مضامین

تحریک آزادی وطن اور علماء مدارس اسلامیہ کا کردار

تاریخ کے آئینہ میں

قسط نمبر (۱)

*قارئین کرام! ستر سال سے زیادہ عمر والے ہندوستانی باشندے اس حقیقت سے بہت اچھی طرح آشنا ہیں کہ آزادئ ہند 1947 ۶ سے پہلے اس ملک میں چلنے والی ہر تحریک میں مسلمانوں بالخصوص علماء مدارس اسلامیہ کا ظاہری اور باطنی دونوں طرح کا کردار بہت نمایاں رہا ، بلکہ ان علماء نے ملک کے دشمن عناصر سے روبرو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہی گفتگو نہیں کی بلکہ انہوں نے تو میدان کارِ زار میں اپنی قوت بازو اور عقل ہوشمندی کے جوہر دکھلائے ، حتیٰ کی میدان جنگ سے منہ پھیر کر بھاگنے والے نہیں بلکہ اپنی قیمتی جانوں کو وطنی محبت میں قربان کردیا پھر قید ہوکر جیل خانوں اور قید خانوں کی زینت بنے ، مقدمات چلائے گئے ، جلا وطن کئے گئے ، اور بعض حقیقی محبت رکھنے والوں نے تو یہاں تک کر دکھایا کہ پوری زندگی فرنگیوں اور انگریزوں کی حکومت میں واپس آنا گوارہ نہ کیا بلکہ جلا وطن رہکر اپنی جان جان آفریں کے حوالہ کردی ، اور بہت سے خودداروں نے ملک چھوڑا دوسرے ملک میں پہنچ کر آزادی وطن کیلئے تحریکیں چلائیں ، ہمسایہ ملکوں کو صورت حال سے آگاہ کیا ان کی سلطنتوں کے دروازے تعاون و مدد کیلئے کھٹکھٹائے ، کالا پانی سے لیکر مالٹا کی چیل تک اذیت ناک سزائیں بھگتیں ، یہ سب کچھ کیوں برداشت کیا ؟؟؟*

*اس کے سلسلے ميں مورخ ہند ،،، مولانا محمد میاں دیوبندی علیہ الرحمہ کے وہ جملے جو انھوں نے تحریک شیخ الہند میں ،،، بعنوان ،،، یورپ کی یورش لکھتے ہیں انکا ملاحظہ کرنا ضرروی ھے ۔*

*،، یہ یورش کیوں تھی ، کسی اصلاح کیلئے ؟ انسانیت اور شرافت پھیلانے کیلئے ؟ کوئی آسمانی پیغام پہنچانے کیلئے ؟ دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے ؟ ہرگز نہیں ، بالکل نہیں ، یہ یورش کرنے والے ان تمام کاموں سے ناآشنا تھے ، ۔۔۔۔۔ پھر آگے خود ہی بطور جواب تاریخ امریکہ کے حوالہ سے نقل فرماتے ہیں ، کہ کسی سلطنت کے مال کو لوٹ کر آپس میں تقسیم کر لینا ، کسی قدیم ہندوستانی خاندان کی فراہم شدہ دولت کو چھین لینا ، یہی معمولی خواب تھا ۔ جس کو اسپین ( یورپ ) کا ہر باشندہ دیکھ کر محظوظ ہوتا تھا ۔*

*بہر کیف 1500 ۶ میں پرتگال والوں کی پہلی تجارتی کوٹھی کالی کٹ میں قائم ہوئی ، اور1506 ۶ میں انہوں نے گوا پر قبضہ کرلیا ، اور1510 ۶ کالی کٹ کو لوٹ کر تباہ کرتے ہوئے راجہ کے محل کو جلا دیا ۔ایک صدی کے اندر اندر انکی کوٹھیاں کوڑیال بند ( بنگلور ) کو چین سیلون ، گوا، اور ناک پین (ناگور) ضلع مغربی آرکاٹ میں قائم ہوگئیں ۔*

*ان ستم شعار بندگان حرص و طمع کی نظر میں ہندو مسلمان کا کوئی فرق نہیں تھا ، اور جب ملک کے حالات بد سے بدتر ہوتے گئے اور یورپین ملک پر اپنے تسلط کو جمانے لگے، اور بادشاہ ہندوستان اکبر کو اس کی پرواہ نہ رہی کہ یہ قوم یہاں آکر ملک کو تباہ و برباد کرے گی یا ملک کو ترقی دیگی ۔*
*چنانچہ ! 1625 ۶ کا زمانہ ھے اور مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے قلب میں ایک جلن اور کڑھن تھی ، ان کا سینہ پوری نوع انسانی کیلئے ہمیشہ کھلا ہوا تھا، ان کو گوارہ نہیں تھا کہ ایشیاء جو انسانیت و شرافت اور اخلاق کا گہوارہ رہا ھے ، اور آج بھی اس کے گلشن ميں یہی پھول کھل رہے ہیں اس پر یورپ والوں کا تسلط ہو ۔ اور حضرت کا یہی جزبہ یعنی مشرق سے دفاع ان کا مقدس ترکہ تھا ، جس کو ان علماء نے اپنایا جو حضرت مجدد صاحب کے جانشین ہوئے ۔*

*چنانچہ! اٹھارہویں صدی میں یہ جانشینی حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی اور ان کے خاندان کے ہونہار فرزندوں کے حصہ ميں آئی ۔ حضرت شاہ صاحب کے حساس قلب نے بڑی تیزی سے اس درد کو محسوس کیا اور اس کے سدباب کیلئے سفر حجاز کا ارادہ فرمایا تاکہ وہ سفر آپ کیلئے شفاء روح بھی ہو اور تسکین درد بھی ، نیز وہاں پہنچ کر پورے عالم اسلام کے لوگوں سے مل سکیں اور وہاں کے حالات معلوم کر سکیں* ۔

*چنانچہ 1730 ۶ میں آپ حجاز تشریف لے گئے اور دوسال قیام فرماکر اپنے علمی اور روحانی مشاغل کے ساتھ یورپ و افریقہ و ایشیاء کے زائرین کے ساتھ مل بیٹھ کر ان کے ممالک کے حالات دریافت فرمائے ، اور سب سے بڑی حکومت کے اندرونی حالات کا گہرائی سے جائزہ لیا ، جیسا کہ آپ خود ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں ۔کہ ہندوستان کے حالات ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں ، کیونکہ وہ خود اپنا وطن ھے جہاں ہم پلے بڑھے اور جوان ہوئے عرب کے ملک بھی دیکھ لئے ہیں ، اور ولایت ( یعنی یورپ کے وہ صوبے جو ترکی ممالک میں داخل تھے ) ان ولایت والوں کے حالات بھی ہم نے وہاں کے ثقہ اور معتمد لوگوں سے سن لئے ہیں ۔*

*الغرض حضرت شاہ صاحب نے کچھ ایسے اصول مرتب فرمادئیے تھے جن کو اپنا کر کوئی بھی حکمران عدل و انصاف والی حکومت کرسکتا تھا، لیکن نفاذ کا موقع نہ مل سکا ، ملکی حالات تبدیل ہوتے رہے ، عیش پرستوں کی داستانیں روز افزوں آگے بڑھتی رہیں ، یہاں تک کہ وہ وقت آیا کہ وطن عزیز ہندوستان کی راجدھانی شہر دہلی میں قتل عام برپا ہوا ہزاروں کی تعداد ميں لاوارث لاشیں سڑکوں پر پڑی رہیں ، اس حال میں حضرت شاہ صاحب اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔*
*اس کے بعد حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ والی جانشینی شاہ صاحب کے صاحبزادے اور خلیفہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کے حصہ ميں آئی جن کی عمر صرف سترہ سال ھے لیکن فکر ستر سال والوں کی طرح ہیں ، ہہی وجہ تھی کہ شاہ عبدالعزیز صاحب نے اپنے والد اور شیخ کے مرتب کردہ اصولوں کو عملی جامہ پہنانے میں پوری سعی توجہ فرمائی ۔ ۔۔۔۔ یہ اس وقت کی بات ھے جب میسور کا بہادر فرزند ، اسلام کا جانباز سپاہی سلطان ٹیپو ملک اور وطنی محبت کے خاطر ان ظالم و جابر حکمرانوں کا آخری دم تک بڑی بہادری اور جانفشانی سے مقابلہ کرکے جام شہادت نوش فرما چکا تھا ۔ وقت شہادت اس کا مقولہ اس کی زبان پر تھا جس کو وہ گاہے بگاہے کہا کرتا تھا ،،، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی اچھی ھے ،،، یہ کون ہے یہ وہی باہمت و باعظمت سلطان ٹیپو ہے جس کی شہادت کے بعد برطانوی جنرل ہارس کا نعرہ یہ تھا کہ ،،، آج ہندوستان ہمارا ھے ۔ یہ تو معاملہ تھا جنوبی ہند کا لیکن شمالی ہند میں بھی کوئی آرام و سکون نہ تھا ، یہاں کے حالات بھی بہت خراب تھے* ۔

قسط جاری ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( مولانا مفتی) محمد مرشد قاسمی صدر جمعیۃ علماء ضلع کوشامبی و شہر الہ آباد یوپی انڈیا ، خادم مدرسہ جامعہ محمدیہ الہ آباد
موبائل نمبر:۔ 9897548373

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: