مضامین

تبلیغی جماعت کا بہانہ مسلمان ہے نشانہ!

مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی

گودی میڈیا کے ذریعہ تبلیغی جماعت کو بے جا تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہیں اس وقت گودی میڈیا اور بعض نادان دوست تبلیغی جماعت کو بےجا تنقید اور سب و شتم کا نشانہ بنانے میں مصروف ہیں ۔
سب جانتے ہیں کہ یہ لاک ڈاؤن اچانک ہوا۔مگر پھر بھی اس پر قابو پانے کے لئے
ملک کے شانہ بشانہ سب سے زیادہ اسلامی ادارے،مذہبی جماعتیں،علماء کرام اورمفتیان عظام ہیں۔
گویاآج ترازو کے دوپلڑے میں سے ایک میں کرونا وائرس اور دوسرے میں بھارت کےتمام باشندےہیں۔
اس موضوع پرملک کے مسلمانوں کی حساسیت کی اس سے بڑی کیا مثال کیا ہوسکتی ہے کہ اس نے ساری زندگی جن مساجد کی درودیوار کو بوسہ دیا،اپنی پیشانیوں سے جن کے مصلوں کو آباد کیااورہرمصیبت میں دوڑ کر جس اللہ کے گھر کی چوکھٹ پر حاضری دی؛آج اس وباءسےتحفظ کےلئےحکومت کے اعلان پر اللہ کے ان گھروں کو امام و مؤذن کےحوالےکرکے اپنے غریب آشیانوں کےآنگن میں ہی مصلے بچھادئیے۔
مرکز نظام الدین دہلی بھی مسجد اور مدرسے کا سنگم ہے۔وہ ہمارے ماتھے کا جھومرہے۔وہ ہماری پیشانیوں کا نوراور ہمارے بے نور دلوں کا وجہ سرور ہے۔بلکہ موجودہ زمانے میں نظام الدین کی جماعت کا نظام بقاء انسانیت کی روح اور ہمارے لاکھوں جوان،بوڑھے اور بزرگ جو گم گشتہ راہ ہوگئے؛ان کے لئے مشعلِ راہ ہے۔
سالہا سال سے نظام الدین میں ہردن ہزاروں لوگ حکومت کی نظروں کے سامنے رہتے اور کام کرتےآۓ ہیں تو جب اچانک لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا اور کہ دیا گیا کہ جوجہاں ہےویں رہےتو پورا دیش پھنس گیا۔ دہلی،ممبئ،بنگلور،حیدرآباد،ہریانہ اورپنچاب میں لاکھوں مزدور پھنس گئےتو اس عالمی مرکز میں دوچار ہزارلوگوں کا پھنسا رہ جاناکون سا حیرت انگیز واقعہ ہے؟اور اس وقت جبکہ مرکزوالوں نے حکومت کو اس کی اطلاع بھی دے رکھی ہو اور باہر نکلنے کی گہار بھی لگائ ہوئی ہو۔مشتبہ افراد کا ٹیسٹ کروانے اور نتائج کے مطابق عمل کرنے میں بھارت کے تمام بھارتیوں اور مرکز کے جماعت کے ساتھیوں کے بیچ تفریق کے کیا معنی ہیں؟ہرجگہ چیک اپ اور یہاں ہنگامہ چہ معنی دارد؟آئین و دستور کے مطابق کارروائی کی ہم مکمل حمایت کرتے ہیں مگرمیڈیا کے ذریعے اسےہندو مسلم کی ڈگر پر لے جانا اور کیجریوال کے ذریعے مولانا سعد صاحب و دیگر کے خلاف FIR کروانایہ آخری درجے کی تنگ ذہنیت اور مسلمانوں کے خلاف عصبیت کی عکاسی کرتا ہے۔
لیکن مصیبت کی اس گھڑی میں اس سے زیادہ خطرناک پہلو ہمارا آپس میں مرکز والوں کے خلاف بحث و تکرار اور تنقید و تبصرہ ہے۔
رفقاء گرامی!
آج ہمارے اکابرین کے لگاۓ ہوۓ باغ پر کرونا کا بہانہ بنا کر اسلام اور مسلمانوں کے دشمن اپنے دیرینہ عداوت کا پھل کاٹنا چاھتے ھیں۔
ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔آپ سے بھی گذارش ہے کہ آگے آئیں اور مولانا سعد صاحب سے نظریاتی اختلاف کو فراموش کر کے ایک صف میں کھڑے ہوجائیں اور قانونی دائرے میں رہ کرمرکز کا بھرپور دفاع کریں۔
شکوے شکایات کو مکمل بھول جائیں اور یاد رکھیں کہ آج اگر ہم نےاس اسلامی قلعے میں سیندھ لگانے کا انہیں موقع دےدیا تو خدا کی قسم کل ہماری مسجدیں اور پرسوں نونہالان ملت اسلامیہ کے ہمارے مراکز؛مکاتب دینیہ اور مدارس اسلامیہ آخری نشانے پر ہوں گےاور ہم تماشہ دیکھیں گے اور وہ دونوں ہاتھوں سے تالیاں بجائیں گے ۔
اگر مولانا سعد صاحب کا ایمان اور یقین ہے کہ سب کچھ اللہ سے ہوتا ہے تو ہمارا بھی وہی ایمان ہے کہ اللہ کے ازن کے بغیر کائنات کا ذرہ بھی حرکت نہیں کر سکتا ہے۔ حالات پریشانیاں ، بیماریاں سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اسے پر مسلمانوں کا ایمان و یقین ہے کہ ہم ہر اچھی بوری تقدیر پر ایمان لائے ہیں۔ یہ بات اور ہے کہ وہاں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئی ہو اور اقدامات نہ اٹھائے گئے ہو۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کا مزاق اڑائے وہ بھی ایمان کو لے کر اگر تبلیغی جماعت کے افراد کے ایمان مضبوط ہے وہ کسی چیز سے متاثر نہیں ہوتے ہیں یہ انکا اپنا معاملہ ہے۔ اور ایسا نہیں کہ وہ پورے کے پورے جاہل قسم کے لوگ ہیں اس میں بڑے بڑے ڈاکٹر انجینئر، تعلیم یافتہ افراد موجود ہے۔ وہ اپنے اپنے طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہوگے لیکن ہمیں یہ بلکل شوبہ نہیں دیتا ہے کہ ہم انہیں لعن طعن کریں۔ بیماری موت سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ایمان کو لے کر مزاق بنانا بلکل غلط بات ہے۔ آپ کو اگر فکر ہے تو آپ نے اپنے افرا کو وہاں بھیجنا چاہیے تھا ان سے ملاقات کر کے حالات کی سنگینی کو سامنے رکھنا چاہیے تھا ہو سکتا تمہارے کہنے پر وہ بات کو تسلیم کرتے۔ لیکن صرف سوشل میڈیا پر بکواس کرنا اور وہ بھی اپنے ایمان والے بھائیوں کے ساتھ، ایمان والے ایک جسم کے مانند ہے۔ اگر کسی عضو میں بھی تکلیف ہوتی ہے یا دنیا کے کسی بھی خطے میں مسلمانوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن یہاں ہم اپنے بھائیوں پر کاروائی ہوتی دیکھ کر مزاق اڑا رہے ہیں، ان پر ہنس رہے ہیں۔ کہ اب دیکھو انکے ایمان کیا ہوگئے۔ ایمان کی طاقت ہی ایسی ہے کہ ایمان والے زمین کے نیچے اور آسمان کے اوپر کی باتیں کرتے ہیں قریش مکہ اور سرداران بھی نبی کریم ﷺ کو جھٹلایا کرتے تھے مزاق اڑایا کرتے تھے جب آپ ﷺ انکے سامنے اللہ کے وحدانیت اور اللہ کے رسول ہونے کی دعوت پیش کرتے وہ لوگ سمجھتے کہ آپ ﷺ نعوذباللہ مجنون ہے ۔ ایمان کو ناپنے کا پیمانہ اور کسی کے دل کے حال کو جانچنے کیلے آپ کو مقرر نہیں کیا گیا ہے کہ کس کا ایمان کس درجے کا ہے۔ ہماری ذمہ داری بحیثیت ایک مسلمان بھائی کو ایک دوسرے کی مشکل حالات میں مدد کرنے کی ہے حوصلہ فراہم کرنے کی ہے۔
آج ان پر مصیبت کو دیکھ کر ہنسی مذاق اور خوشی منانا کونسا دین ہے کس نے سیکھایا ہے یہ ہمیں تو محبت بھائی چارگی کا پیغام دیا گیا ہے۔ ہمیں تو یہ کہا گیا ہے کہ راستہ سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹانا بھی صدقے کا ثواب ہے۔ جب کوئی اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے تو اللہ بھی اسکی مدد کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مسلکی اختلاف کو اپنے گھر پر رکھے حالات کی نزاکت کو دیکھے ہم بحیثیت مسلمان ایک جسم کے مانند ہے۔ اگر کسی بھی طرح کی ملی تنظیموں پر آنچ آتی ہے تو ہم سب نے مل کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ جب فساد ہوتا ہے پتہ چلتا ہے کہ وہاں جماعتیں اور مسلک پوچھ کر حملہ نہیں کیا جاتا ہے بلکہ فرقہ پرست عناصر پوری مسلم بستیوں کو آگ کے حوالے کردیتے ہیں انکی پراپرٹی کے ساتھ گھروں کو آگ لگا دیتے ہیں بچوں خواتین بوڑھوں تک کو نہیں بخشتے ہیں ۔ اور ہم اب بھی مسلکی منافرت کہ پھیلانے میں لگے ہیں۔ جب قحط سالی بڑھتی ہے ملک میں وبائی امراض پھلتے ہیں تو وہاں سب سے بڑا مسلک روٹی ہوتا ہے جان کی حفاظت ہوتی ہے۔ حالات کی نزاکت کو سمجھے اور ملت کو مضبوط کرے اگر ایسی ہی کاروائی چلتی رہی کل کو یہ فرقہ پرست عناصر ملک میں مذہبی امور پر پابندی لگا دے گے۔ آپ کو مزاق لگ رہا ہے میڈیا جس طرح سے تبلیغی جماعت پر بکواس کر رہا ہے انہیں ملک کیلے خطرناک بتا رہا ہے یہ بہت گھناؤنا کھیل ہے۔ یہ لوگ اتنے چلاک ہے مسلمانوں کے انہیں طبقات پر حملہ کرتے ہیں جو ملت کیلے کچھ اچھا کرنے اور آگے کیلے زمین ہموار کر رہے ہیں۔ تبلیغی جماعت پر پابندی کا مطلب اسلام کی تبلیغ پر پابندی عائد کرنا ہے۔ وقت کا فائدہ اٹھا کر ان حالات میں بھی فرقہ پرست اپنی چالیں چل رہے ہیں اور ہم مسلمان ان کیلے کھیل تماشہ بن رہے ہیں۔ اس لیے متحد ہوجائیں اس سے پہلے کہ یہ آگ تمہارے گھروں تک پہنچ جائے اور اسے بجھانے والا کوئی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ حاسدین کے حسد سے فتین کے فتن سے ظالمين کے ظلم سے جماعت تبلیغ کی اور جمیع امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین ::::::::::::::::::::

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: