مضامین

تاریخ جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ قسط 01

ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی سابق صدر جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ

سنتھال پرگنہ
جغرافیہ و تاریخ
مشرقی بھارت کی ایک ریاست جھارکھنڈ ہے۔ اس کے شمال مشرق میں ایک کمشنری”سنتھال پرگنہ“کے نام سے موسوم ہے جو 24.83 ° N 87.22 ° E پر واقع ہے۔اس کی اوسط شرح بلندی ۷۷/ میٹر (۲۵۲ فٹ) ہے۔سنتھال پرگنہ دو لفظوں کا مجموعہ ہے: سنتھال اس علاقے میں رہائش پذیر قبائلی قوم کا نام ہے، جب کہ پرگنہ فارسی کا لفظ ہے، جس کے معنی ہے: ”ضلع“۔1845-55ء میں سنتھال کے دو لیڈر سدھو اور کانہو مرمو نے انگریزوں کے کالونیوں کے خلاف بغاوت سے اپنی تحریک کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں بھاگل پور اور بیربھوم سے کاٹ کر سنتھال پرگنہ نامی ضلع بنایا گیا تھا۔پہلے یہ بنگال کے زیر انتظام تھا، جو بعد میں بہار کے ماتحت کردیا گیا۔غیر منقسم بہار میں 25/ مئی 1983ء کو سنتھال پرگنہ کو چار اضلاع: گڈا، دمکا، دیوگھراور صاحب گنج میں تقسیم کردیا۔پھر دمکا سے جامتاڑا اور صاحب گنج سے پاکوڑ ضلع بنایا گیا۔ 15/ نومبر2000 ء میں بہار سے جھارکھنڈ بننے کے بعد یہ اضلاع جھارکھنڈ کے زیر انتظام آگئے۔
مہابھارت کے زمانے میں سنتھال پرگنہ ”انگا مہاجن پد“ کا حصہ تھا، جس کا راجا دُریودھن نے ”کرن“ کو بنایا تھا۔ بودھ کے قدیم ادب میں اس علاقہ کو ”کجنگالا“ کہا گیا ہے۔
تعلیمی و مذہبی رجحانات
سنتھال پرگنہ قبائلی آبادی والا ضلع سمجھا جاتا ہے، گرچہ غیر قبائلیوں کی بڑی آبادی بھی موجود ہے۔ یہ تصور اس علاقے کو جہالت و ضلالت کی تاریکی میں رکھنے کے لیے کافی تھا۔ چنانچہ آج بھی اس علاقہ میں اس تصور کی حکمرانی ہے اور جہالت و ناخواندگی اور پسماندگی اس کی شناخت بن چکی ہے۔ آزادی سے قبل سرکاری اسکول تو بالکل ندارد تھے، مدارس کا وجود بھی آٹے میں نمک کے برابر تھا۔ انتہائی قدیم مدارس میں مدرسہ شمسیہ گورگاواں (سن قیام 1901) اور مدرسہ سلیمانیہ سنہولا ہاٹ (سن قیام: 1929ء) تھا۔ اول الذکر ضلع سے تقریبا پچاس کلو میٹر اور آخر الذکر بھی تقریبا اتنے ہی فاصلے پر دوسری سمت واقع ہے۔ اور ظاہر ہے کہ دو ادارے پورے ضلع کی تعلیمی کفالت کرنے سے قاصر تھے۔ اس لیے یہاں کے باشندگان دینی اور دنیوی دونوں تعلیم سے نابلد تھے۔
ایک متعصب ہندو سوامی دیانند سرسوتی اور اس کے شاگرد سوامی شردانند کی جانب سے 1920ء میں شدھی نام کی ایک تحریک شروع کی گئی۔ اس تحریک کے تحت غیر ہندو؛ بالخصوص مسلمانوں کو جبری طور پر اپنا مذہب تبدیل کرکے ہندو مت میں داخل کرایا جارہا تھا۔ اس کا بنیادی ایجنڈا ان لوگوں کو جنھوں نے اسلام قبول کیا تھا اپنے آبائی مذہب یعنی ہندوازم کی طرف واپس لانا تھا۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ہندستان کے مسلمان اپنے موروثی مذہب سے بھٹکے ہوئے ہندو ہیں۔ لہٰذا ان کو کسی بھی قیمت پر اپنے موروثی مذہب کو قبول کروانا ہے۔
انجمن اسلامیہ کی تشکیل
اس تحریک نے جہاں بھارت کے دیگر حصوں کو متاثر کیا، وہیں گڈا کے ناخواندہ مسلمان بھی متاثر ہوئے اور موضع کھٹنئی کے قریب واقع مارا ٹیکر گاوں کا ایک فرد مرتد ہوگیااور دوسرے بھائی کو مرتد ہونے کے لیے لالچ اور مجبور کیا جانے لگا۔ اس واقعہ کی اطلاع دگھی کے عالم مولانا محمد حبیب عالم صاحب کو ہوئی، تو انھوں نے امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کو ایک خط لکھ کر یہاں کے حالات سے آگاہ کیا۔ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے علیٰ الفور امارت نے اپنے مبلغ مولانا عبدالہادی صاحب کو بھیجا۔ چنانچہ وہ یہاں تشریف لائے اور حالات کے جائزہ کے بعد علاقے کے سرکردہ افراد کی ایک میٹنگ کی جس میں ”انجمن اسلامیہ“ کی تشکیل کی گئی۔یہ 1926۱ء کا واقعہ ہے۔ مولانا محمد محی الدین صاحب کو صدر اور مولانا محمد حبیب عالم صاحب کو نائب صدر چنا گیا۔ اس انجمن نے گڈا اور اس کے اطراف میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور جمعیۃ علماء ہند اور امارت شرعیہ کے پروگراموں میں اپنی نمایاں خدمات پیش کیں۔ انجمن نے اپنے دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے ”حزب اللہ“ نام کی رضاکاروں کی ایک ٹیم بھی تشکیل دی، جس کے لیے جمعیۃ علماء ہند کا جھنڈا اور ایک مخصوص وردی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ رضاکاران اپنے قائدین کی ہدایت کے مطابق رفاہی و ملی خدمات انجام دیتے تھے۔حصول آزادی کے لیے انھوں نے متعدد بار جلوس نکالے اور نعرہ لگائے، جس کی پاداش میں انھیں گرفتار بھی کیا گیا۔ اس ٹیم کے اپنے مخصوص اشعار تھے، جنھیں رجز کے طور پر گاتے تھے اور دلوں کو گرماتے تھے۔ وہ اشعار یہ ہیں: ؎
عزم کرو تم آزادی کا
غم نہ کرو تم بربادی کا
لے کر ہم آزادی چھوڑیں گے
اب چین کی نیند نہیں سوئیں گے
بن مرد مجاہد ائے مسلم
بن مرد مجاہد ائے مسلم

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: