مضامین

تحریک آزادی وطن اور علماء مدارس اسلامیہ کا کردار

مولانا مفتی ) محمد مرشد قاسمی صدر جمعیۃ علماء ضلع کوشامبی و شہر الہ آباد یوپی انڈیا ، خادم مدرسہ جامعہ محمدیہ الہ آباد

**

*،،،،، تاریخ کے آئینہ میں ،،،،،*

*قسط نمبر (2)*

*قارئین کرام! شمالی ہند کا حال یہ تھا کہ راجہ کے علاوہ پوری خلق خدا کمپنی کے احکامات اور زیادتیوں سے حیران و پریشان تھی، اور دہلی کے حالات کا اندازہ تو حضرت مولانا محمد میاں دیوبندی رحمۃ الله عليه کے تحریر کردہ ان جملوں سے لگائے ،،،،،، جب اٹھارہویں صدی ختم ہوئی اور انیسویں صدی کا آغاز اس طرح ہوا ،کہ لارڈمیک انگریزی فوجوں کو لیکر دہلی کی طرف بڑھا، سندھیا کی فوجیوں جو شاہی اقتدار کی محافظ تھیں ، سینہ سپر ہوئیں، مگر انگریز کی فوجی طاقت مرہٹوں کی قوت ایثار سے بڑھی ہوئی تھی ، مجبوراً شکست خوردہ دہلی نے انگریزوں کا استقبال کیا لارڈمیک نے 1803ء میں دہلی پر تسلط کرکے شاہ عالم بادشاہ سے ایک معاہدہ کرلیا، اور یہ طے ہوگیا ،،، خلق خدا کی،، ملک بادشاہ سلامت کا ،، اور حکم کمپنی بہادر کا ہوگا ۔*

*الغرض یہ صورت حال صرف دہلی یا اطراف دہلی کی نہ تھی ، بلکہ ملک کے تمام مرکزی مقامات بھی ایسے ہی حالات سے دوچار تھے ، اور ایسٹ انڈیا کمپنی جو تاجرانہ حیثیت سے ملک میں اقامت پزیر تھی تجارت کے بھیس کے ساتھ ساتھ حکومت کا لبادہ اوڑھ چکی تھی اس خونی داستان کو سن کر اور ملک میں آئے ہوئے تاجروں کی بے راہ روی دیکھ کر خاندان ولی اللّٰہی کے چشم و چراغ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کا قلب تڑپ اٹھا تو انھوں نے اپنے والد و شیخ کے تحریر کردہ اصولوں اور تجویز کردہ طریقہ کو عملی جامہ پہنانے کی فکر فرمائی ۔*

*چنانچہ ! طالبان علوم نبویہ اور عاشقانِ رسول عليه الصلوٰۃ والسلام کی قرآن و حدیث کے علم کے ساتھ ساتھ عملاً وہ تربیت فرمائی ، جس کے ذریعہ انسان کو شیطانیت سے نکال کر انسان بنایا جاسکے، ظالم و جابر افراد سے مظلوموں کو نجات دلائی جاسکے، اور جب وحشیانہ درندگی مزید بڑھی تو حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی نے سب سے پہلے جہاد کا فتویٰ صادر فرمایا ۔*

*دوسری طرف تکیہ رائے بریلی (یوپی) میں ایک مشہور سادات خاندان آباد تھا جو تقریباً 600/ سال قبل امیر سید قطب الدین عليه الرحمہ ( جن کی قبر قصبہ کڑا کوشامبی میں موجود هے) کی شکل آکر آباد ہوا تھا ، اس کے چشم و چراغ حضرت مولانا سید احمد شہید بریلوی تھے ، یہ بھی اپنے شیخ شاہ عبدالعزیز عليه الرحمہ سے پہلی ملاقات کے دوران والے دعائیہ جملوں پر برابر غور فرماتے اور اسی فکر میں قدم آگے بڑھاتے رہے،*

*شاہ عبدالعزیز عليه الرحمہ سے ملاقات کے بارے ميں مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی عليه الرحمہ سیرت سید احمد شہید میں یوں فرماتے ہیں ،،، کہ سید صاحب دہلی پہنچ کر حضرت شاہ عبدالعزیز کی خدمت میں حاضر ہوئے ، شاہ صاحب نے مصافحہ و معانقہ فرمایا اور اپنے برابر بٹھایا اور دریافت کیا ،، کہاں سے تشریف لائے ؟ آپ نے کہا رائے بریلی سے ،، فرمایا کس خاندان سے ہیں ؟ کہا وہاں کے سادات میں شمار ھے ،، فرمایا ،، سید ابوسعید صاحب، سید نعمان صاحب سے واقف ہیں ؟ تو سید صاحب نے فرمایا کہ سید ابوسعید صاحب میرے نانا اور سید نعمان صاحب میرے حقیقی چچا ہیں ،، شاہ صاحب نے اٹھ کر دوبارہ مصافحہ و معانقہ کیا اور پوچھا ،، کس غرض سے اس طویل سفر کی تکلیف برداشت کی ؟؟؟ سید صاحب نے جواب دیا ،، آپ کی ذات مبارک کو غنیمت سمجھ کر الله تعالیٰ کی طلب کیلئے یہاں پہنچا ،، شاہ صاحب نے فرمایا کہ الله کا فضل اگر شامل حال ھے تو اپنے دادی ہال اور نانیہال کی میراث تم کو مل جائے گی ۔*

*چنانچہ ! پہلی ملاقات کے بعد حضرت سید صاحب نے چند سال حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں بغرض تعلیم و تربیت گزارے اور پھر وطن واپس تشریف لا کر اس فکر میں مصروف ہوگئے، جس کی شاہ عبدالعزیز عليه الرحمہ نے تعلیم و تلقین فرمائی تھی ، اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی عليه الرحمہ کے تجویز کردہ اصولوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ملک کے نوجوانوں کو منظّم فرمایا ، اور آزاد قبائل کے ساتھ شریک ہوکر انگریزوں سے مقابلہ کی تیاری شروع کردی ، سب سے پہلے علاقائی نوابوں اور راجاؤں کو خطوط لکھے ملکی صورت حال سے آگاہ کیا، خطوط و پیغامات کے مضمون کے سلسلے ميں حضرت مولانا محمد میاں دیوبندی عليه الرحمہ شاندار ماضی میں یوں تحریر فرماتے ہیں ۔*

*خدا گواہ ھے ہمارا منشاء نہ دولت جمع کرنا ھے نہ اپنی حکومت قائم کرنا ھے ہمارا منشاء یہ ھیکہ بعیدالوطن بیگانے جو تاجر بنکر آگئے تھے ، اور اب ،، ملوک زبان و زمین بن گئے ہیں، ان کو وطن سے نکال دیں ،،، اسی طرح سے راجہ رنجیت سنگھ کے پاس خاص مکتوب کے ساتھ ایلچی بھیجا،،، کہ ہم لوگ نہ تیرے ملک و مال کے طالب ہیں نہ تیری جان و عزت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور نہ لڑنے کے خواہاں ہیں، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا ساتھ دے اور ہمارا رفیق بنجا، دشمنوں کے خلاف جہاد کرکے ہم ملک تیرے حوالے کردیں گے یہ دعوت منظور نہ کی تو لڑائی کے سواء کوئی چارہ نہیں* ۔

*قسط جاری ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

*( مولانا مفتی ) محمد مرشد قاسمی صدر جمعیۃ علماء ضلع کوشامبی و شہر الہ آباد یوپی انڈیا ، خادم مدرسہ جامعہ محمدیہ الہ آباد*
*موبائل نمبر:۔ 9897548373*

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: