیت کو سراہتے ہوئے نائب مدیر کے منصب پرفائز کردیا گیا اور ہمہ جہتی کے ساتھ آپ خدمت انجام دیتے آرہے تھے ۔

تصنیفی و تالیفی خدمات :

آپ ندوی ؒ درجنوں کتابوں کے مصنف ، مرتب ، مولف ہیں جن میں بالخصوص مذکورہ کتابیں قابل ذکر ہیں
(١)تاریخ اصلاح و تربیت
(٢)سوانح محی السنہ حضرت مولانا ابرار الحق حقی ؒ
(٣)سیرتِ داعی اسلام حضرت مولانا سید عبد اللہ حسنی ندوی ؒ
(٤)سوانح حیات حضرت مولانا عبد الباری ندوی ؒ
(٥)فرشتہ صفت انسان مولانا عبد الباری ؒ
(٦)سلاسل اربعہ
(٧)سوانح حضرت مولانا سید محمد ثانی حسنی ندوی ؒ
(٨)تذکرہ مولانا عبد الباری ندوی بھٹکلی ؒ
(٩)تذکرہ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ
(١٠) عائشہ بی
یہ تو مولانا ندوی ؒ کی اہم تصنیفات ہیں ان کے علاوہ بھی درجنوں کتاب لکھی ہیں ، ان کی اہم خاصیت یہ تھی کہ ہمیشہ علمی و دعوتی موضوعات پر ہی محیط ملاقاتیں اور باتیں کرتے تھے مولانا نفیس خان‌ ندوی کی ایک تحریر راقم الحروف نے پڑھی جس میں لکھا ہے کہ ” جب کبھی افاقہ ہوا کسی کتاب کی بابت ہی دریافت کیا ، چند دن قبل گفتگو ہوئی تو حال خیریت کے بجائے زیر ترتیب کتاب کا تزکرہ کیا ، اس کی اشاعت کے لئے فکر مندی کا اظہار کرتے تھے ” (دوسری تحریر) ” یہ کہ حضرت ندوی ؒ حالت مرض میں بھی علمی خدمات انجام دیتے رہے اور چند رسالے و کتابیں مرتب بھی کی تھیں اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی رسالہ درود و سلام کی اشاعت بھی ہے تقریباً دو ماہ قبل جب مولانا بستر مرض پر تھے لیکن جسم میں کچھ توانائی تھی اور اٹھنے بیٹھنے کی سکت رکھتے تھے اس وقت مولانا نے یہ رسالہ مرتب کیا تھا ، مولانا کی دیگر علمی کاوشوں کی طرح اس رسالہ کو بھی پسند کیا گیا ، دس محرم الحرام کو شوکت علی احاطہ میں مولانا عبدالعلیم فاروقی اور مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی نے رسالہ درود و سلام کا اجراء کیا، اس موقع پر مولانا کی صحت کے لیے دعا کا اہتمام بھی کیا گیا تھا ، مولانا نے بڑے شوق سے یہ رسالہ مرتب کیا تھا اور مسلسل اس کی طباعت کے لیے فکر مند تھے لیکن خدا کی مرضی رسالہ چھپ کر آگیا، اہل تعلق نے رسالہ کا مطالعہ بھی کیا اور مولانا کے حسن ترتیب و پیش کش پر آفرین بھی کہا لیکن مولانا اب اس دنیا میں نہیں ہیں کہ وہ اپنی اس کاوش کو دیکھ سکیں ،

اہم اور ضروری بات :

مولانا ندوی ؒ ماہانہ ” رضوان ” لکھنؤ کے معاون مدیر اور دار عرفات رائے بریلی کے ترجمان ” پیام عرفات” کی مجلسِ ادارت میں بھی شامل تھے اور نائب مدیر تعمیر حیات بھی تھے ، آپ کی والدہ سیدہ امامہ حسنی تھی اور آپ ندویؒ مولانا محمد ثانی حسنی ؒ کے حقیقی نواسہ تھے ، مفتی مسعود حسنی ندوی دارالافتاء دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ اور سید منصور حسن حسنی آپ ندوی ؒ کے حقیقی بھائی ہیں ، سیدہ عائشہ حسنی اور حافظہ سیدہ شمامہ حسنی آپ ندوی ؒ کی بہنیں ہیں ، آپ ؒ کی والدہ محترمہ حضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی اور حضرت مولانا سید واضح رشید ندوی ؒ کی چہیتی خدمت گزار ، سخاوت مند اور محبت کرنے والی خاتون تھیں ، واضح رہے کہ آپ ندوی ؒ کے اچانک وفات سے مولانا سید رابع حسنی ندوی صاحب کو جس قدر صدمہ پہنچا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل تر ہے ، غور تو کریں ادھر ادھر پچھلے چند سالوں میں مرشد الامت کو کئی حادثوں سے دور چار ہونا پڑا ، پہلے مولانا عبداللہ حسنی ندوی ؒ کا انتقال ہوا اس کے بعد آپ کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا واضح رشید ندوی ؒ حادثہ وفات پیش آیا ، ابھی غم کم بھی نہ ہوا تھا کہ کہ پچھلے سال مولانا حمزہ حسنی ندوی کا سانحہ ارتحال ہوگیا اور اب مولانا محمود حسنی ندوی بھی دار فانی سے دار بقاء کی جانب رخت سفر باندھ لئے ۔ ایسے شخص کے چلے جانے پر یہ مصرعہ یاد آتا ہے
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے

ندوی ؒ کی وفات :

حضرت ندوی ؒ کئی سالوں سے بیمار تھے لیکن عید الاضحی سے مرض کی شدت اضافہ ہوتا گیا اس وجہ سے آپ ندوی ؒ کا جسم بہت کمزور ہوگیا تھا ، چند روز قبل شدید علیل ہونے کی اطلاعات گردش کرنے لگی اور دعائے صحت کی درخواست بادل کے گرجنے کی طرح موصول ہونے لگی بالآخر ٥١ سال کی عمر کو تمام کرتے ہوئے وقت موعود نے آپ کو آ پکڑا ، جانکاہ حادثہ کی خبر نے سبھوں کو سکتہ میں ڈال دیا اور مورخہ ١٣ محرم الحرام ١٤٤٤ھ مطابق ١٢ اگست ٢٠٢٢ بروز جمعہ اس دارفانی سے کوچ کرگئے ، بعد نماز جمعہ ایک جم غفیر نے دارلعلوم ندوۃ العلماء میں حضرت ندوی ؒ کی نماز جنازہ ادا کی راقم الحروف نے بھی صف اول میں نماز جنازہ ادا کی اور دوسری نماز جنازہ تکیہ کلاں رائے بریلی میں ادا کی گئی اور وہیں تدفین بھی عمل میں آئی ۔۔
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: