زبان و ادب

تحقیق وتصنیف کے زریں اصول

محمد یاسین جہازی

کسی بھی فن یا علمی موضوع پر نہایت شرح وبسط اور تفصیل کے ساتھ مدلل ومبرہن انداز میں تحریری سرمایہ کو جمع کرنے کا نام ’تحقیق وتصنیف‘ہے۔
تحقیق وتصنیف انتہائی مشکل اور محنت طلب کام ہے، یہ کام ہر شخص انجام نہیں دے سکتا۔ امام الہند مولانا ابو الکلام آزادؔ فرماتے ہیں کہ:
”تصنیف وتالیف کا مذاق بہت سی چیزوں کا طالب ہے، طرز تعلیم کے بعد علمی صحبت ومجامع، مذاکرات ومباحث علمیہ، مطالعہ ونظر، شوق ومزاولت اور سب سے زیادہ کسی مصنف کے زیر نظر کام کرنے سے قدرتی قابلیتوں کو تربیت میسر آتی ہے، قدیم مدارس میں اس کا سامان ناپید ہے، خود مدرسین ہی کو ذوق نہیں، تابہ دیگر چہ رسد؟۔ وسعت مطالعہ ونظر کا جب سامان ہی نہ ہو؛ تو دماغ میں استعداد، اخذ وترتیب وبحث کیوں کر کام دے؟ اسی کا نتیجہ ہے کہ صدہا متخرجین مدارس عربیہ میں دو چار صاحب نظر مصنف بھی نظر نہیں آتے“۔ (بہ اقتباس مطالعہ کیوں اور کیسے؟ ص/۱۸و۲۸)
تحقیق وتصنیف کے لیے لازمی صلاحیتیں
ایک انسان یہ عظیم الشان کارنامہ اسی وقت انجام دے سکتاہے، جب کہ وہ جنرل مطالعہ کا حامل ہو، اس کے اندر تحقیقی ذوق اور تنقیدی شعور پایا جاتاہو،منتخبہ موضوع کے حوالے سے پوری واقفیت اور اس پر غور وفکر کر کے خود اپنا کوئی نقطہئ نظر متعین کر سکتاہو، محنت ومشقت اور انہماک اس کے رگ وپے میں رچ بس گئے ہوں، اکتا ہٹ وبیزاری سے وہ کوسوں دورہو، عجلت یاتعطل سے اسے سخت نفرت ہو، مبالغہ آرائی اور حقائق کو مسخ کرنے کی قبیح عادت اس کے اندر نہ پائی جاتی ہو۔
تحقیق وتصنیف کے مقاصد
یہ کام مختلف اغراض ومقاصد کے پیش نظر کیا جاتاہے، کبھی کسی کم یاب یا نایاب چیزوں کو وجود میں لانا مقصود ہوتا ہے؛ تو کبھی منتشر ومتفرق اشیا کو یکجا کرنا۔ کبھی ناقص اور نامکمل کام کو اپنی کوشش کی حد تک مکمل کرنے کی غرض سے یہ کام کیا جاتاہے، تو کبھی مجمل ومبہم کی تفصیل وتوضیح مقصود ہوتی ہے۔ کبھی تطویل کی تلخیص پیش نظر ہوتی ہے، تو کبھی کسی موضوع پر اہل علم سے سرزد ہوئی کسی سہو وخطا کی علمی انداز میں نشاندہی کی جاتی ہے۔
تحقیق وتصنیف کے طریقہئ کار
ہر چند کہ تحقیق وتصنیف کے لیے کچھ ایسے اصول وضوابط نہیں ہیں، جن میں اس قدر قطعیت ہو کہ ان سے سر موتجاوزنہ کیا جاسکے، تاہم کچھ ایسے رہ نما اصول ضرورہیں، جن کو اس راہ کے مسافروں اور تحقیق وتصنیف کے رہ نماؤں نے علمی تجربوں کے بعد مفید پا یا ہے، انھیں سطور ذیل میں اختصار کے ساتھ لکھا جارہا ہے۔
موضوع کا انتخاب
تحقیق وتصنیف کے لیے موضوع کا انتخاب سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، جب تک موضوع کی تعیین نہیں کی جائے گی، اس راہ کا مسافر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکتا۔ اس لیے موضوع منتخب کرنے کے وقت، ایک محقق ومصنف کو اپنے ذوق وشوق، ذاتی دل چسپی اور میلان طبع کا خیال رکھنا ضروری ہے، تاکہ وہ آگے چل کر اس کام میں بے کیفی یا اکتاہٹ محسوس نہ کرے۔
موضوع منتخب کرتے وقت اس امر کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے کہ وہ موضوع بالکل فرسودہ اور گھسا پٹا نہ ہو؛ بلکہ موضوع ایسا ہو جو نت نئے حالات کی پیدا وار ہو اور خاص وعام سب میں موضوع بحث بنا ہوا ہو یا پھر علمی ضرورت اس کا متقاضی ہو۔
موضوع کا خاکہ
موضوع متعین کرلینے کے بعداس کی حد بندی اور خاکہ تیار کرنے کا مرحلہ آتا ہے، کیوں کہ اس سے موضوع کے تمام پہلو اجاگر ہوجاتے ہیں، جن کی روشنی میں تحقیق وبصارت کے ساتھ یہ کام انجام دیا جاسکتا ہے، ورنہ دیکھنے میں یہ آیاہے کہ خاکہ تیار کیے بغیر لکھنے سے موضوع کے بہت سارے پہلو گوشہئ تاریکی میں رہ جاتے ہیں۔ اور کبھی کبھار اجزائے موضوع میں بے ربطی وبے آہنگی بھی پیدا ہوجاتی ہے، جس سے کتا ب کے ساتھ ساتھ صاحب کتاب کی طرف بھی انگلی اٹھنے لگتی ہے۔
خاکہ اس طور پر تیار کیا جاسکتاہے کہ سب سے پہلے موضوع کے ہر چہار پہلو پر خوب غور وفکر کیا جائے کہ اس کے تحت کون کون سی باتیں اور بحثیں آسکتی ہیں؟ ان تمام بحثوں کو نوٹ کے طور پر ایک کا غذپر لکھ لیا جائے، بعدازاں ان میں ترتیب وضعی قائم کر کے اسی کے مطابق کام کیا جائے۔
مآخذ ومراجع کی تلاش
خاکہ تیار کر لینے کے بعد تحقیق وتصنیف کا تیسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے اور وہ ہے مآخذ ومراجع کی تلاش، اس کے لیے درج ذیل طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں:
(۱)تجارتی اداروں اور کتب خانوں کی طرف سے شائع ہونے والی فہرست کتب پر نظر دوڑانی چاہیے اور اس میں جو کتابیں مو ضوع سے متعلق معلوم ہوں، ان سب کا نام نوٹ کرلینا چاہیے اور ان کو حاصل کرنا چاہیے۔
(۲)اگر تحقیق وتصنیف کا کام ایسی جگہ انجام دیا جارہاہے، جہاں کوئی بڑی لائبریری یا کوئی بڑا کتب خانہ ہے، تو صرف اول الذکر شکل ہی پر اکتفا نہ کرنا چاہیے؛ بلکہ لائبریری کی فہرستوں کا بھی سہارا لینا چاہیے اور اس کی کتابوں سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
(۳)آج کل کی کتابوں کے آخر میں مراجع کی فہرست دی جاتی ہے، اس کا دیکھنا بھی مفیدہے۔
(۴)ان کے علاوہ اہل علم خصوصاً مصنفین حضرات سے صلاح ومشورہ اور ان سے استفسار سے بھی اس راہ کی بہت ساری مشکلیں حل ہوسکتی ہیں۔
مراجع کا مطالعہ اور مواد کا انتخاب
یہ تحقیق وتصنیف کا چوتھا مرحلہ ہے، اسی مرحلے پرکتا ب کی حیثیت کا دارومدار ہوتا ہے، مراجع کا مطالعہ جتنی گہرائی وگیرائی سے کیا جائے گا، کتاب بھی اتنی ہی تحقیقی اور مواد سے لبریز ہوگی، اور اس میں جس درجہ کمی پائی جائے گی، اسی درجہ کتاب کی قدر وقیمت میں بھی کمی آجائے گی۔ اس لیے مراجع کے مطالعے کے وقت ماقبل میں بیان کردہ اصول مطالعہ کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ساتھ ہی درج ذیل باتوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے:
(۱)تیار کردہ خاکہ میں اجزائے موضوع کی ترتیب وضعی کے مطابق مواد جمع کرنا چاہیے، اور کتب مراجع کے صرف انھیں بحثوں کا مطالعہ کرنا چاہیے، جو موضوع سے متعلق ہوں۔ پوری کتاب کا مطالعہ کرنا ضروری نہیں ہے۔
(۲)دوران مطالعہ جو باتیں کام کی ملیں، اگر ذاتی کتا ب ہے؛ تو اس پر کچی پنسل سے نشان لگا کر کام چلا یا جاسکتا ہے؛ لیکن یہ محتاط طریقہ نہیں ہے۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ اس کے ایک ایک لفظ کو بعینہ نقل کر لینا چاہیے، ساتھ ہی صفحہ نمبر بھی لکھ لینا چاہیے۔اور اگر دوسرے کی کتاب ہے؛ تو صفحہ نمبر کے ساتھ ساتھ مصنف، پریس، سن اشاعت اور تعداد ایڈیشن غرض سب کچھ لکھ لینا چاہیے۔
(۳)اخذکردہ عبارتوں اور مواد پر عنوان کی وضاحت بھی ضروری ہے، تاکہ تسوید وتبییض کے وقت کسی دقت وپریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
(۴)مراجع کے مطالعے کے دوران اگر کچھ ایسے مواد ہاتھ آجائیں، جن کی خاکے میں وضاحت نہ ہو، اور وہ موضوع سے پوری طرح میل بھی کھاتے ہوں، بلکہ ان کو شامل کیے بغیر موضوع کے تشنہ رہ جانے کا اندیشہ ہو، تو ان کو بھی جزو کتاب بنا لیناچاہیے۔
(۵)جب مراجع کا مطالعہ مکمل ہوجائے، اور مطلوبہ مواد اکھٹا ہوجائے، تو اب اس کو خاکے کی ترتیب کے مطابق لکھنا شروع کریں؛ لیکن یہ یا د رکھنا نہیں بھولیں کہ ترتیب اسی انداز کی ہونی چاہیے جیسا کہ مضمون کی طبعی ترتیب تقاضا کرتی ہو۔اس کے برخلاف لکھنا حکمت اور اصول تصنیف کے منافی ہے۔
(۶)اپنی بات کی تائید وتوثیق میں صرف انھیں اصحاب علم کی رائے پیش کرنی چاہیے، جو اس موضوع پر سند کا درجہ رکھتے ہوں، ہر کس وناکس کی آرا اور غیر ضروری حوالوں کو نقل کر کے مضمون کو بوجھل نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ اس سے کتاب کی قدر وقیمت گھٹ جاتی ہے۔
(۷)موضوع کے مناسب اسلوب نگارش اختیار کرنا چاہیے، اگر علمی موضوع ہو، تو اسلوب بھی عالمانہ ہوناچاہیے، اسی طرح اگر ادبی موضوع ہو، تو اسلوب بھی ادبی نوعیت کا ہونا چاہیے اور سی طرح وغیرہ وغیرہ۔ نیز تحریر میں سنجیدگی وشائستگی اور متانت ہونی چاہیے۔ غیر مہذب طرز نگارش، یاایسا اسلوب اختیار نہیں کرنا چاہیے، جس سے غرور علمی کی بو آتی ہو: بلکہ ہر حرف سے تواضع وانکساری ٹپکنا چاہیے، ساتھ ہی زبان وبیان خشک نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ان میں ایسی حلاوت وچاشنی ہو کہ ایک پڑھنے والا متأثر ہونے کے ساتھ ساتھ مرعوب بھی ہوتا چلا جائے اور مضمون اس کے ذہن ودماغ میں اتر تا چلا جائے۔
(۸)مراجع کے مطالعے کے دوران کبھی قیمتی علمی سرمایہ ہاتھ لگ جاتا ہے،جو درحقیقت منتخبہ موضوع سے مکمل اٹیچ نہیں ہوتا، لیکن باربار یہ خواہش ابھر تی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کو بھی شامل کرلیا جائے، ایسی صورت میں یہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ اس طرح کے ضمنی مباحث شامل کرنے سے مقالہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا جاتاہے جس سے مضمون گنجلک ہو جاتا ہے اور اس کا معیار بلند ہونے کے بجائے اور پست ہوجاتا ہے، اس لیے خواہ کتنی ہی دلی خواہش کیوں نہ ہو، اس کو شامل کر کے مضمون کو ادق اور گنجلک نہیں بنانا چاہیے۔
(۹)جب خاکے کے مطابق اکٹھا کردہ مواد ومیٹر کو مضمون کے قالب میں ڈھالنے کا کام مکمل ہوجائے، تو اسے باربار بغور پڑھنا چاہیے، اور جہاں کہیں ترتیب کی تبدیلی اور الفاظ کی ترمیم وتحریف کی ضرورت محسوس ہو، وہاں رد وبدل کردینا چاہیے، اور اس وقت تک کرتے رہنا چاہیے، جب تک کہ دل مطمئن نہ ہوجائے۔ جب دل مطمئن ہوجائے، اور مزید رد وبدل کی ضرورت محسوس نہ ہو، تو اب تحقیق وتصنیف کا چوتھا مرحلہ بھی مکمل ہوگیا، اس کے بعد اب صرف ایک مرحلہ باقی رہتا ہے اور وہ ہے مقالے کی حتمی شکل کی تشکیل۔
مقالے کی حتمی شکل کی تیاری
یہ تحقیق وتصنیف کی آخری منزل ہے،اس منزل کوپارکرلینے کے بعد آپ کسی کتاب کے مؤلف یا مصنف بن جائیں گے، مقالے کو حتمی شکل دیتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھنا چاہیے:
(۱)مقا لے کو حتمی شکل دینے یعنی مسودہ بنا نے کے لیے ایسا کا غذ منتخب کرنا چاہیے، جس پر لکھنے میں کسی قسم کی دقت ودشواری پیش نہ آئے، جیسے سیاہی کا پھیلنا، قلم کا کاغذ سے الجھنا وغیرہ۔ اسی طرح اس کی لائن کا فاصلہ اور سائز کچھ اس طرح ہو کہ بہ آسانی لکھا جا سکے اور تحریر میں گخلط ملط کی صورت پیدا نہ ہو۔ آج کل بازار میں ’فل اسکیپ‘ کے نام سے ملنے والا کا غذ عموماً ان تمام خوبیوں کا حامل ہوتا ہے،اس لیے زیادہ بہتر ہے کہ تصنیف کے لیے اسی کاغذ کا انتخاب کیاجائے۔یا جو آپ کی نگاہ میں زیادہ موزوں معلوم ہو،اس کو منتخب کرلیں۔
(۲)کاغذ کی صرف ایک ہی جانب لکھنا چاہیے، دونوں جانب نہیں لکھنا چاہیے۔اسی طرح ایک سطر چھوڑ کر لکھنا چاہیے تاکہ گنجلک کی کیفیت پیدا نہ ہو۔
(۳)املا کے تمام قواعد کی رعایت کرتے ہوئے لکھنا چاہیے، بطور خاص نئے پیرا گراف کا آغاز نئی سطر سے کرنا چاہیے اور اس نئی سطر کو دگر سطروں کی بہ نسبت پانچ نقطے کے بقدر آگے سے لکھنا چاہیے،اسی طرح تحریر نہایت واضح اور خوشخط ہونی چاہیے، اور مرکزی عنوان کو جلی ورنگین قلم سے سطر کے وسط میں لکھنا چاہیے۔
(۴)جہاں تک ہوسکے مسودہ میں کاٹ چھانٹ سے بچنا چاہیے اور اگرتسویدکے وقت ردو بدل کی ضرورت محسوس ہو، تو مسودہ میں لکھنے سے پہلے خاکے کی مضمونی کاپی ہی میں غور وفکرکر کے رد وبدل کرلینا چاہیے،پھر اس کے بعد مسودہ میں نقل کرنا چاہیے کیوں کہ اگر یہ طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا، تو پھر مسودہ، مسودہ نہیں بن پائے گا؛ بلکہ وہ پھر سے مضمونی کاپی بن جائے گا۔
(۵)مسودہ لکھنے کا آغاز اسی ترتیب سے کرنا چاہیے، جو کتاب کی اصل ترتیب ہونی ہے، ایسا نہیں ہوناچاہیے کہ پہلے آخر یا بیچ کے مضامین کا مسودہ بنا یا لیا جائے، پھر بعد میں شروع حصہ کا بنایا جائے،کیوں کہ بسا اوقات اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ترتیب میں الٹ پھیر واقع ہوجاتی ہے اور سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
(۶)جب تسوید کے کام سے فراغت ہوجائے،تواب”تحقیق و تصنیف“ کا پورا کام مکمل ہوگیا۔ اس پر بارگاہ ایزدی میں حمد و سپاس کے نذرانے پیش کرنا چاہیے، کہ اس نے آپ کو اس کام کی توفیق دی اور اسے پائے تکمیل تک پہنچا دیااور آپ کو کسی کتاب کا ’مصنف ومؤلف‘بنادیا۔
مبیضہ تیار کرنے کے حوالے سے زریں باتیں
تصنیف وتالیف کے تمام مراحل تو مسودہ تیار کر لینے ہی پر مکمل ہو جاتے ہیں، اس عنوان کا اضافہ بایں مقصد ہے کہ ایک مؤلف ومصنف کا منتہائے مقصودصرف مسودہ کی تکمیل نہیں ہوتا؛ بلکہ اسے منصہ شہود پر لانا بھی ہوتا ہے، اور اس کے لیے بسا اوقات بڑی بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے اس حوالے سے بھی چند زریں باتیں حوالہئ قلم کی جارہی ہیں:
آج کل کمپیوٹر کا دور دورا ہونے کی وجہ سے ہاتھ کی کتابت تقریباً معدوم ہوچکی ہے اور چھوٹی بڑی ہر چیز کی کتابت کے لیے کمپیوٹر ہی کا سہارا لیا جارہا ہے، اس لیے اپنے مسودے کی کتابت کے لیے ایسے کمپیوٹر آپریٹر کا انتخاب کرنا چاہیے، جو درج ذیل خصوصیات کا حامل ہو:
(۱)وعدے کا مکمل پابند ہو۔
(۲)قواعد املا سے مکمل طور پر واقف ہو، اسی طرح رموز اوقاف اور ان کے مواقع استعمال سے بھی اچھی طرح واقفیت رکھتا ہو۔
(۳)عبارت فہمی کی اس کے اندر اتنی صلاحیت پائی جاتی ہو کہ مسودہ کے گنجلک مقامات کو بھی سیاق وسباق سے خود حل کرسکتاہو۔
(۴)بخیلانہ مزاج کا حامل نہ ہواور نہ ہی اکتاہٹ وبیزاری محسوس کرتا ہو؛ بلکہ محنت ولگن اور جد وجہد اس کی فطرت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہو۔
(۵)نرم گفتار،اچھے کرداراوران جیسی صفات حسنہ سے متصف ہواور صاف و شفاف معاملات رکھنے والا ہونا ضروری ہے۔
(۶)اگر ایسا آپریٹر میسر آجائے جو کم از کم چند مسودوں کی کتابت کا تجربہ رکھتا ہو، تو یہ زیادہ بہتر ہے؛بلکہ تجربہ کار آپریٹر ہی سے کتابت کرانی چاہیے۔
آخر میں یہ عرض کردینا نامناسب نہ ہوگا کہ اگر آپ اپنی کتاب خود سے چھپوانے کا حوصلہ رکھتے ہیں، تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ کسی ناشر سے چھپوائیں، کیوں کہ بعض ناشر ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے معاملات ٹھیک ٹھاک نہیں ہوتے اور نہ ہی مؤلف کو صحیح حق المحنت دیتے ہیں۔ ان سے معاملات کرنے کے بعد کف افسوس ہی ملنا پڑتاہے، اس لیے ناشر کے انتخاب میں کافی غورو فکر سے کام لینا چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: