مضامین

تاریخ جمعیۃ علماء ضلع گڈا

ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی سابق صدر جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ

انتخابی اجلاس برائے تشکیل جمعیۃ علماء ضلع گڈا
12/ اپریل1987ء بروز اتوار بعد نماز عصر عیدگاہ لوگائیں (مہگاما)میں زیر صدارت جناب ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب صدر جمعیۃ علماء سنتھال پرگنہ، جمعیۃ علماء گڈا کا انتخابی اجلاس ہوا، جس میں کافی تعداد میں ذمہ داران شریک ہوئے۔ ابتدائی کارروائی کے بعدمتفقہ طور سے حسب ذیل عہدیداران کا انتخاب کیا گیا:
۱۔ صدر الحاج مولانا عبداللطیف باگھا کول بسنت رائے
۲۔ناظم اعلیٰ مولانا محمد ادریس مظاہری مدرسہ اسلامیہ سین پور
۳۔خازن ڈاکٹر محمد تمیز الدین کیواں
۴۔نائب صدر مولانا عبدالحمید قاسمی مدرسہ شمسیہ گورگاواں
۵۔نائب صدر ڈاکٹر عبد اللطیف امڈیہا
۶۔ نائب ناظم مولوی محمد مبارک کریم لوگائیں
۷۔نائب ناظم مولانا محمد نعیم الدین لکڑمارا
مجلس عاملہ کے لیے درج بالاافراد کے علاوہ مزید درج ذیل چارافرادشامل کیے گئے:
۱۔ مولانا محمد نور الہدیٰ قاسمی کھٹنئی۔ ۲۔الحاج مولانا محمد جمال الدین رانی ڈیہہ۔ ۳۔مولانا محمد عثمان قاسمی اسنبنی۔ ۴۔ مولوی محمد منصور الحق گورگاواں۔ اس کے ساتھ جناب ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی کل بارہ ارکان منتظمہ ریاستی جمعیۃ کے نمائندے چنے گئے۔عشا کے وقت دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا۔
مولانا اسرار الحق قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند مہگاما میں
اسی موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا اسرار الحق قاسمی مہگاما تشریف لائے۔ مولانا ڈاکٹر عبد الستار کسمہارا مہگاما نے نمائندگی کرتے ہوئے علاقہ کے حالات سے جنرل سکریٹری کو آگاہ کیا۔جہالت اور ناخواندگی کے حالات سن کر مولانا نے کہا کہ: فوری طور پر ایک مدرس بحال کرکے مہگاما میں مکتب کا آغاز کردیا جائے۔ میں جمعیۃ علماء ہند سے امداد دلانے کی کوشش کروں گا۔ چنانچہ مولانا کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے مولانا محمد وحید الزماں صاحب مدرس مدرسہ اسلامیہ سین پور کو یہاں بحیثت استاذ مقرر کرکے مکتب شروع کردیاگیا۔ اور جمعیۃ علماء ہندسے دو سو روپیے ماہانہ وظیفہ جاری کردیا گیا۔ طلبہ کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر ایک اور استاذ کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ اس لیے مولانا محمد شہاب الدین مدرس مدرسہ اسلامیہ سین پور کا تقرر یہاں کیا گیا۔ لوگوں نے ضرورت محسوس کی کہ مکتب کو مدرسہ میں تبدیل کردیا جائے، اس لیے مدرسہ کی بنیاد رکھنے کے لیے حضرت شاہ عون احمد قادری صدر جمعیۃ علماء ریاست بہار کو دعوت دی گئی اور ان کے ہاتھوں سنگ بنیاد رکھوایا گیااور مدرسہ کا نام بدرالعلوم رکھا گیا، جو تاحال دینی تعلیم کی اشاعت کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔
گڈا میں جمعیۃ علماء گڈا کی مجلس منتظمہ کا پروگرام
12/ جون1994ء کو سات سال کے بعد ممبرسازی کیے بغیر انتخابی اجلاس رکھ دیا گیا اورجناب ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب کو بحیثت نگراں مدعو کیا گیا۔ میٹنگ میں ماسٹر صاحب نے مضبوطی سے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ چوں کہ یہ انتخاب غیر دستوری ہے، لہذا پہلے ممبر سازی کرلیا جائے، پھر انتخاب کرایا جائے۔ چنانچہ اہل مجلس نے نگراں صاحب کی بات سے اتفاق کیا اورممبر سازی کے لیے تین ہفتہ کا وقت مقرر کیا گیا اور انتخابی میٹنگ ۳/ جولائی 1994ء کو رکھا گیا۔ اور درج ذیل ہینڈ بل سے اس کی تشہیر کی گئی:
بڑی مسرت کی بات ہے کہ ضلع جمعیۃ علماء گڈا بہار کی مجلس منتظمہ کی متفقہ تجویز منعقدہ 12 جون1994ء کے مطابق جمعیۃ علماء ضلع گڈا کا انتخابی اجلاس مورخہ۳ /جولائی 1994بروز اتوار بوقت 10/ بجے دن بمقام مدرسہ اسلامیہ اسنبنی (گڈا) میں منعقد ہونے جارہا ہے۔پروگرام کی تفصیل اس طرح ہے:
پرچم کشائی10/ بجے دن، فارم ممبری وغیرہ کی وصولیابی ساڑھے 10/بجے دن
خدمات جمعیۃ کا تذکرہ ساڑھے ۱۱ بجے دن۔ انتخابی کارروائی ایک بجے دن
نوٹ۔ وقت کی پابندی کا خاص خیال رکھا جائے۔ دیگر اراکین مجلس منتظمہ کو بھی ضروری اطلاع دیجائے۔فقط۔دستخط: عبداللطیف صدر ضلع جمعیۃ۔محمد ادریس مظاہری ناظم اعلیٰ ضلع جمعیۃ۔محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی نگراں انتخاب۔
یہ اجلاس اپنے وقت مقررہ پر شروع ہوااور اس میں جناب ماسٹر محمد شکیل احمد کھٹنئی کو صدر اور مولانا محمد مبارک کریم لوگائیں کو ناظم اعلیٰ بنایا گیا۔ رجسٹر نہ مل سکنے کی وجہ سے پوری کارروائی درج کرنے سے قاصر ہیں۔
تجاویز اجلاس مجلس عاملہ و منتظمہ
ضلع جمعیۃ علماء گڈا کی مجلس عاملہ و مجلس منتظمہ کی ایک اہم نشست ۹/ دسمبر1994؁کو لوگائیں (مہگاما) میں ہوئی، جس میں ایجنڈوں پر غور و خوض کے بعد درج ذیل اہم فیصلے لیے گئے:
(۱) ووٹر لسٹ کی تیاری کے سلسلے میں شناختی کارڈ کے لیے ہر گاؤں میں فوٹو گرافی شروع ہے، صرف ووٹ کے لیے ہی ضروری نہیں؛ بلکہ شہری حقوق کے لیے بھی لازمی ہے۔لہذا نوجوانوں سے اپیل ہے کہ دلچسپی لے کر شناختی کارڈ کے لیے فوٹو گرافی ہر بالغ مرد و عورت کا ضرور سے ضرور کروانے کی کوشش کریں تاکہ کوئی فرد چھوٹ نہ سکے۔
(۲) ضلع گڈا میں جمعیۃ علماء کے استحکام کے لیے باضابطہ دفتر کی تعمیر ضروری ہے۔ میٹنگ میں عام رائے سے یہ بات طے پائی ہے کہ ہر مقامی صدر اپنے اپنے حلقہ سے کم از کم500/ روپیے، 25/ جنوری تک چندہ کرکے ضلع جمعیۃ میں جمع کردیں۔ ساتھ ہی رسید بھی دستیاب کرلیں۔ زیادہ سے زیادہ رقم بھی دے سکتے ہیں۔ ایک ہزار تعمیری کام کے لیے دینے والوں کا نام چسپاں کرادیا جائے گا۔
(۳) ہر گاوں کے ہمدردوں سے اپیل ہے کہ اصلاح معاشرہ کے لیے اصلاحی کمیٹی کی تشکیل کر کنوینر کے نام مع فہرست جلد سے جلد بھیج دیں۔
(۴) محکمہ شرعیہ (شرعی پنچایت) قائم ہوچکا ہے۔ آپسی معاملات کے تصفیہ کے لیے محکمہ شرعیہ سے رجوع کر استفادہ کریں۔ محکمہ شرعیہ کے صدر محمد شمس الضحیٰ صاحب ہیں۔ اور دفتر مقام و پوسٹ کھٹنئی وایہ پنجوارہ ضلع گڈا ہے۔
دستخط: محمد شکیل احمد، صدر ضلع جمعیۃ علماء گڈا۔ محمد مبارک کریم ناظم اعلیٰ ضلع جمعیۃ علماء گڈا۔ محمد شمس الضحیٰ کنوینر اصلاح معاشرہ کمیٹی ضلع، صدر محکمہ شرعیہ گڈا۔
انتخابی میٹنگ
جمعیۃ علماء ریاست بہار کے صدرو ناظم کی طرف سے پورے سنتھال پرگنہ کے ضلعوں میں انتخاب کرانے اور اس کی نگرانی کا ذمہ دار ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب کو بنایا گیا تھا۔چنانچہ انھوں نے اپنے فرائض کو بہ خوبی انجام دیا اور سنتھال پرگنہ کے سبھی انتخابی جلسوں میں نگراں انتخاب کی حیثیت سے شرکت کرتے رہے۔
لیکن ایک قضیہ نا مرضیہ یہ پیش آیا کہ مولانا محمد ادریس مظاہری ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء گڈا، اس عہدے پر رہتے ہوئے ملی کونسل کے کنوینر برائے ضلع گڈا بن گئے۔ اس کی اطلاع نگراں انتخاب ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب کو براہ راست اس کے صدر مولانا اسرار الحق صاحب سے ملی۔ اور صدر جمعیۃ علماء گڈا حاجی عبد اللطیف صاحب نے بھی بذریعہ خط اس کی اطلاع نگراں انتخاب کو دی۔ اس بیچ مولانا محمد ادریس صاحب پٹنہ گئے اور الحاج حسن احمد قادری صاحب سے ماسٹر صاحب کی جگہمولانا ظہور عالم مانڈر اور مولانا مزمل حق مدرسہ بدر العلوم بیگو سرائے کے نام نگراں انتخاب کا پروانہ لے کر آگئے۔ سابقہ نگراں انتخاب اور صدر ضلع جمعیۃ کو پیشگی اطلاع دیے بغیر دوسرے شخص کو انتخاب کا نگراں بنانا جہاں اصول کے خلاف تھا، وہیں مولانا ادریس صاحب کے اس عمل سے لوگ ناراض بھی ہوئے اور بد ظن بھی۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے صدر ضلع نے نئے سرے سے انتخاب کرانے کی پیش کش کی اورمورخہ22/ اگست 1999ء کو انتخابی میٹنگ طلب کی، جس میں درج ذیل افراد عہدیدار منتخب کیے گئے:
۱۔ صدر: ماسٹر محمد شکیل احمد کھٹنئی
۲۔ ناظم اعلیٰ: مولانا محمد عثمان قاسمی اسنبنی
۳۔ خازن: محمد اصغر علی انصاری لوبندھا
۴۔ نائب صدر: مولانا محمد مبارک کریم لوگائیں
۵۔ نائب صدر: مولانا عبدالسمیع جعفری دیاجوری
۶۔ نائب ناظم: مولانا محمد ثناء الحق قاسمی جہاز قطعہ
۷۔ نائب ناظم: مولانا عبدالعزیز بڑہرا
۸۔ اراکین: ماسٹر محمد منیر الدین کھٹنئی۔ ۹۔ محمد شاہین اسنبنی۔ ۰۱۔ مولانا محمد نجم الحسن دگھی۔ ۱۱۔ مفتی محمد بدر الدین قاسمی کھرکچیا۔ ۲۱۔ حافظ محمد منیر الدین کھٹنئی۔ ۳۱۔ ماسٹر محمد ابوالکلام کھٹنئی۔ ۴۱۔ مولانا محمد شریف الحق قاسمی کرما۔ ۵۱۔ عبدالستار مال پکڑیا۔ ۶۱۔ مولانا عبدالحنان قاسمی لل مٹیا۔
نوٹ: نمبر ۱۱ تک مجلس عاملہ کے اراکین۔ نمبر ۶۱ تک اراکین مجلس منتظمہ ریاست بہار منتخب کیے گئے۔ اور۱۔ صدرماسٹر محمد شکیل احمد کھٹنئی ۲۔ ناظم اعلیٰ مولانا محمد عثمان قاسمی اسنبنی،۳۔ مولانا محمد مبارک کریم لوگائیں، ۴۔ مولانا محمد بدر الدین قاسمی کھرکچیا، ۵۔ ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنئی اراکین مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند منتخب کیے گئے۔
جمعیۃ علماء گڈا کی مجلس منتظمہ کی نشست
25/ نومبر2001ء بروز اتوار10/ بجے دن بمقام جامع مسجد لوگائیں مہگاما، زیر صدارت مولانا محمد سراج الدین صاحب، و زیر نگرانی ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی صاحب، مجلس منتظمہ کی نشست منعقد ہوئی،جس کا آغاز روایتی طرز پر پرچم کشائی سے ہوا۔ بعد ازاں قاری محمد شکیل احمد نے تلاوت پیش کی۔ نعت و نظم پڑھنے کے بعد وفات یافتگان کے لیے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کے بعد درج ذیل تجاویز پاس ہوکر منظور کی گئیں:
(۱) کمشنر ی سنتھال پرگنہ کی سطح پر اصلاح معاشرہ کے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے حسب سہولت ماہ فروری، مارچ میں دو ہفتوں کا پروگرام مرتب کیا جائے۔ جس میں مرکز کے دو ذمہ دار، ریاست و کمشنری کے ذمہ دار کے ساتھ علاقائی ذمہ دار بھی شامل رہیں گے۔ جو ہمدرد حضرات اپنے یہاں پروگرام رکھنا چاہتے ہیں۔ اپنے یہاں کے ہمدردوں سے مشورہ کرکے ماسٹرمحمد شمس الضحیٰ کھٹنوی کنوینر اصلاح معاشرہ کمیٹی سنتھال پرگنہ سے خط وکتابت کے ذریعہ رابطہ رکھیں، تاکہ پروگرام میں آسانی رہے۔
(۲) ضلع میں باضابطہ تنظیمی کاموں کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ گڈا میں ضلع دفتر رہے۔ زمین کی خریداری کرکے تعمیر مکان کی فوری ضرورت ہے۔ اللہ کے فضل اور ہمدردوں کی خصوصی توجہ اور معاونت سے ہی یہ کام آسانی سے پورا ہوسکتا ہے۔ مالیات کی فراہمی کے لیے ہمدرد حضرات اپنے یہاں مشورہ کرکے جلد اطلاع دینے کی کوشش کریں گے تاکہ مالیاتی کمیٹی کی تشکیل جلد ہوسکے۔
(۳) عوام کی خدمت اور سہولت کے لیے مسافر خانہ کی تعمیر بھی بے حد ضروری ہے، لیکن دفتر کا مسئلہ حل کیا جائے۔ اس کے بعد اسی احاطہ میں مسافر خانہ کی تعمیر ہو۔
(۴) عوامی تعارف کے لیے گڈا میں اجلاس عام (کانفرنس) کا انعقاد نہایت ضروری ہے۔ ابتدائی کاموں کے آغاز کے بعد آئندہ اس کے بارے میں غور کیا جائے۔
(۵) تنظیم جمعیۃ علماء کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ
(الف) حتیٰ الامکان جمعیۃ علماء کے تعمیری پروگراموں پر عمل در آمد کیا جائے۔
(ب) ضابطہ کے لیے پہلے کی طرح رجسٹر، مہر اور لیٹر پیڈ وغیرہ مقامی جمعیۃ کو بھی مہیا کرائے جائیں۔
(ج) مقامی جمعیۃ کے ہمدرد بھی ہفت روزہ الجمعیۃ شانتی مشن ہندی جاری کراکر استفادہ کرسکتے ہیں۔
(د) ہر گاوں میں قبل از وقت تحریک چلاکر زیادہ سے زیادہ ممبر بنانے کی کوشش کی جائے۔
(ہ) جس حلقہ سے نقشہ انتخاب، ادھ کٹی جلد، اور رقم وغیرہ موصول نہیں ہوسکی ہیں، جلد ہی جمع کیا جائے۔
(۶) (الف) ماہ دسمبر میں مجلس عاملہ کی میٹنگ اورمالیات کی فراہمی کے لیے وفود کی تشکیل کی جائے اور ماہ مارچ میں ضلع کی سطح پر میٹنگ بلاکرسنگ بنیاد وغیرہ کی بات طے کی جائے۔
(ب) صدر اور ناظم اعلیٰ کے نام سے لیٹر پیڈ تیار کرالیے جائیں۔
(ج) تعمیری سلسلہ میں مالیات کی فراہمی میں آسانی کے لیے پانچ ہزار، ایک ہزار، پانچ سو، ایک سو اور پچاس روپیے کے کوپن تیار کرائے جائیں۔
(د) ہمدردوں کی ترغیب اور حوصلہ افزائی کے واسطے صدر محترم امیر الہند دامت برکاتہم سے سفارش تحریر کراکر ہینڈ بل (چھوٹا پوسٹر) شائع کیا جائے۔
(۷) ووٹر لسٹ کی تیاری ہورہی ہے۔ اس میں اپنے نام، خاندان کے افراد؛ خصوصا نئے ناموں کا اندراج دلچسپی لے کر کرایا جائے۔ کیوں کہ یہ شہریت کے لیے بنیاد ہے۔
(۸) ریاست جھارکھنڈ میں حج کمیٹی کے علاوہ کسی کمیشن کی تشکیل نہیں ہوسکی ہے۔ اقلیتوں؛ خصوصا مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ریاست بہار کی طرح کمیٹی، بورڈ اور کمیشن کی تشکیل جلد لازمی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور سے خصوصی توجہ دے کر اقلیتوں کو مطمئن کرے۔
(۹) ریاست بہار کی طرح ریاست جھارکھنڈ میں بھی اردو کو دوسری سرکاری زبان قرار دیا جائے اور اس کی نشو و نما اور ترقی کے لیے ہر طرح کی سہولت مہیا کرایا جائے۔
(۰۱) بدیشی مالوں؛ خصوصا امریکہ و برطانوی مصنوعات کے بائیکاٹ کی تجویز کی تاکید کی گئی۔ یہ بھی المیہ ہے کہ دنیا کی تمام حکومتوں کی زبان امریکہ کے ساتھ ہے مگرہر ملک کی عوام کا دل افغان کے ساتھ ہے۔ ظلم کی مذمت کرتے ہوئے ظالم کی ہدایت اور مظلوم کی نصرت و حفاظت کے لیے دعا کی گئی۔
(۱۱) تحریک و تائید کے ساتھ بہ اتفاق رائے حسب ذیل عہدیداروں کا انتخاب عمل میں آیا:
۱۔ صدر: ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب کھٹنوی۔
۲۔ ناظم اعلیٰ مولانا مبارک کریم لوگائیں۔
۳۔ خازن محمد شکیل احمدکھٹنئی
۴۔ نائبین صدر مولانا محمد شریف الحق قاسمی کرما و مولانا نجم الحسن دگھی
۵۔ نائبین ناظم مولانا عبدالسمیع دیا جوری، مولانا محمد منصور احمد قاسمی بیلسر
۶۔ اراکین عاملہ الحاج محمد اکرام الحق لوگائیں، حافظ محمد شکیل احمد بھانجپور، محمد فضل الرحمان سروتیا، الحاج مولانا غلام رسول غوری قطعہ، جٹاواں، مولوی محمد حبیب الرحمان جہاز قطعہ، مولانا محمد بدر الدین قاسمی کھرکچیا، مولانا محمد عثمان قاسمی اسنبنی گڈا، مولانا محمد یاسین رانی ڈیہہ۔
۳/ بجے شام دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔
اہم اور ضروری اطلاع
درج بالا میٹنگ کی تجاویز پر عمل در آمد کرنے کے لیے صدر کی جانب سے 23/ دسمبر2001ء بروز اتوار ۹/ بجے دن بمقام جامع مسجد لوگائیں میں ایک میٹنگ کا اعلان کیا گیا، جس میں یہ کہاگیا کہ بہت ہی اہم ایجنڈوں پر غورو خوض کیا جائے گا۔
از ۷۸۹۱ء تا۴۰۰۲ء جمعیۃ علماء ضلع گڈا کی خدمات پر ایک نظر
شروع عہد میں جمعیۃ علماء گڈا انجماد کی شکار رہی، اور اس درمیان کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوسکا۔ عہدے برائے عہدے اور ذمہ داریاں محض خانہ پری کا کام کرتی رہیں۔ لیکن اس عرصے کے آخری عہد میں الحمد للہ جمعیۃ پھر فعال ہوگئی۔ ضلع جمعیۃ کے لیے لیٹر پیڈ، مہریں، جمعیۃ بلڈنگ کے اشتہارات، مختلف قسم کے کوپن اور اس قسم کے دیگر اخراجات صدر ضلع ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب نے اپنی جیب خاص سے تیار کرائے۔ اس وقت ملک و ملت بچاو تحریک چلائی جارہی تھی۔اس کے لیے صدر ضلع نے تقریبا ڈیڑھ سو مقامات کا دورہ کیا۔ اور سات سو عہد نامہ فارم پر کراکر مرکز بھیجا۔ 45/ گاوں میں جمعیۃ بلڈنگ کی امداد کے لیے تحریک چلائی گئی۔ پچاس گاوں میں مقامی سطح کی جمعیۃ تشکیل دی گئی۔ گجرات فسادات میں پچاس ہزار رقم سے تعاون کیا گیا۔ اسی طرح بھاگلپور اور کشن گنج کے ریاستی اجلاس کے لیے مالی امداد کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں افراد کی شرکت کے لیے جاں توڑ محنت کی گئی۔
نشست مجلس عاملہ جمعیۃ علماء گڈا
28/ نومبر2003ء، بمقام مدرسہ بدر العلوم مہگاما، مجلس عاملہ کی میٹنگ اور اس کے کچھ دنوں بعد13/ دسمبر2003ء، لوگائیں میں مجلس منتظمہ کی میٹنگ ہوئی۔ جس میں درج ذیل اہم فیصلے لیے گئے:
پہلی بار جھارکھنڈ میں گڈا والوں نے اجلاس عام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے پیش نظر درج ذیل باتوں پر خصوصی توجہ فرمائیں:
(۱) امسال جمعیۃ علماء ہند کی ممبرسازی کا ٹرم ہے۔ زیادہ زیادہ سے ممبر سازی کی جائے۔ ممبری فیس دو روپیے ہے۔ اور مارچ تک انتخابات کرالیے جائیں۔
(۲) مارچ کے دوسرے ہفتہ میں جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے دہلی میں اجلاس عام کیے جانے کا امکان ہے۔ اس میں شرکت کی کوشش کریں۔
(۳) مئی میں ضلع گڈا میں ریاستی اجلاس کیا جانا زیر غور ہے، جس کے لیے ابھی سے گاوں گاوں میں تحریک چلائے جائی۔
(۴) شہر گڈا میں ”جمعیۃ بلڈنگ“ تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ تحریک پہلے سے ہی جاری ہے۔ کئی قسم کے امدادی کوپن چھپوائے گئے ہیں۔ ذمہ داران و ہمدرد حضرات ضرورت کے مطابق وہ کوپن حاصل کرکے مالیات کی فراہمی کے فرائض انجام دینے کی کوشش کریں۔
(۵) جمعیۃ علماء ہنداور قوم وملت کی خبروں سے باخبر رہنے کے لیے جمعیۃ علماء ہند کا ترجمان ہفت روزہ الجمعیۃ اور شانتی مشن کا خریدار بنیں۔
(۶) اپنے علاقے یا ضلع کی قابل ذکر تاریخ اور دینی حالات لکھ کر دفتر بھیجیں تاکہ ان کو کتابچہ میں شامل کیا جاسکے۔
(۷) الحاج ڈاکٹر عبدالجبار صاحب گنج، والدہ مولانا محمد الیاس روپنی دیوگھر، ڈاکٹر بشیر الدین ابھوا پاکوڑ، شیخ محمد ابراہیم، حاجی نور محمد،اہلیہ ماسٹر محمد علی اکبر باشندگان کھٹنئی کے لیے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کیا گیا۔
لوگائیں میں انتخابی اجلاس
12/ مارچ 2004ء کو لوگائیں مدرسہ میں پرچم کشائی کے بعد مجلس عاملہ کی نشست ہوئی۔ بعد نماز مغرب مجلس منتظمہ اور انتخابی اجلاس شروع ہوا۔ اجلاس شروع ہوتے ہی ایک شخص نے اعتراض کیا کہ عاملہ و منتظمہ الگ الگ ہونے کے بجائے ایک ہی ہونی چاہیے۔ اعتراض جمعیۃ کے تنظیمی ڈھانچے سے ناواقفیت پر مبنی تھا، لیکن اعتراض کے غیر مہذب انداز پر اہل مجلس بھڑک اٹھے اور میٹنگ ہنگامہ کی نذر ہوگیا۔ اس لیے طے کیا گیا کہ اب انتخابی میٹنگ ۹۱/ جون ۴۰۰۲ء کو مدرسہ بدرالعلوم مہگاما میں ہوگی۔
حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند کا تنظیمی دورہ برائے ضلع گڈا
جمعیۃ علماء ضلع گڈا کی درخواست پر جمعیۃ کو فعال و متحرک کرنے کے لیے حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند نے 25و 26/ مئی 2007ء میں ایک دورہ کیا۔ دورہ کی تفصیل اس طرح ہے:
25/ مئی2007ء کی شام مدرسہ مدنیہ چلمل بارہ ہاٹ پہنچے۔ اور رات یہی قیام فرمایا۔ نماز فجر بارہ ہاٹ میں ادا کی۔ مدرسہ حسینیہ بارہ ہاٹ میں دعا کرائی۔ اور جناب حاجی عبدالرحمان صاحب بڑی بسہر کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ بعد ازاں مدرسہ بدر العلوم مہگاما آئے اوردعا ہوئی۔ پھر لوگائیں پہنچ کر ناشتہ کیا۔ یہاں بیعت و ارشاد کا پروگرام طے تھا۔ چنانچہ قرب و جوار کی ایک بڑی تعداد آپ کے حلقہ بیعت میں شامل ہوئی۔ پھر جامعہ روضۃ العلوم نیا نگر آئے اور جامعہ کا معائنہ کیا۔ دگھی میں بیعت کی مجلس رکھی گئی تھی، چنانچہ آپ دگھی پہنچے اور ارادت مندوں کو بیعت کیا۔ یہاں سے روانہ ہوکر قصبہ آئے اور دعا کراکرمدرسہ اسلامیہ خرد سانکھی بسنت رائے پہنچے اور ظہر کی نماز ادا کی۔بعد ظہر پروگرام سے خطاب کیا اور جہاز قطعہ کے لیے روانہ ہوگئے۔ نماز عصر آپ نے مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ میں ادا کی۔ یہاں بھی حسب پروگرام بیعت کا حلقہ قائم کیا گیا تھا، جس میں درجنوں جہازی بیعت سے مشرف ہوئے۔ پھر یہاں سے روانہ ہوئے اور اسنبنی گڈا تشریف لے گئے، جہاں پہلے جمعیۃ بلڈنگ کے لیے خریدی گئی زمین کا معاینہ فرمایا اور دعا کی۔ اور نماز مغرب کے لیے جامع مسجد اسنبنی پہنچے۔ بعد ازاں مال پکڑیا ہوتے ہوئے کھٹنی گئے اور رات ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب کے گھرقیام کیا۔یہاں بھی بیعت و ارشاد کی محفل سجی اور لوگ حلقہ ارادت میں شامل ہوئے۔ بعد نماز فجر منگاچک گئے اور حاجی محمد اقبال کے یہاں ناشتہ کیا۔ یہاں بھی حسب پروگرام لوگوں کو بیعت کیا۔ بعد ازاں حاجی احمد حسن، مجاز شیخ الاسلامؒ کی تعزیت کے لیے سنہولی آئے۔ یہاں سے بلوا چک، پھر مدرسہ محمدیہ شاہ جنگی بھاگلپور تشریف لے گئے اور یہیں سے دہلی کے لیے واپسی ہوگئی۔ حضرت مولانا محمود مدنی صاحب کے ہمراہ اس سفر میں مولانا غیور احمد قاسمی آرگنائزر جمعیۃ علماء ہند، مفتی جاوید اقبال صاحب نائب صدر جمعیۃ علماء ریاست بہار، مولانا برہان الدین مانڈرکھگڑیا اور دیگر قابل ذکر ہستیاں تھیں۔
انتخابی جلسہ
حسب اعلان 19/ جون2004ء، مطابق 29/ ربیع الثانی 1425ھ بروز سنیچر،۷/ بجے شام مدرسہ بدرالعلوم مہگاما میں انتخابی جلسہ ہوا، جس میں درج ذیل افراد منتخب کیے گئے:
۱۔ صدر: مفتی عبدالرحمان مدرسہ محمود العلوم محمود نگر اسنبنی گڈا
۲۔ ناظم اعلیٰ: مولانا محمد مبارک کریم لوگائیں مدرسہ بدرالعلوم مہگاما
۳۔ خازن: ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی
۴۔ نائب صدر: مولانا منصور احمد قاسمی بیلسر
۵۔ نائب صدر: مولانا عبدالحمید قاسمی مدرسہ شمسیہ گورگاواں
۶۔ نائب ناظم: مولانا عبدالسمیع جیا جوری، سربھنگا لل مٹیا
۷۔ نائب ناظم: مولانا محمد عرفان مدرسہ خانقاہ ابدالیہ مرغیاچک ڈوئی
اس کی صدارت مولانا محمد سراج الدین صاحب پرنسپل مدرسہ نور الہدیٰ اسوتہ نے کی۔ اس سے قبل مولانا عبدالحمید قاسمی مدرس مدرسہ شمسیہ گورگاواں نے جمعیۃ کا تعارف پیش کیا، جب کہ ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب کھٹنوی نے کارگذاری پیش کی۔
درج بالا سات عہدیداروں کے علاوہ درج ذیل افرادپر مشتمل مجلس عاملہ کے ارکان منتخب کیے گئے:
مولانا محمد طاہر الدین مدرسہ مصباح العلوم بواری جور۔ الحاج محمد شکیل احمد کھٹنئی۔ مولانا محمد مجیب الرحمان آم بگان کھرکچیا۔ مفتی عبدالغفور مدرسہ اسلامیہ سین پور بنرچوا۔
مندرجہ بالا گیارہ ذمہ داروں کے علاوہ حسب ذیل افراد ریاستی جمعیۃ علماء کے ارکان منتخب کیے گئے:
۲۱۔حاجی محمد اکرام الحق لوگائیں۔ ۳۱۔ مولانا محمد ساجد حسین بھانجپور۔ ۴۱۔مولانا عبدالعزیز جامعہ روضۃ العلوم نیا نگر۔ ۵۱۔ مولانا محمد ابراہیم مدرسہ بدر العلوم مہگاما۔ ۶۱۔ ماسٹر محمد شمس الحسین بابو پور۔ ۷۱۔ ماسٹر ابوالخیر پرسہ۔ ۸۱۔ مولانا محمد سلطان قاسمی سامو قطعہ۔ ۹۱۔ ڈاکٹر منظر حسین رجون۔ ۰۲۔ مولانا سلامت اللہ شمسی کھٹہری۔ ۱۲۔ ماسٹر محمد الیاس سروتیا۔ ۲۲۔ ماسٹر محمد حفیظ الدین اسلام پور۔ ۳۲۔ مولانا محمد مظہر الحق قاسمی جہاز قطعہ۔ ۴۲۔ مولانا خلیل احمد قاسمی کیتھ پورا۔ ۵۲۔ ڈاکٹر محمد تمیز الدین کیواں۔ ۶۲۔ حاجی عزیز اللہ رنسی۔ ۷۲۔ مولانا محمد شفیق مدرسہ اسلامیہ عربیہ خرد سانکھی۔ ۸۲۔ مولانا محمد معین سرکنڈا۔ ۹۲۔ مولانا محمد ضیافت قاسمی دارالعلوم رانی ڈیہہ۔ ۰۳۔ محمد شاہین اسنبنی گڈا۔ ۱۳۔ محمد پرویز حسن اسنبنی گڈا۔ ۲۳۔ حکیم محمد مرتضی اسنبنی۔ ۳۳۔ حافظ محمد شمیم بانس منڈی۔
اخیر میں مولانا منصور احمد قاسمی نے ضلع جمعیۃ علماء گڈا کے عزائم اور منصوبوں پر تفصیل سے روشنی دالی اور اس کی اہمیت و افادیت بتائی۔ مشاہیر کی حیثیت سے حسب ذیل چھ حضرات منتخب کیے گئے:
۱۔ مفتی عبد الرحمان اسنبنی۔ ۲۔ محمد پرویز حسن اسنبنی۔ ۳۔ محمد شاہین اسنبنی۔ ۴۔ مولانا محمد طاہر الدین سریا۔۵۔ مولانا عبدالغفور کیندوا۔ ۶۔ حافظ محمد شمیم بانس منڈی۔
حسب ہدایت جلد سے جلد ناظم اعلیٰ صاحب سے اراکین مجلس عاملہ کو نامزدگی کی اطلاع دیتے ہوئے گذارش کی گئی کہ آئندہ مجلس عاملہ کی اہم نشست 16/ جولائی 2004ء بروز جمعہ بوقت شام، بمقام مدرسہ بدر العلوم مہگاما میں طلب کی جارہی ہے، جس میں اہم ایجنڈوں پر غوروخوض کیا جائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ الحاج محمد شکیل احمد صاحب کھٹنوی سے جلد سے جلد رابطہ قائم کرکے جمعیۃ بلڈنگ گڈا کے واسطے زمین کی خریداری کا مسئلہ حل کرلیا جائے تاکہ آئندہ کے منصوبوں کو کامیاب بنانے میں آسانی ہو۔حضرت مفتی عبدالرحمان صاحب صدر ضلع جمعیۃ اور مولانا محمد مبارک کریم صاحب ناظم اعلیٰ نے بھی اظہار خیال فرمایا۔ حضرت مفتی صاحب کی پرسوز دعا پر ساڑھے دس بجے رات مجلس کا اختتام ہوا۔ صدر جلسہ حضرت مولانا محمد سراج الدین صاحب نے اظہار تشکر پیش کیا۔ نماز عشاء کے بعد مہمانوں کے کھانے کا نظم کیا گیا۔ بعد نماز فجر ناشتہ کے بعد مہمان رخصت ہوگئے۔
انتخابی اجلاس
۴/ اگست 2007ء بمقام مدرسہ بدر العلوم مہگاما ۳/ بجے دن ا انتخابی اجلاس ہوا۔ جس میں درج ذیل عہدیداران منتخب کیے گئے:
۱۔ صدر: ڈاکٹر محمد تمیز الدین کیواں
۲۔ نائب صدر مولانا منصور احمد قاسمی بیلسر
۳۔ نائب صدر: مفتی عبدالرحمان مظاہری اسنبنی
۴۔ ناظم اعلیٰ: مولانا محمد مبارک کریم لوگائیں
۵۔ نائب ناظم مولانا محمد ادریس مظاہری کیواں
۶۔ نائب ناظم مولانا محمد عرفان دوگاچھی
۷۔ خازن: ماسٹر عبدالحفیظ اسلام پور، مال بھنڈاری ڈیہہ
تعداد اراکین ریاستی جمعیۃ: پچاس۔ تعداد اراکین مرکزی جمعیۃ سترہ۔
ارکان مرکزیہ کے نام درج ذیل ہیں:
۱۔ ڈاکٹر محمد تمیز الدین کیواں۔ ۲۔ مولانا محمد ادریس مظاہری کیواں۔ ۳۔ مولانا محمد منصور احمد قاسمی بیلسر۔ ۴۔ علیم الدین گھاٹ گمہریا۔ ۵۔ حاجی محمد منصور احمد بابوپور۔ ۶۔ ماسٹر شمس الحسین بابو پور۔ ۷۔ ماسٹر عبدالحفیظ اسلام پور۔ ۸۔ ماسٹر محمد شریف احمد بھیروچک۔ ۹۔ خوشتر حسنین مہگاما۔ ۰۱۔ ماسٹر محمد توحید عالم ہیر کرہریا۔ ۱۱۔ مولانا عبدالمنان ہیر کرہریا۔ ۲۱۔ مولانا عبدالستار رحمانی قاسمی موہنپور۔ ۳۱۔ مولانا عبدالعزیز نیا نگر۔ ۴۱۔ محمد عطاء الرحمان صدیقی قصبہ۔ ۵۱۔ محمد یحیٰ صدیقی گورگاواں۔ ۶۱۔ محمد خالد تمیز گورگاواں۔ ۷۱۔ نوشیرواں عادل موہن پور۔ ۸۱۔ ماسٹر عبدالصمد مانگن پپرا۔ ۹۱۔ مولوی خلیل احمد بیلڈیہا۔ ۰۲۔ مولانا محمد مبارک کریم لوگائیں۔ ۱۲۔ ماسٹر محمد صنیف لوگائیں۔ ۲۲۔ ماسٹر عبدالمجید لوگائیں۔ ۳۲۔ محمد معاذ دگھی۔ ۴۲۔ مولوی عبدالستار دگھی۔۵۲۔ مفتی محمد اقبال مہتمم مدرسہ اسلامیہ سین پور۔ ۶۲۔ محمد ولی الدین سروتیا۔ ۷۲۔ مولوی بشیر الدین دھیا۔ ۸۲۔ مولوی محمد خورشید دھیا۔ ۹۲۔ محمد فیروز سندر چک۔ ۰۳۔ مولانا محمد عرفان دوگاچھی۔ ۱۳۔ محمد قمر الہدیٰ مال پرتاپور۔ ۲۳۔ محمد ثمیر الدین کرما۔ ۳۳۔ الحاج عبدالغنی ڈوئی۔ ۴۳۔ مولانا محمد عثمان غنی قاسمی اسنبنی۔ ۵۳۔ حکیم محمد مرتضیٰ مدنی نگر اسنبنی۔ ۶۳۔ پرویز حسن اسنبنی۔ ۷۳۔ مفتی عبدالرحمان مہتمم محمود العلوم اسنبنی۔ ۸۳۔ مولانا محمد سلیم الدین قاسمی مدرسہ اسلامیہ عربیہ خرد سانکھی۔ ۹۳۔ ماسٹر محمد نسیم الدین لوچنی۔ ۰۴۔ مولوی محمد جمال الدین کیواں۔
اصلاح معاشرہ کانفرنس
22/ مئی 2009ء، بروز جمعہ لوگائیں میں جمعیۃ علماء گڈا کے بینر تلے ایک عظیم الشان اجلاس کیا گیا، جس میں سبھی عہدیداران جمعیۃ کے علاوہ علاقے کے مشاہیر علمائے کرام نے شرکت کی۔اس اجلاس میں مرکزی جمعیۃ علماء ہند سے حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری صدر جمعیۃ علماء ہند، مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند، حضرت مولانا مفتی محمد سلمان منصور پوری استاذ حدیث مدرسہ شاہی مرادآباد اور مفتی محمد شوکت صاحب شیخ الحدیث مدرسہ فلاح دارین ستپون گجرات رونق اسٹیج رہے۔ یہ پروگرام علاقے کا تاریخ ساز پروگرام تھا۔ مجمع کی کثرت عدیم النظیر تھی۔ اس نے معاشرے کی اصلاح میں ایک انقلابی رول ادا کیا۔
عہدیداران جمعیۃ علماء گڈا کا انتخاب
29/ جولائی 2010ء بوقت ۴/ بجے دن مدرسہ بدر العلوم مہگاما میں ایک انتخابی پروگرام ہوا، جس میں عہدیداروں کو منتخب کیا گیا، اس کی تفصیل پیش ہے:
۱۔ صدر: ڈاکٹر تمیز الدین صاحب کیواں
۲۔ نائب صدر: مولانا عبدالعزیز صاحب جامعہ حسنیہ ملکی۔
۳۔ نائب صدر: مفتی عبد الرحمان صاحب اسنبنی گڈا۔
۴۔ نائب صدر: ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب کھٹنئی۔
۵۔ ناظم اعلیٰ: ماسٹر عبدالحفیظ صاحب مدرسہ بدر العلوم مہگاواں۔
۶۔ نائب ناظم: مفتی محمد اقبال صاحب قاسمی۔ مدرسہ عربیہ خرد سانکھی۔
۷۔ نائب ناظم: ماسٹر محمد توحید صاحب موہن پور۔
۸۔ نائب ناظم: منا خورشید صاحب دھیا۔
۹۔ نائب ناظم: محمد نسیم صاحب لوچنی۔
۰۱۔ خازن: الحاج محمد ولی الدین صاحب موہن پور۔
نگراں انتخاب ڈاکٹر محمد تمیز الدین صاحب تھے۔ کل ۵۲۱/ ممبران شریک مجلس رہے۔
صدورو نظماء جمعیۃ علماء گڈا کا انتخاب
24/ ستمبر 2013ء کو دو بجے دن، مدررسہ بدرالعلوم مہگاما میں انتخابی مجلس بیٹھی، جس میں درج ذیل عہدیدوں کے لیے حسب ذیل افراد منتخب کیے گئے:
۱۔ صدر: ڈاکٹر محمد تمیز الدین صاحب کیواں
۲۔ نائب صدر: مولانا عبدالعزیز صاحب جامعہ حسنیہ ملکی
۳۔ نائب صدر: مفتی محمد اقبال صاحب قاسمی مدرسہ اسلامیہ عربیہ خورد سانکھی
۴۔ نائب صدر: الحاج محمد شریف صاحب مہگاما
۵۔ ناظم اعلیٰ: ماسٹر عبدالحفیظ صاحب مدرسہ بدر العلوم مہگاواں
۶۔ نائب ناظم: منا خورشید صاحب دھیا
۷۔ نائب ناظم: ماسٹر محمد توحید صاحب موہن پور۔
۸۔ نائب ناظم: محمد ظفر اقبال صاحب سامو قطعہ۔
۹۔ نائب ناظم: الحاج عالم صاحب موہن پور۔
۰۱۔ خازن: الحاج ولی الدین صاحب موہن پور۔
جمعیۃ علماء گڈا کا جلسہ انتخاب
12/ مئی2016ء کو دو بجے دن، مدررسہ بدرالعلوم مہگاما میں جمعیۃ علماء گڈا کے لیے انتخابی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں صدورو نظماء اور دیگر ذمہ داران کا انتخاب عمل میں آیا۔ تفصیلات درج ذیل ہیں:
۱۔ صدر: ڈاکٹر محمد تمیز الدین صاحب کیواں
۲۔ نائب صدر: مولانا عبدالعزیز صاحب جامعہ حسنیہ ملکی
۳۔ نائب صدر: مفتی محمد اقبال صاحب قاسمیسراج العلوم رجون
۴۔ نائب صدر: خوشتر حسنین صاحب مہگاما
۵۔ ناظم اعلیٰ: ماسٹر عبدالحفیظ صاحب مدرسہ بدر العلوم مہگاواں
۶۔ نائب ناظم: منا خورشید صاحب دھیا
۷۔ نائب ناظم: ماسٹر محمد توحید صاحب موہن پور۔
۸۔ نائب ناظم: مولوی محمد سلیم الدین صاحب مہتمم مدرسہ بدرالعلوم مہگاما
۹۔ نائب ناظم: محمد شوکت سردار موہن پور
۰۱۔ خازن: الحاج ولی الدین صاحب موہن پور۔
نگراں انتخاب خود صدر محترم تھے۔ اجلاس بہ حسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔
قضیہ نامرضیہ
2007ء کے قضیہ نامرضیہ پیش آجانے کی وجہ سے جمعیۃ علماء گڈا بھی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی، تاہم خیر کی بات یہ ہے کہ دونوں گروپ ایک دوسرے کے تعاون اور مل جل کر قوم و ملت کی خدمات انجام دیتے ہیں۔ جمعیۃ کے اس دوسرے حصے کی جو تاریخیں دستیاب ہوئیں، وہ پیش ہیں:
انتخابی نشست جمعیۃ علماء گڈا
26/ مئی2013ء مطابق 15/ رجب1434 بروز اتوار بوقت ایک بجے دن جامعہ امداد العلوم کیواں گڈا کے احاطے میں اراکین و مندوبین کی ایک اہم نشست ہوئی، جس کی صدارت حضرت مولانا محمد ادریس صاحب مظاہری الحسینی نے کی۔ اس نشست میں درج ذیل فیصلے کیے گئے:
۱۔ صدر: مولانا محمد ادریس صاحب مہتمم مدرسہ امداد العلوم کیواں۔
۲۔ ناظم اعلیٰ: مولانا و حافظ جناب محمد نعمان صاحب مہتمم مدرسہ اسلامیہ سین پور
جمعیۃ علماء گڈا کا انتخابی اجلاس
15/ اپریل2016ء مطابق 17/ رجب 1437ھ، بروز سوموار دس بجے دن جامعہ امداد العلوم کیواں ضلع گڈا کے احاطہ میں ضلع جمعیۃ گڈا کا انتخابی اجلاس، زیر مشاہدہ جناب محمد اسلام الدین صاحب مدرسہ دارالعلوم مورنئے دیوگھر اور حسب ہدایت حضرت مولانا مفتی محمد شہاب الدین صاحب جنرل سکریٹری جھارکھنڈ منعقد ہوا۔ جس میں اتفاق رائے سے جو کارروائی سامنے آئی، وہ مندرجہ ذیل ہے:
(۱) جناب مولانا محمد ادریس صاحب مہتمم مدرسہ امداد العلوم کیواں کو حسب سابق صدر منتخب کیا گیا۔
(۲) مولانا و حافظ جناب محمد نعمان صاحب مہتمم مدرسہ اسلامیہ سین پور کو حسب سابق سکریٹری کے عہدے پر برقرار رکھا گیا۔
(۳) عبدالستار رحمانی قاسمی کو نائب صدر اور مولانا محمد مبارک حسین صاحب کو نائب سکریٹری کی حیثیت سے منتخب کیا گیا۔
(۴) خازن کے عہدے پر مولانا محمد ابراہیم صاحب سین پور کو منتخب کیا گیا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: