مضامین

تعلیم کی قیمت

صابر دیوانہ

تعلیم کیا ہے ؟ آج مختلف شعبوں میں مختلف اقسام کے مختلف افراد تعلیم کے موضوع پر اپنی اپنی رائے دہندگی پیش کرتے ہیں کسی کا کہنا ہے کہ تعلیم وہ چراغ ہے جسے اگر اندھیرے عالم میں رکھ دیا جائے تو بدولت اک چراغ کے سادا عالم درخشاں ہوجائے وہیں ایک فلاسفر کا کہنا ہے کہ اگر ایک مچھلی بھی تعلیم یافتہ ہوجائے تو وہ پورے تالاب کو مدرسہ بنادیتی ہے کوئی تعلیم کو رات کا جگنو بتاتا ہے تو کویی اماوس کی شب کا مہتاب ، کوئی کہتا ہے کہ تعلیم ایک چراغ ہے تو کوئی تعلیم کو آفتاب سے تشبیہ دیتا ہے لیکن میں ششدر ہوجاتا ہوں آج کا یہ روح فرسا زمانہ دیکھ کر آج کی یی نوجوان نسل کہاں جا رہی ہے کہ جنکا تعلیم سے کوئی واسطہ ہی نہیں نا جانے کیوں ہمیں یہ کتابیں بوجھ لگتی ہیں نوجوانوں کی زباں سے نکلی ہوئی تعلیم کے بارے میں برائی میرے سینے کو چھلنی کرتی ہے حقیقتاً میرے قریبی عزیز دوست بھی اس موضوع پر کچھ کہنا ہو تو نا جانے متفکرانہ رہتے ہیں آج اس زمانے میں جہاں لوگ اپنی داڑھی اور بالوں کو ہییر ٹرائمر کے ذریعے علیحدہ اور خوبصورت شکل دیتے ہیں وہاں اگر میں ان سے پوچھوں کہ اس ہییر ٹرائمر کی ایجاد کس نے کی؟ تو یقیناً % 80 فیصد لوگوں کو کچھ معلوم نہ ہوگا آج ہم نئی سے نئی ٹکنالوجی کا استعمال کرنا بہت پسند کرتے ہیں لیکن اس کے پیچھے کی سائنس ہمیں بورنگ لگتی ہے
آج ہمیں کتابوں سے اتنی نفرت کیوں ہے ؟ کیا ہمیں اچھا ماحول نہیں مل رہا ؟ یا ہم لوگ آلسی ہوگئے ہیں ؟ آج موبائل فون میں دن رات گھستے گھستے ہماری آنکھیں پتھرا گئیں ہیں چھوٹے ننھے بچوں کی آنکھوں پر چشمہ دیکھ کر میں غمخوار ہوجاتا ہوں میری آنکھیں نم ہوجاتی ہیں ذرا سوچو اگر ایسی ہی سوچ سماج کے ذہن و قلب پر غلبہ رہی تو آنے والے وقت میں کہیں ہم ڈاکٹر اے پی جی عبد الکلام، مولانا اشفاق اللہ خاں اور ابوالکلام آزاد ہی کو نہ بھول جائیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: