مضامین

تحریک خلافت میں حضرت مولاناابوالمحاسن سجادؒ کاکردار پس منظروپیش منظر

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

ذہنی انقلاب
مفکراسلام حضرت ابوالمحاسن مولانامحمدسجادؒکی قومی وملی خدمات کادائرہ بے حد وسیع ہے،مولاناؒکی زندگی کاتقریباً پچیس(۲۵) سالہ عرصہ انہی خدمات میں صرف ہوا،جس میں زندگی کےہرنشیب وفرازکاسامناکیا،حصولیابیاں بھی دیکھیں اورمحرومیاں بھی،بقول حضرت مولاناسیدمنت اللہ رحمانیؒ :
"سخت سےسخت مصیبتیں جھیلیں ،لوگوں کی زبان سے گالیاں بھی سنیں اورپھر
انہی کےہاتھ سےپھولوں کےہاربھی پہنے،ایسابھی ہواکہ گاؤں والوں نےتقریر
نہیں کرنےدی اورگویانکال دیا،اوریہ بھی دیکھاکہ مولاناؒکی سواری کےساتھ
دودو کوس تک گاؤں والے خوشی میں نعرہ لگاتے دوڑتے چلےجارہے ہیں”
تدریس سے ملی قیادت کی طرف
حضرت ابوالمحاسن ؒفطری طورپرخالص مدرس اورعلمی شخصیت کےمالک تھےجس کی تفصیل پیچھے گذرچکی ہے،آپ میں یہ ذہنی تبدیلی قریب ۱۹۰۸؁ء یا۱۹۰۹؁ء(۱۳۲۶؁ھ یا۱۳۲۷؁ھ)میں شروع ہوئی،جب آپ کاایک انگریزی داں شاگردزاہدحسین خان دریاآبادی (الٰہ آبادکاایک محلہ)انگریزی اخبارات سےنت نئی خبریں اوردنیاکےواقعات سناتاتھا،اور حضرت مولاناان کوسن کرتڑپ تڑپ اٹھتےتھے،دل کےاسی اضطراب نے ان کاذہنی رخ تبدیل کیا اوررفتہ رفتہ وہ کتابی دائرے سے نکل کرملت کےوسیع میدان میں پہونچ گئے، روز روزایک ہی سبق کی تکرارسےدلچسپی کم ہوتی چلی گئی،دنیاکےبدلے ہوئے حالات میں مدرسہ کاحصارانہیں تنگ محسوس ہونے لگا،بالآخر”انہوں نے وہ چیزپالی جس کی انہیں ضرورت تھی ،بلکہ زیادہ صحیح لفظوں میں اسی کےلئےوہ پیداکئےگئےتھے”،پہلے ان کےسامنےصرف مدرسہ کےلوگوں کےمسائل تھے،اب ساری قوم بلکہ ساری انسانیت کادرد ان کادردبن گیا:
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارےجہاں کادردہمارے جگرمیں ہے
ایک جامع مرکزکی تاسیس
چنانچہ اس ذہنی انقلاب کےبعدانہوں نےگیاپہونچ کرایک ایسے مدرسہ کی بنیاد ڈالی،جوان کی تعلیمات کامرکزبھی بنااور تحریکات کامنبع بھی۔
مولانامنت اللہ رحمانی صاحب تحریرفرماتے ہیں :
"مولانانےگیاپہونچ کرقومی اورملکی کاموں میں حصہ لیناشروع کردیا،علماء کی
تنظیم ، جمعیۃ علماء کاقیام ،تمام مدارس عربی میں ایک اصلاحی نصاب کااجراء ،
امارت شرعیہ کی اسکیم وغیرہ یہ سب چیزیں مولاناکےدماغ نے گیاہی میں
پیدا کیں ”
آپ کےشاگردرشیدحضرت مولاناعبدالحکیم اوگانویؒ لکھتے ہیں:
"تقریباًبارہ(۱۲)برس تک مولاناانوارالعلوم میں درس دیتے رہےاوراس
درمیان میں سیاسیات حاضرہ کابھی مطالعہ فرماتے رہے،چنانچہ تحریک
خلافت کےزمانےمیں سیاسیات میں داخل ہوئےاورآپ کی سیاسی زندگی
کاآغازہوا،اس کےبعدہندوستان اورخصوصاًبہار میں کوئی سیاسی تحریک
ایسی نہیں تھی،جس میں آپ شریک نہ ہوئے ہوں ،اورعملی حصہ نہ
لیاہو،بلکہ کامیاب نہ بنایاہو،اورکامیاب بنانے کی کوشش نہ کی ہو ۔
تحریک خلافت نےحضرت ابوالمحاسن ؒکومرکزی قائدبنادیا
اس تحریرکے مطابق مولاناکی باقاعدہ سیاسی زندگی کاآغازتحریک خلافت سے ہوا، اورواقعہ بھی یہی ہےکہ گوکہ مولاناکی ملی خدمات کاسلسلہ انجمن علماء بہاراورپھردارالقضاء کےقیام سےہی شروع ہوگیاتھالیکن آپ کی شخصیت کوشہرت وعمومیت تحریک خلافت سے حاصل ہوئی،تحریک خلافت نے ہندوستان کومولاناسجادؒکی صورت میں ہندوستان کوایک نیاملی قائدعطاکیا،تحریک خلافت نےاپنےدورمیں جوشہرت وقبولیت حاصل کی وہ اس کےزوال (۱۹۲۴؁ء)تک کسی تحریک وتنظیم کوحاصل نہ ہوسکی ،بلکہ حق یہ ہےکہ تحریک خلافت ہی کےبطن سے جمعیۃ علماء ہندبھی وجودمیں آئی اورامارت شرعیہ بھی ،تحریک خلافت کی قبولیت ہی نےان دونوں عظیم الشان اداروں کوعوام وخواص کااعتبارواعتمادبخشا،تحریک خلافت ہی کےپہلوبہ پہلویہ تحریکیں بھی اپنےاپنےوقت اورمقام پربڑھتی اورپروان چڑھتی رہیں، بلکہ خودکانگریس نےبھی ملک میں عوامی طاقت اسی تحریک کی بدولت حاصل کی،اوراسی تحریک نےگاندھی جی کوپوری قوم کالیڈربنایا،حضرت مولاناسجادؒبھی ملک گیر قیادت کی سطح پر تحریک خلافت ہی کی دین ہیں ،اس لئے آپ کی ملی خدمات اورقومی سرگرمیوں میں تحریک خلافت کاذکر ترجیحی طورپرپہلےہونامناسب ہے:

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: