اسلامیات

تذکرہ رسول عربی ﷺ تاریخ کے جھروکوں سے

تمام تعرھیفیں اس خالق ومالک ارض وسماں کے لیے ہیں جو پوری کاٸنات کا پالنہار ہے کہ جس نے وجہ تخلیق کاٸنات سرورکونین سلطان دارین تاجدار بطحا مُحَمَّد عربی ﷺ کو رحمة اللعلمین بناکر بھیجا
مضمون کی ابتدا عالم اسلام کی عظیم دینی درسگاہ مادرعلمی دارالعلوم دیوبند کے مٶسس اول اور بانی قاسم العلوم والخیرات حجة اللہ فی الارض حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی نوراللہ مرقدہ وبرداللہ مضجعہ کے نعتیہ اشعار سے کرتاہوں جوبہت ہی جاندار اورشاندار ہیں
سب سے پہلے مشیت کے انوار سے ​
نقش روئے محمدﷺ بنایا گیا​
پھر اسی نقش سے مانگ کر روشنی ​
بزم کون ومکاں کوسجایا گیا​
​وہ محمؐد بھی،احمدبھی،حامدبھی،محمود بھی ​
حسن مطلق کاشاہد ومشہودبھی​
علم وحکمت میں وہ غیرمحدودبھی ،​
ظاہرا امّیوں میں اٹھایا گیا​

کس لئے ہو مجھے حشرکا غم اے قاسم !​
میرا آقا ہے وہ میرا مولا ہے وہ​
جن کے قدموں میں جنت بسائی گئی ​
جن کے ہاتھوں سے کوثر لٹایا گیا​
داناۓ سبل ختم الرسل مولاۓ کل فخررسل سید ولد آدم احمد مجتبی مُحَمَّد مصطفی ﷺ کی ولادت باسعادت واقعہ فیل کے 50 یا 55 روز کے بعد بتاریخ 8 یا 9 اور مشہور قول کے مطابق 12 ربیع الاول مطابق 20 اپریل 571 عیسوی پیر کے دن ملک عرب کے ایک محترم ومقدس شہر مکہ معظمہ میں آپ ﷺ کے پیارے چچا ابوطالب کے مکان پر صبح صادق کے بعد طلوع آفتاب سے قبل ھوٸی
نبی مکرم ﷺ عرب کے مشہورومعروف قبیلہ قریش اور نہایت ہی معززومحترم اور اشراف خاندان بنی ہاشم سے ہیں

ولادت کے ساتویں روز آپ ﷺ کے دادا عبدالمطلب نے آپ ﷺ کا عقیقہ کیا اور اس تقریب میں تمام قریش کی دعوت کی اور آپ کااسم گرامی مُحَمَّد اور آپ ﷺ کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ نے آپ ﷺ کا مبارک نام احمد رکھا
عثمان بن ابی العاص ؓ کی والدہ فاطمہ بنت عبداللہ فرماتی ہیں کہ میں آنحضرت ﷺ کی ولادت کے وقت حضرت آمنہ کے پاس موجود تھی تو اس وقت دیکھا کہ تمام گھر نور سے بھر گیا اور دیکھا کہ آسمان کے ستارے جھکے آتے ہیں یہاں تک کہ مجھ کو یہ گمان ہوا کہ یہ ستارے مجھ پر آگرینگے
اسی شب کہ جس رات آپ ﷺ کی پیداٸش ھوٸی یہ واقعہ پیش آیا کہ ایوان کسری میں زلزلہ آیا جس سے محل کے 14 کنگورے گر گیے اور فارس کا آتش کدہ جو ہزار سال سے مسلسل روشن تھا وہ بجھ گیا دریاۓ ساوہ خشک ہوگیا
جس وقت آپ ﷺ کی پیداٸش ہوٸی تو نہایت نظیف اور پاک صاف تھے جسم اطہر پر کسی طرح کی آلاٸش اور گندگی نہیں تھی کہ جس طرح پیدا ہونے والے بچہ کے بدن پر آلاٸش اور گندگی ہوتی ھے
حضرت عباس ؓ فرماتے کہ نبی کریم ﷺ مختون پیداہوۓ عبدالمطلب کو یہ دیکھ کر بہت تعجب ہوا اور یہ کہا کہ البتہ میرے اس بیٹے کی بڑی شان ھوگی چنانچہ ھوٸی
آپ ﷺ کی دادی کا نام فاطمہ نانا کا نام وہب اور نانی کا نام برہ تھا
آپ ﷺ کی ولادت سے دوماہ قبل والد مکرم حضرت عبداللہ کی وفات ھو چکی تھی گویا کہ آپ ﷺ یتیم پیدا ہوۓ تھے
ولادت باسعادت کے بعد تین یا چار روز تک آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ نے آپ کو دودھ پلایا پھر آپ کے چچا ابولہب کی آزاد کردہ باندی ثویبہ نے آپ ﷺ کو دودھ پلایا
اس کے بعد عرب کے دستور کے مطابق بنی سعد کی ایک خاتون حضرت حلیمہ سعدیہ نے آپ کو دودھ پلایا
چار سال کی عمر میں اول مرتبہ شق صدر ہوا جب کہ حضرت حلیمہ کے یہاں اپنے رضاعی بھاٸیوں کے ساتھ جنگل میں بکریاں چرانے گیے ہوۓ تھے
شق صدر کا واقعہ کل چارمرتبہ پیش آیا
1 اول بار زمانہ طفولیت میں جب کہ عمر چار سال کی تھی
2 دس سال کی عمر میں
3 تیسری بار بعثت کے وقت
4 معراج کے وقت
شق صدر دراصل جو اول مرتبہ آپ ﷺ کے رضاعی بھاٸیوں نے دیکھا کہ دو فرشتے حضرت جبرٸیل اور حضرت میکاٸیل سفید پوش انسانوں کی شکل میں سونے کا طشت برف سے بھرا ہوا لیکر آۓ اور آپ کا شکم مبارک چاک کرکے قلب اطہر کو نکا لا پھر قلب کو چاک کیا اور اس میں سے ایک یا دو ٹکڑے خون کے جمے ہوئے نکالے اور کہا کہ یہ شیطان کا حصہ ہے اور قلب کو اس طشت میں رکھ کر برف سے دھویا بعد ازاں قلب کو اپنی جگہ رکھ کر سینے پر ٹانکے لگاۓ اور دونوں شانوں کے درمیان مہر لگادی
چھ سال کی عمر میں والدہ محترمہ داغ مفاقت دے گیی اور جب آٹھ سال کی عمر کو پہنچے تو آپ کے پیارے دادا عبد المطلب بھی ساتھ چھوڑ گیے
دادا کی وفات کے بعد آپ اپنے چچا جناب ابوطالب کی آغوش تربیت میں آگیے
12 سال کی عمر میں اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ ملک شام کا پہلا تجارتی سفر کیا اور جب شہر بصری کے قریب پہنچے تو وہاں ایک نصرانی راہب جس کا نام جرجیس تھا اور بحیرا کے نام سے مشہور تھا اس نے آپ ﷺ کی علامات نبوت کو دیکھ کر پہچان لیا کہ یہی اللہ کا آخری رسول ھے دو جہانوں کا سردار ھے
14 سال کی عمر میں اپنے چچاٶں کے جبر اور اصرار کی وجہ سے حرب الفجار معرکہ میں شرکت کی لیکن آپ نے جنگ نہیں کی
حرب الفجار جنگ کے خاتمہ پر آنحضرت ﷺ کے چچا زبیر بن عبد المطلب کی تحریک پر بنو ہاشم بنو تیم بنو زہرہ وغیرہ عبداللہ بن جدعان کے گھر پر جمع ہوۓ اور یہ عہد کیا کہ بلد امن مکہ مکرمہ میں ظلم وستم اور ناانصافی نہیں ھونے دینگے نیز اس پر معاہدہ امن طے پایا اس معاہدہ امن میں نبی الحرمین ﷺ بھی شریک ہوئے اس وقت آپ کی عمر شریف 20 سال تھی
عنفوان شباب 25 سال کی عمر میں نبی رحمة اللعلمین ﷺ کی امانت ودیانت حلم وبردباری اخلاق وشرافت محبت ومروت اور صداقت وسچاٸی کا ڈنکا مکہ کے ہر گھر میں بج رھا تھا اہل مکہ آپ کو امین اور صادق کہ کر پکارتے تھے
مکہ معظمہ میں حضرت خدیجہ بنت خویلد قریش کی ایک دانا وبینا مالدار تجربہ کار عورت تھیں وہ اپنا مال تجارت لوگوں کو بطور مضاربت دیا کرتی تھیں انہوں نے آپ ﷺ کی امانت وسچاٸی کے چرچے سن کر اپنامال تجارت آپ کے حوالہ کیا اور ساتھ میں اپنے میسرہ کو بھی بھیجا راستہ میں ایک درخت کے نیچے آرام کرنے کے لیے تشریف فرما ہوئے وہاں ایک راہب جس کا نام نسطورا تھا
اس راہب نے میسرہ سے کہا اس درخت کے نیچے عیسی بن مریم کے بعد اب تک کوٸی نہیں ٹہرا یہ اللہ تعالی کے آخری نبی ہیں
میسرہ کا بیان ھے کہ جب دوپہر کا وقت ہوتا تو فرشتے آپ پرسایہ کرتے
یہ آپ ﷺ کا ملک شام کا دوسرا تجارتی سفر تھا
سفر کی ان باتوں کو سن کر حضرت خدیجہ نے آپ کی زوجیت میں آنے کا ارادہ کیا اور آپ کے پاس نفیسہ نامی عورت کے ذریعہ نکاح کا پیغام بھیجا جس کو آپ ﷺ نے اپنے چچا ابوطالب کے مشورہ کے بعد قبول فرمالیا
پھر تاریخ معین پر آپ اپنے چچا ابوطالب اور حضرت حمزہ اور دیگر رٶساۓ خاندان کو لیکر حضرت خدیجہ کے گھر تشریف لے گیے چنانچہ خدیجہ کے چچاعمروبن اسد کے سامنے ابوطالب نے نکاح پڑھا اور پانچ سو درہم مہر مقرر ہوا
اس وقت آپ ﷺ کی عمر 25 سال اور پہلا نکاح تھا اور حضرت خدیجہ کی عمر 40 سال اور تیسرا نکاح تھا
جب آپ کی عمر مبارک 40 سال ایک یوم کی ہوٸی تو ربیع الاول کی 8 تاریخ بروز پیر آپ کو نبوت سے سرفراز کیا گیا اور غار حرا میں حضرت جبرٸیل علیہ السلام سب سے پہلی وحی اقرأ باسم ربک الذی خلق سے مالم یعلم تک کی ابتدائی آیات مقدسہ لیکر پہنچے
تقریبا تین سال تک پوشیدہ طور پر اسلام کی تبلیغ فرماٸی جس کے نتیجہ میں تقریبا 30 افراد مسلمان ہوئے اور پھر جب اعلانیہ تبلیغ کا حکم آیا تو آپ ﷺ نے اعلانیہ تبلیغ کی اور سن 6 نبوی میں آپ کے چچاحضرت حمزہ ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ مسلمان ھوۓ
اس درمیان آپ ﷺ کی انگلی کے اشارہ سے چاند کے دوٹکڑے کرنے کے معجزہ کا ظہور ہوا اور دیگر معجزات کے ساتھ ہجرت حبشہ اولی اور ہجرت حبشہ ثانیہ ہوٸیں
اور سن 10 نبوی آپ کے ہمدرد چچا جناب ابوطالب اور آپ کی غمگسار زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ ؓ کا انتقال ہوا
اور سن 11 نبوی 27 رجب کی شب میں معراج ہوٸی یعنی حضور اکرم ﷺ کا ایک رات بعد عشا ٕ جبرٸیل علیہ السلام کے ساتھ بذریعہ براق مکہ سے بیت المقدس اور وہاں سے آسمانوں کی سیرکراکر سدرة المنتہی پر تشریف لیجانا اور فجر سےقبل واپس آجانا
جب مکہ مکرمہ میں کفارومشرکین نے آپ کو ستانے کی تمام حدیں پار کردیں یہاں تک کہ قتل کا فیصلہ کرلیا تو اللہ تبارک وتعالی کی طرف سے ہجرت کے حکم پر 53سال کی عمر میں 26 .27 صفر سن 11 نبوی کی درمیانی شب میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ساتھ لیکر مکہ سے مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرماٸی
مدینہ منورہ پہنچنے پر آپﷺ کا اہل مدینہ نے زبردست استقبال کیا مدینہ جانے کے بعد آپ نے مہاجرین وانصار کے درمیان رشتہ مواخات (بھاٸی چارہ ) قاٸم کیا سن 1 ھجری میں نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے مسجد نبوی کی تعمیر فرماٸی اور اسی سال یہود مدینہ سے امن معاہدے کیے
آپ ﷺ تقریبا 24 یا 27 جہادوں میں تشریف لے گیے نیز آپ ﷺ نے امیروں اور بادشاہوں کو دینی دعوت دینے کے لیے خطوط کا بھی استعمال فرمایا
سن 8 ھجری رمضان المبارک میں مکہ مکرمہ بغیر جدال وقتال کے فتح ہوا
سن 10 ہجری میں آپ ﷺ نے آخری حج ادا کیا جس کو حجة الوداع کہتے ہیں اس وقت آپ کے ساتھ مہاجرین وانصار اور دیگر اصحاب کی ایک عظیم الشان جمعیت موجود تھی جس کی تعداد ایک لاکھ سے زاٸد منقول ہے
آپ ﷺ کے نکاح میں کل گیارہ عورتيں آٸیں 1 حضرت خدیجہ ؓ 2 حضرت سودہ ؓ 3 حضرت عاٸشہ ؓ 4 حضرت صفیہ ؓ 5 حضرت زینب ؓ بنت خزیمہ 6 حضرت ام سلمہ ؓ 7 حضرت زینب ؓ بنت جحش 8 حضرت جویریہ ؓ 9 حضرت ام حبیبہ ؓ 10 حضرت حفصہؓ 11 حضرت میمونہ ؓ
آپ ﷺ کی اولاد
3 صاحبزادے 1 حضرت قاسم
2 حضرت عبداللہ (انہی کے دو نام طیب اور طاہر بھی تھے ) یہ دونوں بیٹے ام المٶمنین حضرت خدیجہ ؓ سے تھے
3 حضرت ابرہیم یہ آپ کی ام ولد حضرت ماریہ قبطیہ ؓ سے تھے
یہ تمام صاحبزادے بچپن میں ہی انتقال فرما گیے تھے
4 صاحبزادیا
1 حضرت زینب ؓ 2 حضرت رقیہ ؓ 3 حضرت ام کلثوم ؓ 4 حضرت فاطمہ ؓ
چاروں بیٹیاں ام المٶمنین حضرت خدیجة الکبری رضی اللہ عنہا سے ہیں
غرض اللہ تبارک وتعالی کے آخری اور لاڈلے رسول ﷺ نے حق رسالت ادا کرنے اور تکمیل دین کے بعد 13 روز تک بیمار رہ کر 12 ربیع الاول سن 11 ہجری مطابق 9 جون سن 632 عیسوی بروز پیر چاشت کے وقت بعمر 63 سال 4 یوم عالم فانی سے عالم جاودانی کی طرف رحلت فرماٸی اور رفیق اعلی سے جا ملے
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

آپ ﷺ کے آخری کلمات

حضرت عاٸشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ مرض وفات میں کبھی کبھی چہرہ انور سے چادر اٹھاکر فرماتے یہود ونصاری پر اللہ کی لعنت ہو جنہوں نے انبیا ٕ کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا
نیز آپ ؓ فرماتی ہیں کہ بالکل آخری وقت میں زبان مبارک پر یہ الفاظ جاری تھے
الصلوة الصلوة وما ملکت ایمانکم : یعنی نماز اور ان لوگوں کے حقوق کا خیال رکھو جو تمہارے قبضہ میں ہیں
یارب صل وسلم داٸما ابدا
علی حبیبک خیر الخلق کلہم
کی مُحَمَّد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

رشحات قلم ۔ مولانا سلیم احمد قاسمی بن الحاج شفیق احمد صاحب
جنرل سکریٹری جمعیة علما ٕ کرتپور بسی ضلع بجنور یوپی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: