مضامین

تاریخ جمعیۃ علماء ضلع پاکوڑ

ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی سابق صدر جمعیت علمائے سنتھال پرگن

نوٹ
جمعیۃ علماء ضلع پاکوڑ کی تشکیل کی تفصیلات نہیں مل سکی۔ یہاں کے موجودہ ذمہ داران سے بار بار رابطہ کے باوجود کوئی کامیابی نہیں ملی۔ اس لیے جتنی معلومات دستیاب ہوسکی ہیں، انھیں پیش کیا جارہا ہے۔
اجلاس اصلاح معاشرہ جمعیۃ علماء پاکوڑ
3/ دسمبر1996ء بروز منگل تھانہ کی سطح پر پاکوڑیا میں بعد نماز مغرب زیر صدارت مولانا عبد المتین صدر جمعیۃ علماء پاکوڑ اصلاح معاشرہ کا اجلاس ہوا۔جس میں مدعوئین خصوصی کی حیثیت سے جناب ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی کنوینر اصلاح معاشرہ کمیٹی سنتھال پرگنہ اور مولانا مختار احمد اعظمی مدرسہ جامعہ حسینیہ جون پور یوپی سے بسلسلہ اصلاح معاشرہ تحریک جمعیۃ علماء ہند شامل ہوئے۔اس میں اکثر گاوں کے ذمہ دار شریک تھے۔حافظ غلام رسول ڈومن گڑیا نے تلاوت کی۔ صدر جلسہ کے افتتاحی خطاب کے بعد مفتی محمد شمس الدین قاسمی سکریٹری مدرسہ عربیہ تجوید القرآن پاکوڑیانے پر اثر تقریرکی۔ ناظم اعلیٰ مشتاق احمد نے سکریٹری رپورٹ میں ضلع اور علاقہ کی مفصل رپورٹ پیش کرتے ہوئے یہاں کی کارگزاریوں اور ضرورتوں کا تذکرہ کیا۔ محکمہ شرعیہ کے ذریعہ مقدمات کا فیصلہ اور مسلم فنڈ کے ذریعہ سماجی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ کی ایک کاپی مرکزی جمعیۃ کے لیے مولانا مختار احمد کے حوالہ کیا۔ ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی نے زندگی کو سنت کے مطابق گذارنے، محکمہ شرعیہ کی ضرورت واہمیت، مسلم فنڈ کو کارگر طریقے پر چلانے اور گاوں گاوں میں اصلاحی کمیٹیاں بنانے کے طریقوں پر پرزور خطاب کیا۔ مہمان خصوصی مولانا مختار احمد صاحب نے اپنے ایک گھنٹہ کی تقریر میں مختلف اسلامی موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ مولانا محمد راشد علی کھٹنوی نے فدائے ملتؒ کی شان میں نظم پیش کی۔
اس اجلاس میں اس سے پہلے 15/ اپریل1992ء کو پاکوڑیا میں ہوچکی ملی و تعلیمی کانفرنس کی آمدو خرچ کا حساب بھی پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ضلع پاکوڑکی سطح پر محکمہ شرعیہ کا قیام عمل میں آیا اور اس کے لیے درج ذیل اراکین منتخب کیے گئے:
۱۔ صدر:مولانا مفتی حافظ محمد حسیب اللہ قاسمی ردی پور مہیش پور۔ ۲۔ مولانا مفتی محمد شمس الدین قاسمی پاکوڑیا۔ ۳۔ مفتی محمد جلال الدین قاسمی رولا گرام مہیش پور۔ ۴۔ مفتی محمد عین الحق قاسمی ردی پوری۔ ۵۔ مولانا عبدالمتین بوڑھا مہیش پور، ناظم دفتر۔ ۶۔ مولوی محمد شرف الزماں ایڈو کیٹ پاکوڑ۔ ۷۔ مولانا عبدالرزاق قاسمی مدرسہ اسلامیہ امڑا پاڑہ۔
مشتاق احمد اور مفتی حسیب اللہ نے حاضرین اور مہمانوں کو شکریہ ادا کیا۔ مہمان محترم مولانا مختار احمد اعظمی کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا۔
جمعیۃ علماء پاکوڑ کی جائزہ میٹنگ
۵/ جنوری 1997ء بروز اتوار ۹/ بجے دن مدرسہ پاکوڑیا زیر صدارت مشتاق احمد علاقہ کے نمائندہ حضرات کی اہم میٹنگ ہوئی۔ ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی صاحب کنوینر اصلاح معاشرہ سنتھال پرگنہ بالخصوص شریک ہوئے۔ ابتدائی کارروائی کے بعد حسب ذیل تجاویز پاس ہوئیں:
(۱) تھانہ کے کل اٹھائیس گاوں کا سروے کرکے ایک مفصل رپورٹ عید کے بعد جمع کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ اس کے مطابق آئندہ منصوبہ بنایا جاسکے۔
(۲) جملہ بستیوں کے بچوں کی تعلیم، خصوصا دینی تعلیم کا نظم کرنے کے لیے سردست یہ فیصلہ لیا گیا کہ فی الحال جس گاوں میں مکتب یا اسکول قائم ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ کسی طرح کا نظم نہ ہوتو صباحی یا شبینہ یا جز وقتی پروگرام چلایا جائے۔ مالی مشکلات کے حل کے لیے مشت برکت (مٹھیا) کا سلسلہ شروع کیا جائے۔
(۳) وقت، دولت، عزت اور دین و ایمان کے تحفظ کے لیے عدالتوں کے بجائے محکمہ شرعیہ سے رجوع کیا جائے۔
(۴) سنت کے مطابق شادی بیاہ کرنے کی ترغیب دلانے کے لیے درج ذیل طریقے طے کیے گئے:
(الف) باراتیوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ پچیس رہے۔
(ب) رشتہ طے کرتے وقت ہی مہربھی طے کردیا جائے۔ کم از کم پانچ ہزار اور زیادہ سے زیادہ مہر فاطمی طے کیا جائے۔ ذمہ دار حضرات مہر کی دائیگی نقد کرنے یا کچھ نقد اور کچھ ادھار کرنے کا ماحول بنائیں۔
(ج) لڑکی والے کے یہاں کھانا شرعا منع ہے، اس سے پرہیز کیا جائے۔
(د) لڑکا والا نکاح سے پہلے رسمی دعوت کھلانے کے بجائے نکاح، رخصتی اور میاں بیوی کے ملن کے بعد ولیمہ کی دعوت کھلانے کا اہتمام کریں۔
(ھ) یہ انتہائی ذلت کی بات ہے کہ لڑکا والا مہر نہ تو نقد ادا کرتا ہے اور نہ ہی ادھار ادا کرنے کی فکر کرتا ہے، بلکہ اس کے برخلاف لڑکی والوں سے تلک اور جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس غلط رسم کی وجہ سے سماج بڑی پریشانی میں مبتلا ہے، اس لیے نوجوانوں اور ان کے گارجنوں سے گذارش ہے کہ وہ بغیر جہیز کے سنت کے مطابق شادی کرنے کو فروغ دیں۔
(و) ایسا ماحول تیار کیا جائے کہ طلاق کی نوبت نہ آئے، لیکن اگر نبھاو نہ ہوسکے تو اولا رشتہ دار تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر رشتہ دار سے بھی بات نہ بنے، تو پھر محکمہ شرعیہ سے رجوع کریں۔
(ز) لیکن اگر طلاق دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوتو طلاق حسن دیں، ہرگز ہرگز تینوں طلاق ایک ساتھ نہ دیں، جو لوگ ایسا کریں، اس کے خلاف سختی برتی جائے۔
(ح)جو لڑکے شرعی طریقے کے خلاف طلاق دے دے، اس کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے اور دوبارہ نکاح کے لیے لڑکی دینے سے پرہیز کیا جائے۔ اور جو لڑکی والے بغیر مشورہ یا اطلاع کے ایسے لڑکے کے ساتھ نکاح کرے، تو اس کے ساتھ بھی سختی کا معاملہ کیا جائے۔
(ط) طلاق دینے کی صورت میں بلا تاخیر مقررہ مہر اور عدت کا خرچ لڑکا یا اس کے گارجین کو دینا ہوگا۔ خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔
(ی) نکاح کا معاملہ درست رکھنے کے لیے یا کسی طرح کا قضیہ ہوجائے تو اس کو حل کرنے کے لیے گاوں کے ذمہ داروں سے گذارش کی جاتی ہے کہ وہ اپنے یہاں باضابطہ ایک رجسٹر رکھیں۔ مقرر کردہ قاضی سے ہی نکاح پڑھوائیں، البتہ قاضی کی اجازت سے دوسرے افراد بھی نکاح پڑھا سکتے ہیں۔
(۵) میت کو ثواب پہنچانے کے لیے رشتہ داروں یا متعلقین کو کھانا کھلانے کا جو رواج ہے، جس سے بالعموم غریب لوگ بہت زیادہ پریشانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں، یہ شرعا ناجائز ہے، اس لیے اسے علیٰ الفور ختم کیا جائے۔ اور ایسی دعوت میں شرکت سے بالکلیہ گریز کیا جائے۔
(۶) الحمد اللہ اکثر گاوں میں اصلاح معاشرہ کمیٹی کی تشکیل ہوچکی ہے اور ذمہ دار حضرات اس میں دلچسپی لے رہے ہیں، اس میں ہدف مقرر کرکے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اور جس جس گاوں میں ابھی اصلاحی کمیٹی نہیں بنی ہے، وہاں جلد از جلد اس کی تشکیل کرکے اس کی رپورٹ ضلع دفتر کو بھیجی جائے۔ اسی طرح یہ گذارش بھی کی جاتی ہے کہ ہر سہ ماہی رپورٹ کو پابندی کے ساتھ ضلع دفتر بھیجیں، کیوں کہ انھیں رپورٹوں کی بنیاد پر ریاستی و مرکزی دفتروں کو رپورٹ بھیجی جاتی ہے۔
(۷) تنظیم کے استحکام کے لیے بنیادی ممبرسازی کا جائزہ لیا گیا اور ہدایت دی گئی کہ عید کے بعد مقامی جمعیۃ کا انتخاب کرکے ذمہ داروں کی فہرست کے ساتھ ادھ کٹی رسید کی جلدیں اور کوٹہ کی رقم حوالہ کردیں تاکہ ضلع کا انتخاب کرانے میں سہولت ہو۔
(۸) اجلاس اصلاح معاشرہ منعقدہ ۳/ دسمبر 1996ء بمقام پاکوڑیا کا گوشوارہ آمدو خرچ مفصل پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ کل آمد دو ہزار چار سو تینتالیس روپیے، اور خرچ دو ہزار چار سوبیالیس روپیے، پچاس پیسے ہوئے، یعنی کل پچاس پیسے کی بچت ہوئی۔ سامعین نے اطمینان کا اظہار کیا اور خواہش ظاہر کی کہ اس طرح کا پروگرام رکھا جانا مفید ہے۔ ظہر سے قبل دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا۔
جمعیۃ علماء پاکوڑکی عوامی میٹنگ
۶/ اکتوبر2001ء بروز سنیچر مدرسہ ہال پاکوڑیا میں زیر صدارت حاجی شوکت علی ڈھیکی ڈوبا تھانہ کی سطح پر ایک عوامی میٹنگ ہوئی۔ ابتدائی کارروائی کے بعد مقامی ذمہ داروں کا انتخاب ہوا۔ نگراں انتخاب جنرل سکریٹری ضلع جمعیۃ پاکوڑ مشتاق احمد صاحب رہے۔ گذشتہ تجاویز کو تفصیل سے پیش کرکے کارروائی درج کی گئی۔ اس میں اکثر گاوں کے ذمہ دار کافی تعداد میں موجود تھے مفتی محمد شمس الدین قاسمی کی دعا پر مجلس ختم کی گئی۔
انتخابی جلسہ جمعیۃ علماء پاکوڑ
14/ اکتوبر2001ء بروز اتوار12/ بجے دن زیر صدارت محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی صاحب بمقام مسجد جامعہ اطہریہ ہرن ڈنگا پاکوڑ ضلع جمعیۃ پاکوڑ کا انتخابی اجلاس ہوا۔ کافی تعداد میں ذمہ دار شریک ہوئے مفتی مولانا محمد جلال الدین قاسمی کی تلاوت قرآن پاک سے اجلاس کا آغاز کیا گیا۔ ایصال ثواب کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی گئی۔ مولانا عبدالمتین نے زبانی خطبہ صدارت پیش کیا۔ ناظم اعلیٰ ماسٹر مشتاق احمد نے سکریٹری رپورٹ پیش کی۔ جناب ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی نے جمعیۃ علماء ہند کا مختصر تعارف پیش کیا۔ اور پہلی نشست اختتام پذیر ہوئی۔
دوسری نشست بعد نماز ظہر شروع ہوئی، جس میں اتفاق رائے سے درج ذیل عہدیداران کا انتخاب کیا گیا:
۱۔ صدر مفتی محمد جلال الدین قاسمی رولا گرام انچل مہیش پور
۲۔ نائب صدر مولانا عبد الرزاق قاسمی مدرسہ اسلامیہ امڑا پاڑہ
۳۔ نائب صدر مولانا محمد نصیر الدین قاسمی جامعہ اسلامیہ مہیش پور
۴۔ ناظم اعلیٰ ماسٹر مشتاق احمد پاکوڑیا
۵۔ نائب ناظم مولوی محمد شرف الزماں ایڈوکیٹ مدھ پاڑا پاکوڑ
۶۔ نائب ناظم محمد نعیم الدین لکڑا پہاڑی پاکوڑیا
۷۔ خازن مولوی محمد محبوب عالم برکٹی وایہ مہیش پور
مندرجہ بالا سات حضرات کے علاوہ حسب ذیل چار افراد اراکین مجلس عاملہ نامزد کیے گئے: ۱۔ مولانا عبدالمتین بوڑھا، ۲۔ مفتی محمد شمس الدین قاسمی پاکوڑیا، ۳۔ ایڈوکیٹ محمد رجاء الحق سیتا پہاڑی پاکوڑ، ۴۔ محمد جہانگیر انصاری گھڑی ساز ہرن ڈنگا بازار پاکوڑ۔
۶/ کے علاوہ بقیہ ۶/ عہدیدار اراکین مجلس منتظمہ ریاست بہار کے لیے منتخب کیے گئے۔ صدر اور ناظم اعلیٰ ارکان مرکزیہ کے لیے نامزد کیے گئے۔ ممبر سازی کے کوٹہ کی رقم جمع کی گئی، اس کی تفصیل یہ ہے:
۱۔ مولانا محمد راشد علی بوڑھا مہیش پور ایک سو پچاس روپیے۔
۲۔ مولانا عبد المتین مہیش پور ایک سو چھتیس روپیے
۳۔ ماسٹر مشتاق احمد پاکوڑیا پچاس روپیے
کل تین سو چھتیس روپیے صرف۔
آنے والے مہمانوں کو مجلس سے قبل ہی کھانا کھلا دیا گیا تھا۔ شرکاء کی سہولت کے خیال سے سوا تین بجے جناب محمد شمس الضحیٰ کی دعا پر مجلس کا اختتام پذیر ہوا۔
ملک و ملت بچاؤ تحریک کامیاب بنانے کے لیے چند میٹنگیں
18/ ستمبر2002ء بروز بدھ زیر صدارت حاجی محمد شوکت علی مدرسہ پاکوڑیا میں تھانہ جمعیۃ کی میٹنگ ہوئی، جس میں ملک و ملت بچاؤ تحریک کی معاونت،20/ ستمبر بروز جمعہ وفد کے دورہ کو کامیاب بنانے کے لیے امڑا پاڑہ مدرسہ میں شرکت کرنے اور آئندہ کے دیگر پروگراموں کو کامیاب بنانے کے لیے لائحہ عمل تیار کیے گئے۔
اسی طرح یکم اکتوبر 2002ء بروز بدھ زیر صدارت محمد نزاد علی تھانہ جمعیۃ کی میٹنگ ہوئی، جس میں 18/ ستمبر2002ء کی میٹنگ کی کارگذاری پیش کی گئی۔ علاقہ میں دورہ کے لیے ایک مرکزی وفد کی تشکیل کی گئی، جس کی فہرست پیش ہے:
(۱) مولانا محمد راشد مبلغ دارالعلوم دیوبند۔ (۲) مولانا محمد قمر الحسن بھاگلپوری۔ (۳) اور ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی صاحبان۔اس وفد نے پورے شہر پاکوڑ کا دورہ کیا اور درجنوں پروگرام کیے۔
اس میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ بلاک سطح پر اصلاحی کمیٹی تشکیل دی جائے، چنانچہ اس کے لیے درج ذیل اراکین منتخب کیے گئے: (۱) حاجی شوکت علی۔ (۲) محمد خورشید علی۔ (۳) محمد نزاد علی۔ (۴) محمد شاہ جہاں۔ (۵) عبداللطیف۔
ملک وملت بچاؤ تحریک کے لیے امدادی کوپن کے ذریعہ رقم فراہم کرکے مرکز کو بھیج دی گئی۔ مزید امداد کے لیے علاقہ کے خاص گاوں کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
۳/ اکتوبر 2002ء سے پاکوڑیا بازار میں ”جیل بھرو تحریک“ چلانے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے لیے بتیس افراد نے اپنے نام پیش کیے اور عہد نامہ فارم کو پر کیا۔
۶/ اکتوبر2002ء کو دھوبنا موضع میں خصوصی میٹنگ ہوئی، جس میں ایک کمیٹی قائم کی گئی اور گیارہ حضرات نے تحریک میں شرکت کے لیے فارم پر کیا۔ اسی دن موضع پھول جھنجھری میں بھی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کے نو ذمہ داروں نے جیل بھرو تحریک کے فارم بھرے۔
جمعیۃ علماء ضلع پاکوڑکے انتخابی جلسے
20/ جون2004ء بروز اتوار، گیارہ بجے دن پاکوڑیا ہاٹ جامع مسجد میں ضلع جمعیۃ کا انتخابی پروگرام ہوا، جس میں سابقہ تمام عہدیداروں کی کارگذاریوں پر اطمئنان کا اظہار کرتے ہوئے، برقرار رکھا گیا۔
۱۱/ ستمبر2013ء، بروز بدھ گیارہ بجے دن زیر صدارت حافظ محمد محفوظ الرحمان پاکوڑیا میں ضلع جمعیۃ پاکوڑ کا انتخابی اجلاس ہوا۔ جس میں عہدیداروں کا انتخاب کیا گیا۔
جمعیۃ علماء ضلع پاکوڑ کی کارکردگی
مرکزی و ریاستی ہدایت کے مطابق 1992ء سے ہی باضابطہ پروگرام رکھ کر اصلاح معاشرہ کے لیے تحریک چلائی گئی۔ اکثر گاوں میں اصلاحی کمیٹی کے تشکیل کے بعد ذمہ دار حضرات کافی دلچسپی اور محنت سے کام کرتے رہے۔ خاص کر نوجوانوں کو حوصلہ ملا۔ علاقہ میں بہت اچھا اثر ہوا۔
ملک و ملت بچاؤ تحریک کے لیے گاوں گاوں کی محنت کرکے انچاس ذمہ داروں کی فہرست فارم عہد نامہ پرکراکر بذریعہ ڈاک بھیجی گئی۔
شرعی پنچایت (محکمہ شرعیہ) کے ذریعہ بھی خدمت ہوتی رہی ہے۔532/ مقدمات پیش ہوئے اور اکثر جلد ہی نبٹارہ ہوتا رہا۔ کچھ دنوں کے بعد یہ اہمیت ہوگئی کہ اگر کوئی اپنا معاملہ تھانہ لے کر چلا گیا۔ تو تھانہ والے اس کو سمجھا کر پنچایت کے ذریعہ حل کرانے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔ اس طرح مقدمہ بازی کا سلسلہ تقریبا بند ہوگیا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: