مضامین

تاریخ کے حسین اوراق میں عدالت فاروقی کے سنہرے نقوش

محمد شعیب رضا نظامی فیضی گورکھ پوری ایڈیٹر ہماری آواز، گولابازار، گورکھ پور

ایک خوب صورت اور پروقار معاشرہ کی تعمیر وتشکیل کے لیے عدالتی نظام کا مضبوط، منظم اور مستحکم ہونا ضروری ہے۔ تاریخ کی ورق گردانی کریں تو اس بات کا بہ خوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ عدالتی نظام ہی بہت سارے ممالک کی عروج وزوال کا سبب بنا ہے؛ جس ملک کا عدالتی نظام درست اور مستحکم رہا،اس کی ترقی کی راہیں ہم وار ہوتی رہیں، اور جس ملک کا عدالتی نظام ناتواں اور کمزور پڑگیا اس کی نہ صرف ترقی رکی بلکہ جلد ہی اس کا زوال شروع ہوگیا۔

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی عدالتی نظام کا مستحکم ہونا ہی ایک حسین معاشرہ کی تشکیل کا دل نشیں خواب کو شرمندہئ تعبیر کرسکتا ہے، مگر اس برق رفتاری کے دور میں بھی عدالتی نظاموں کی سست رفتاری دیکھ کر بڑا افسوس ہوتا ہے کہ جہاں آج حکومتیں بدلتے ذرا سا وقت نہیں لگتا وہیں ایک چھوٹے سے مقدمہ کو ختم ہوتے اور اس پر فیصلہ آتے دسیوں سال لگ جاتے ہیں۔اور اگر معاملہ ذرا پیچیدہ ہو تو کئی پشتیں اس دنیا میں آکر شہرخموشاں کامسافرہوجاتی ہیں تب کہیں جاکر فیصلہ آتا ہے، اور یہ حالت کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ عروج وارتقا کی ڈینگیں مارنے والی بہت ساری مملکتوں کی ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ برق رفتاری کے دل داہ ان مملکتوں میں عدالتی کارروائیوں میں اس قدر سستی اور وقت کی بربادی! کہ بہت سارے خاندان کی پوری زندگی مقدموں کی سماعت میں گزر جاتی ہے، کئی ایک بے گناہ ملزم کا پورا کیریئر سلاخوں کے پیچھے ختم ہو جاتا ہے اور حقیقی مجرم کھلے عام گھومتاپھرتا ہے۔ مگر نظام مصطفی جسے خود کو ترقی یافتہ کہنے والے یہ ممالک بہ نظر حقارت دیکھتے ہیں اس نظام میں عدالتی کارروائیوں میں سنجیدگی اور برق رفتاری کے ساتھ ساتھ انصاف کے پیمانے سے لبریز اور سٹیک فیصلے ان کے لیے درس عبرت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج جو قومیں اسلام ومسلمین کو تنگ نظری سے دیکھتی ہیں اور جو نظام مصطفی پر انگشت نمائی کرتی ہیں وہ قومیں بھی ماضی میں عدالت اسلامیہ (مجلس قضا) کی طرف رجوع کرتی تھیں، اس دور کے یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنی عدالتیں پسند نہیں تھیں، لہذا غیر مسلموں کو اسلامی عدالت سے رجوع کرنے کی اجازت دے دی جاتی تھی۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ اس دور میں فیصلوں کے خلاف اپیل بہت کم ہوتی تھی، کیوں کہ فیصلہ اولیٰ ہی اتنا اَولیٰ اور بہترین ہوتا تھا کہ اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، اور اگر کبھی فطرت انسانیہ کے باعث سہو ہوتا بھی تو وہاں موجود قضائیہ مجلسوں کے ممبران فورا اس کی درستگی فرماتے تھے۔لہذا فیصلوں کے خلاف اپیلیں بہت کم ہوتیں، جس کا یہ فائدہ ہوتا مظلوم کو اس کا حق اور ظالم کو اس کی سزا جلد سے جلد مل جاتی، جس کا آج کے دور میں فقدان نظر آتا ہے، جس سے سائل مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں، اور ملزموں کی حوصلہ افزائی اگر نہ سہی تو انہیں اتنا وقت ضرور مل جاتا ہے کہ بسا اوقات وہ اس دوران ایک نیا جرم کرڈالتے ہیں۔مگر نظام مصطفی میں ایسا نہ تھا وہاں فیصلے جلد اور بالکل درست ہوا کرتے تھے،جس کی بے شمار مثالیں دور مصطفی علیہ السلام اور آپ کے پیارے خلفاے راشدین کے عہد زریں میں دیکھنے کو ملتی ہیں خاص کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور خلافت تو عدالت کا عظیم مظہر تھا، جس میں عدالتی نظام اس قدر انصاف پسند ہوتا تھا کہ مظلوم کو اس کا حق دلانے کے لیے اگر کسی اپنے پہ تلوار اٹھانی پڑتی تو شمشیر فاروقی فوراً بے نیام ہوجاتی، عدالت فاروقی کی ہیبت صرف انسانوں اور جناتوں پر ہی نہیں درندوں، پرندوں پر بھی طاری تھی کہ شیر اور بکریاں تلاش رزق میں ایک ساتھ نکلتی تھیں مگر شیر بکری پر کبھی حملہ نہیں کرتا۔ عدالت فاروقی کی مزید چند جھلکیاں آئندہ سطور میں ملاحظہ فرمائیں ……

٭حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک بار بحیثیت مدعا علیہ زید بن جابر کی عدالت میں پیش ہوئے۔ قاضی نے عدالت میں کھڑے ہوکر ان کی تعظیم کی تو آپ نے انھیں ڈانٹا اور عام آدمی کی طرح مخالف فریق کے ساتھ بیٹھ گئے۔

بادشاہ وقت وہ بھی ایک دو ملک نہیں بلکہ نصف دنیا پر جس کی حکومت کا سکہ چلتا ہو اس کی تعظیم کے لیے جج نہیں بلکہ ہر اس شخص کا کھڑا ہونا درست جس نے اپنی آنکھوں سے عدالت فاروقی کا جوہر دیکھیں ہوں، مزید برآں کہ وہ ذات ایسی ہو جس کے بارے میں خود نبی کریمﷺ نے فرمایا ہو کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے، اور آسمان میں جیسے تاروں کا شمار کرنا ممکن نہیں، اسی طرح حضرت عمر کی نیکیوں کا شمار بھی ناممکن ہے، اور وہ ذات جسے نبی مختارﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت دے دی ہو اس کی تعظیم بھلا کوئی کیسے نہ کرے، مگر مذہبی فضیلتوں کے ساتھ وقت کے حکمراں ہونے کے باوجود جب عدالت کے کٹگھرے میں خود آتے ہیں اور کوئی تعظیم کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اسے فقط دکھاوے کا اشارہ نہیں کرتے کہ بیٹھ جاؤ یہ دنیا والے دیکھ رہے ہیں بلکہ اسے ڈانٹ کر حکم دیتے کہ بیٹھوں نہیں تو عدالت سے عوام کا یقین اٹھ جائے گااور کل بروز حشر عدالت خداوندی جس کی تاب لانے کی ہمت کسی میں نہیں وہاں میری پکڑ ہوگئی تو۔

٭اسی طرح ایک دفعہ مال غنیمت میں ایک نفیس کپڑا آیا جسے پانے کی آرزو سب میں تھی مگر لوگوں کے درمیان جب اسے تقسیم کیا گیا تو کسی بھی شخص کے لیے پہننے کا لباس نہیں بن سکتا تھا لہذا سبھی لوگوں نے اسے دوسرے مصرف میں لانے کے لیے رکھ لیا، مگر جمعہ کے دن مسجد میں جب خطبہ دینے کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو انھوں نے اسی کپڑے کا لباس زیب تن کیا تھا، پھر کیا تھا ایک صاحب کھڑے ہوگئے ”امیرالمونین مال غنیمت میں ملا یہ کپڑا کسی کے لباس کے لیے کافی نہ تھا مگر آپ کو کیسے کفایت کرگیا، کہیں آپ نے ہم لوگوں سے زیادہ اپنے لیے تو نہیں لے لیاتھا جس سے آپ کا لباس بن گیا، ہمارا نہیں“ حاکم وقت، خلیفہ رسول جس کی حکومت ایک دو ملک پر نہیں نصف دنیا پر ہو وہ حکمراں اپنے رعایہ کے اس سوال سے کانپ گیا، آپ نے کانپتے ہوئے اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ کی طرف اشارہ کرتے فرمایا: بیٹے انھیں بتاؤ، ماجرہ کیا ہے ورنہ عمر کبھی منبر پہ نہ چڑھے گا، حضرت عبداللہ کھڑے ہوئے اور سائل کے ساتھ پوری عوام کو مخاطب کرکے فرمایا: لوگو! مال غنیمت سے جتنا کپڑا تم سب کو ملا تھا اتنا ہی میرے والد نے بھی خود لیا تھا اور مجھے بھی اتنا ہی ملا تھا تو میں نے اپنا حصہ اپنے والد گرامی کو دے دیا جس سے انھوں نے لباس بنایا۔ اب غور کریں حاکم وقت سے رعایہ کا اس طرح برسرمحفل سوال پوچھنا وہ بھی لباس کے بارے میں، اور یہ بھی نہیں کہ سوال کرنے والا کوئی جاہل وگنوار تھا جس نے جاہلیت کی وجہ سے سوال کرلیا ہو بلکہ اسے اور سب کو دور فاروقی میں حاکم سے سوال پوچھنے کا مکمل اختیار تھا۔

٭اسی طرح ایک بار آپ کے صاحبزادے کی شکایت کی گئی کہ انہوں نے بہت زیادہ نبیذ پی لی ہے جس سے نشہ پیدا ہوگیا ہے تو آپ نے اپنے بیٹے کو ہی حدخمر میں ۰۸ کوڑے لگوائے۔

عدالت فاروقی کی منفرد حیثیت

آپ کی عدالت کا جو طرہئ امتیاز تھا وہ مجلس قضا میں اعلیٰ ترین مشیران کی ہمہ وقت موجودگی، اور آپ ہمیشہ ان سے مشورہ لے کر فیصلہ فرماتے اگر کبھی کوئی موجود نہ ہوتا اور آپ فیصلہ فرمادیتے تو نظر ثانی ضرور کرواتے اور اگر فیصلہ کسی رو سے قابل گرفت ہوتا تو فورا معافی، تلافی کے ساتھ فیصلہ تبدیل فرماتے جیسا کہ ایک بار آپ نے ایک پاگل عورت پر حد جاری کردی،آپ کی عدالت کے مشیر اعلیٰ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو معلوم ہوا تو انھوں نے فرمایا فاتر العقل پر حد جاری نہیں ہوسکتی۔ تو آپ نے فوراً ہی اپنا حکم واپس لے لیا۔اسی طرح ایک بار ایک زانیہ عورت کو سنگ سار کرنے کی اجازت دی گئی، یہ عورت حاملہ تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر سزا رکوا دی کہ یہ عورت بچہ کی ولادت تک سزا کی مستوجب نہیں۔

٭ایک دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہیں جا رہے تھے راستے میں ایک لونڈی کو روتے ہوئے دیکھا، پوچھا:کیوں رو رہی ہو؟ عرض کرنے لگی:مجھے ٹھوکر لگی اور میں گر گئی میرا تیل بہ گیا ہے۔ میری مالکن بہت ظالم ہے مجھ پر تشدد کرتی ہے۔آپ رضی اللہ عنہ نے زمین پر درّہ مارا اور فرمایا:کیا میں نے تجھ پر انصاف نہیں کیا؟اس پر زمین نے فوراً تیل کو باہر نکالا اور لونڈی نے اسے اپنے پیالے میں ڈال لیا۔ ہیبت ِ فاروقی کی یہی وہ شانِ عدل تھی کہ آپ کے عہدِ خلافت میں ظلم و تعدی کا ایک واقعہ بھی نہیں ملتا۔

دور فاروقی کے دیگر نمایاں کارنامے

صرف عدالت میں شہسواری ہی آپ کا عظیم کارنامہ نہیں بلکہ آپ نے اپنے سنہری دور میں کئی تاریخ ساز شعبہ جات کی داغ بیل ڈالی۔ وفاقی سطح پر آپ ہر علاقہ میں محکمہ فوج اور پولیس کے دفاتر کا قیام عمل میں لائے اور فوج اور پولیس کے ملازمین کی باقاعدہ بھرتی کرنے کا طریقہ کار متعارف کروایا۔ محکمہ عدالت اور قاضیوں کا تقرر، ڈاک رسانی کا نظام، بیت المال کا قیام، محاصل کی وصولی سے متعلق اداروں کا قیام، جیل کا قیام، محکمہ زراعت و آب پاشی اور تعلیم کے محکمہ جات کو قائم و مستحکم کیا گیا اور ان میں مربوط نظام کا نفاذ کیا گیا۔ اس سے قبل یہ محکمے موجود نہ تھے۔ تمام محکوں کے افسران اور ملازموں کی تنخواہیں ان کے کام کے مطابق مقرر کیں۔

٭نہری اور زرعی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ترتیب دیا گیا۔ ڈیم اور نہریں بنائی گئیں مثلاً: نہر ابوموسیٰ، نہر معقل، نہر سعد اور زمینوں کو مزارعین میں تقسیم کردیا گیا۔

٭شعبہ جات کے باقاعدہ حساب کتاب کے لیے آپ نے حضرت عثمان بن حنیف، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت عمار بن یاسر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کو مختلف شعبوں میں سربراہ متعین فرما کر ایک مضبوط وفاقی سیکرٹیریٹ کی تشکیل کی جسے قوانین کے نفاذکے لیے سخت ہدایات دیں۔

٭ آپ ہی کے دور حکومت میں حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب سے پہلے جریب کے ذریعے زمین کی پیمائش کی اور اجناس پر ٹیکس مقرر کیا۔

٭ سن ہجری کا آغاز کیا گیا۔

٭ باقاعدہ باجماعت نمازِ تراویح کی ابتدا کی گئی۔

٭مسجد حرام اور مسجد نبوی ﷺ کی توسیع کی گئی۔

٭ جہاد کے لیے باقاعدہ گھوڑوں کی پرورش اور تربیت کا اہتمام کیا گیا۔

٭ تاریخ عالم میں پہلی بار مردم شماری کی گئی۔

٭ نئے شہروں اور صوبوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔

٭ حربی تاجروں کو تجارت کی اجازت مرحمت کی گئی۔

٭ فوجی چھاؤنیوں کا قیام اور ان کی تعمیر کروائی گئی اور فوجیوں کے لیے سالانہ چھٹیوں کا شیڈول مرتب کیا گیا۔

٭ پرچہ نویسوں کا تقرر کیا گیا۔٭ مکہ اور مدینہ کے درمیان مسافروں کے آرام کے لیے سرائیں اور چوکیوں کا قیام کیا گیا۔

٭ بچوں کے لیے وظائف کا اجرا کیا گیا۔٭ مفلوک الحال مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے وظائف مقرر کیے گئے۔

٭ مکاتب و مدارس کا قیام اور اساتذہ کی تنخواہیں مقرر کی گئیں۔

٭ فتوحات کی وسعت سے اسلامی ریاست کے طول و عرض میں اضافہ ہو گیا تھا۔ مختلف اقوام حلقہ اسلام میں قدم رکھ رہی تھیں جس کی بدولت قیاس کا اصول رائج کیا گیا۔

٭ فجر کی اذان میں الصلوٰۃ خیر من النوم کا اضافہ کیا گیا۔

٭ تجارتی گھوڑوں پر زکوٰۃ کا اجراکیا گیا۔

٭ آپ کے دورِ حکومت میں چارسو مساجد تعمیر کی گئیں۔ امام اور موذن کی تنخواہ مقرر کی۔ مساجد میں روشنی اور وعظ کا طریقہ جاری ہوا۔

٭ عشر اور زکوٰۃ کے علاوہ عشور کی اصطلاح آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے متعارف کرائی۔

مندرجہ بالا مختصر بیان سے ہی آپ رضی اللہ عنہ کی مذہبی، معاشرتی، عسکری، معاشی و اقتصادی، سیاسی، قومی اور بین الاقوامی اثرانگیز اور وسیع بصیرت کا علم ہو جاتا ہے۔ یہی وہ ہمہ جہت بصیرت ہے جوعالمِ ہست و بو دمیں آپ کا طرہئ امتیاز ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اگرچہ آپ کی خلافت کم و بیش ساڑھے دس سال کی قلیل مدت تک قائم رہی، مگر اس دوران آپ نے ایسے کائناتی تدبر کا مظاہرہ کیا کہ سلاطینِ عالم کو حیران کر دیا۔ ہر طرف عدل و انصاف کا بول بالا ہو گیا، جہاں کہیں بھی اسلامی ریاست کا علم بلند ہوتا وہاں راست بازی، ایمان داری کا سکہ رائج ہو جاتا۔

یہ سب کچھ حقیقت کی اِس آغوش میں ہوا کہ مملکتِ اسلامیہ حیرت انگیز توسیع سے مشرف ہوئی۔ اس کے باوجود آپ نے نظامِ حکومت کو اس تدبّْر سے مربوط و مستحکم کیا کہ جہاں آپ نے اسلام کے خلاف ابھرنے والی فتنہ انگیزیوں اور سورشوں کا قلع قمع کیا، وہاں اسلامی ریاست کو بھی نا قابلِ تسخیر اس طرزِ ندرت سے بنایا کہ نئے اسلامی آفاقی نظام کی بہررنگ تشکیل کر دی، حتیٰ کہ اسلامی سلطنت ایک مستحکم قوتِ عظمیٰ کے ساتھ صفحہ ہستی پر نمودار ہوئی، کیونکہ آپ کی حق آماج حکمت و بصیرت کا دائرہ صرف ایک سیاسی حکمتِ عملی تک محدود نہ تھا بلکہ معاشی، علاقائی، سماجی اور بین الاقوامی مذہبی و معاشرتی جہتوں کی تشکیلِ نو اور تکمیلِ ہموار تک پھیلا ہوا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: