اسلامیات

تبلیغی جماعت اور جمعیت علمائے ہند میں‌سے کون

سید الملت مولانا محمد میاں صاحب کا جواب

تبلیغی جماعت اور جمعیت علمائے ہند
20/ اکتوبر1969ء
محترم امیر احمد صاحب نے مولانا محمد میاں صاحبؒ کو تحریر فرمایا ہے:
عرصہئ دراز ہوا، میں نے آپ کی خدمت اقدس میں ایک لفافہ بغرض معلومات جمعیت علما و تبلیغی جماعت کی چلہ کشی کے سلسلہ میں لکھا تھا کہ دونوں جماعتوں میں فرق مراتب کی حیثیت سے شرعی فیصلہ فرمائیں اور اخبار سے اشاعت ہو۔چوں نکہ میں جمعیت کی ممبر سازی کر رہا تھاکہ کچھ لوگوں نے مجھے چلہ دینے کے لیے کہا اور اس کام کو غیر ضروری سمجھ کر ہی ان لوگوں نے میری سخت گرفت کی، جب کہ میں اس کام کو نہ زیادہ ضروری سمجھتا ہوں، اور شیخ الاسلام نمبر میں جو خط حضرت مدنی کامر قوم ہے، اس وجہ سے مجھے اس سے اور دل چسپی زیادہ ہے۔ تبلیغی حضرات اس طرف روپیہ خرچ کرنا زیادہ ثواب سمجھتے ہیں اور جمعیت کے ۴/دینے بے کار سمجھتے ہیں۔میں بہت زیادہ منتظر ہوں۔ہر روز اخبار میں دیکھتا ہوں؛ مگر نہیں پاتا۔ امید ہے کہ ضرور مستفیض فرمائیں گے۔
طالب دعا: احقر امیر احمد سکنہ تھیڑی ڈاک خانہ خاص، ضلع مظفر نگر۔
جواب
آج 18/ اکتوبر ہے۔ گرامی نامہ مؤرخہ 3/ اکتوبر کا جواب بہت دیر سے دے رہا ہوں۔ اس عرصہ میں بہت زیادہ مصروف رہا۔ معاف فرمائیے۔ احقر کے خیال میں دونوں کی زیادتی ہے۔آپ کی بھی اور تبلیغی جماعت کے حضرات کی بھی۔ تبلیغی جماعت اور جمعیت علما کے افراد میں مقاطعہ کی شکل نہ ہونی چاہیے۔ تبلیغی جماعت کا کام ہرایک کو معلوم ہے۔ اس کی برکات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کام میں جہاں تک ممکن ہو، شرکت کی جائے؛ مگر تبلیغی جماعت مصیبت زدہ اور تباہ شدہ مسلمانوں کی ریلیف کا کام نہیں کرتی۔ تباہیاں جگہ جگہ آ رہی ہیں۔ تباہی اور بربادی کے بعد دوسری مصیبت گرفتاریوں کی ہوتی ہے۔ بے تحاشا مسلمان گرفتار ہوتے ہیں، ان کی ضمانتوں، پھر مقدمات کی پیروی پر غور،پھر ان کی آبادکاری کی جدوجہد اور اس سلسلہ کے مطالبات تبلیغی جماعت نہیں کرتی۔ زبان، ملازمتوں، اوقاف یا مثلاً پرسنل لاء و غیرہ کے متعلق جو شوشے آئے دن چھوڑے جاتے ہیں اور اس طرح کے وہ معاملات، جن کا تعلق مسلمانوں کی بقااور ترقی سے ہے اور بنیادی مذہبی تعلیم کے متعلق تعلیمی اداروں کا قیام، جن پر تہذیب مسلم کا بقا موقوف ہے؛ یہ کام تبلیغی جماعت نہیں کرتی۔ نہ اس کو کرنا چاہیے؛ کیوں کہ ان دھندوں میں پڑنے کے بعد وہ اپنا کام نہیں کر سکے گی۔ اور اگر کرنا چاہے تو بھی نہیں کر سکتی؛ کیوں کہ ان کاموں کے لیے انجمن سازی اور باقاعدہ تنظیم کی ضرورت ہے، جو تبلیغی جماعت کے اصول کے خلاف ہے۔ یہ تمام کام جمعیت علما کے فرائض میں داخل ہے، یہی اس کے مقاصد ہیں۔ اگر ان کاموں کی ضرورت سے انکار نہیں ہو سکتا اور اگر کام ان کاموں کا انجام دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے، جتنا مسلمانوں کو پابند صوم و صلوۃ بنانے کا، تو جمعیت علما اور اس کی ممبر سازی اور اس کی امداد و اعانت کی ضرورت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کی بحث کئی حضرات سے ہوئی، ان سے احقرواقف نہیں ہے۔ باقی تبلیغی جماعت کے اکابر ہمیشہ جمعیت علما کی اہمیت اور اُس کی ضرورت کو تسلیم کرتے رہے ہیں۔
والسلام نیازمند محتاج دعا: (مولانا) محمد میاں۔ (روزنامہ الجمعیۃ،20/ اکتوبر 1969ء)


Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close