اسلامیاتاہم خبریںزبان و ادبمضامین

تمام انسانوں کے لیے رول ماڈل اور مشعل راہ صرف اور صرف محمد عربی ﷺ کی ذاتِ

ابو الحیاء توقیر احمد قاسمی کاندھلوی استاذ و نگراں شعبہ انگریزی زبان و ادب دارالعلوم دیوبند

گزشتہ دنوں ملک کی برسر اقتدار پارٹی بی جے پی کے بعض کارکنوں کے نبی اکرم رحمۃ للعالمین ﷺ شان میں گستاخانہ کلمات پر پوری دنیا کے مسلمانوں کےفطری ردعمل سےیہ مضبوط پیغام گیا ہے کہ مسلمان نبی اکرم ﷺ کی توہین ہرگز برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔ عالم اسلام کے دباؤ سے یہ بات پھر سے اچھی طرح سمجھ میں آ گئی ہو گی کہ جس طرح آزادیٔ عمل مطلق نہیں ہے، بالکل اسی طرح سے آزادیٔ اظہار کو بھی مطلق نہیں مانا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کا ماننا ہے کہ کسی بھی مذہب کی معزز شخصیات کا برائی سے تذکرہ نہیں کیا جانا چاہئے۔
لیکن دیگر قوموں کے افراد بارہا طرح کی مثبت فکر کے خلاف جاتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ نبی اکرم محمد ﷺکی شخصیت کو بالکل ابتداء ہی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کا مقصد محض عام لوگوں کو مذہب اسلام سے دور رکھنے کے علاوہ کچھ نہیں رہا ہے۔ فرانسیسی مہم مطلق آزادی کی بات کہنے والوں کے ذریعہ چھیڑی گئی اس مہم کی بس ایک کڑی ہے۔
۳۰؍ستمبر ۲۰۰۵؁ کو ڈنمارک سے شائع ہونے والے جلندس پوسٹن Jyllands Posten نامی ایک اخبار نے محمد ﷺ کے12 کا رٹون شائع کئے جن میں سے ایک میں آپ ﷺ کو اس حالت میں پیش کیا گیا تھا کہ ان کے سر پر ایک بم نما پگڑی تھی ۔ ان کارٹونوں کی مطلق العنان آزادیٔ اظہار کے وکیلوں نے کی پھر سے اشاعت کی گئی ہے۔
رانچی یونیورسٹی میں پی۔جی کے طلبہ کے پرچۂ علم تاریخ کے سوالات میں 30؍اپریل 2008 کو محمدﷺ کی زندگی سے متعلق ایک سوال میں بہت ہتک آمیز زبان استعمال کی گئی تھی ۔ سوال میں مذکور تھا کہ نبی (ﷺ) نے اپنی زندگی کی ابتداء ایک تاجر کی حیثیت سے کی اور ایک غارتگر کی حیثیت سے ختم کی ۔
پروڈیوسرو ان گوگھ Van Goghنے ایک فلم بنائی جس میں قرآنی آیتیں ایک ننگی عورت کے جسم پر لکھی ہوئی تھیں ۔ روبرٹ اسپینسر (Robert Spenser) نے ” Mohammad , Founder of the world’s most intolerant religion “اسلام دنیا کا سب سے پر تشددمذہب) کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے ۔ اس میں Meet the real Mohammad (حقیقی محمد سے ملاقا ت کیجئے) کے عنوان سے ایک باب ہے جس میں وہ لکھتا ہے کہ نزول سے قبل محمد (ﷺ) جن حالتوں کا بھی تذکرہ کرتے تھے وہ محض ایک ڈرامہ تھا ۔ پھر اس نے نبی ﷺ کو روئے زمین پر آنے والا سب سے بڑا متشددثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
مسلمانوں جیسے نام والے سلمان رشدی The Satanic Verses (شیطانی آیات) میں لکھتا ہے کہ ابتدائی دور میں مسلمانوں کے ذریعہ تالیف کردہ آپ ﷺکی سوانح حیات میں (لکھا ہے ) کہ محمد ﷺ نے ان آیات کو قرآن کے جزء کے طور پرشیطان کی طرف سے پیش کیا۔ اور بعد میں وہ ان سے یہ کہتے ہوئے پھر گئے کہ وہ (شیطان) فرشتے جبرئیل تھے ۔
آخر جب مسلمان کسی مذہبی شخصیت کی توہین نہیں کرتے ہیں، تو پھر دوسرے افراد اس طرح کی حرکتیں کیوں کرتے رہتے ہیں۔ اس کے پس پردہ درج ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں :
1. محمد ﷺ پر حملہ کرنے والے افراد غیروں کے اتنی بڑی تعداد میں حلقہ بگوش اسلام ہونے اور تیزی کے ساتھ اس کی اشاعت سے خو ف اور حسد میں مبتلاء ہیں ۔ بنا بریں لوگوں کو قبول اسلام سے روکنے کے لئے انھیں نبی ﷺ کی ایک حقارت آمیز تصویر دکھانا چاہتے ہیں ۔ کیوں کہ انھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اسلام کی عمارت نبی کریم ﷺ کی درخشاں حیات طیبہ اور پاکیزہ تعلیمات پرقائم ہے ۔ لہٰذا بزعم خود اگر وہ اپنے مجموعی حملوں کے ذریعہ اسلام کی اس عمارت کو کمزور کردیتے ہیں تو وہ اسلام کی بنیادہی کو تباہ کر سکتے ہیں ۔
2. وہ مسلمانوں کو دنیا کے سامنے ایک متشدد اور ظالم قوم کے طور پر پیش کرنا چا ہتے ہیں ۔ کیوں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے تئیں مسلمانوں کے جذبات سے باخبر ہیں اور وہ یہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ایک مسلمان اپنے نبی ﷺ کی اہانت ہر گز برداشت نہیں کر سکتا ۔ اسی وجہ سے جب جب وہ نبی ﷺ کو نشانہ بناتے ہیں تومسلمان جذبات کی رو میں بہہ کر رد عمل کے طور پر کچھ ایسے نامناسب کام کر جاتے ہیں جومخالفین اسلام کے لئے اسلام اور مسلمانوں کی غلط شبیہ پیش کرنے کے مزید بہانے پیداکر دیتے ہیں ۔ اس بار مسلمانوں نے زبردست حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مسلمان آپ ﷺ کی تعلیمات کو مثبت اندازمیں پیش کر رہے ہیں، جو کہ لوگوں کو اسلام سے دور کرنے کے بجائے اورقریب ہی کرے گی۔
3. اعداء اسلام نبی ﷺ پر نامناسب تبصرے کرکے سستی شہرت حاصل کرنے کے متمنی ہیں ۔ کیوں کہ دور جدید میں یہ لوگوں کے درمیان مشہور ہو نے کا سب سے مختصراور سہل راستہ ہے۔
4. منکرین اسلام اسلام کی آمدکے بعد ہی سے لوگوںکو اسلام کی تعلیمات سے دوررکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ انھوں نے مسلمانوں کے ایمان کو مختلف طریقوں سے آزمایا لیکن انھیں کبھی کامیابی نہیں ملی ۔جب وہ اس قسم کی کوئی نئی خباثت کرتے ہیں تو وہ مسلمانوں کے اوپر اس کے اثر کو دیکھنا چاہتے ہیں ۔نتیجۃ مسلمانوں کی جانب سے جتنازیادہ سخت جذباتی رد عمل ہوتا ہے وہ اس سے اتنا ہی خوش ہوتے ہیں ۔
5. مختصر یہ کہ محمد ﷺ اپنے اونچے مرتبہ کی قیمت اداکررہے ہیں ۔ اگر آپ ﷺکو نشانہ بنائے جانے کے پیچھے یہی اسباب و عوامل کارفرما ہیں تو ہمیں ان کے بارے میںکچھ کہنے کی ضرورت نہیںہے ۔کیونکہ ان تمام وجوہات کا سبب حسد اور تعصب ہے۔لیکن اس کے علاوہ ایک دوسری وجہ بھی ہو سکتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ نبی اکرم ﷺکی عظمت و رفعت سے ناآشنا ہیں۔
اگرمعاملہ ایساہی ہے تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ ان کے سامنے آپ ﷺ کی ان پیغمبرانہ صفات کو پیش کریں جن کی وجہ سے وہ اشرف الانبیاء ہیں ۔ لہٰذا ذیل میں محمد ﷺ کے بارے میں کچھ غیر مسلم دانشوران کی چشم کشاآراء پیش کی جارہی ہیں جوآپ کی صفت خاصہ ’خلق عظیم‘کو اجاگر کرتی ہیں ۔
محمد ﷺ کے بارے میں غیر مسلم دانشوروں کی آراء:
1. فلسفہ کے ایک ہندوستانی پروفیسر کے ایس رام کرشنا راؤ اپنے کتابچہ Mohammad The Prophet of Islam (محمد،اسلام کے پیغمبر) میں انھیں (محمدﷺ) انسانی زندگی کے لئے ایک مکمل نمونہ کے طور پر یاد کرتے ہیں ۔ پروفیسراپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے رقم طراز ہیں ـــ’محمد ﷺ کی شخصیت کے بارے میںمکمل حقیقت سے آگہی مشکل ہے ۔ میں صرف اس کی ایک جھلک دیکھ سکتا ہوں ۔ دلکش مناظر کا کیا ہی عجیب و غریب سنگم!یہ محمد ﷺ نبی ، محمدﷺ جنگجو ،محمدﷺ تاجر ، محمدﷺ سیاسی لیڈر ، ممد ﷺ مقرر،محمد ﷺ مصلح، محمد ﷺ غلاموں کے محافظ، محمدﷺ عورتوں کے حقوق کے نگہبان ، محمدﷺ منصف، محمد ﷺ صوفی ۔ انسانی اعمال کے تمام شعبوں کے ان تمام شاندارکرداروں میں وہ ایک ہیرو کے مانند ہیں ۔‘
2. مائیکل ہارٹMichael Hart اپنی کتاب The 100,A Ranking of the Most Influential Persons in the History ,New York ,1978 کے صفحہ33 پر لکھتے ہیں کہ ’ہو سکتاہے کہ دنیاکی سب سے با اثر شخصیتوں کی فہرست میںسب سے پہلے محمد ﷺ کے نام کا میرا انتخاب کچھ قارئین کے لئے تعجب خیز امر ہواور دوسرے کچھ لوگوں کے لئے سوال کا باعث بنے۔ لیکن وہی تن تنہا تاریخ میں ایک ایسی ہستی ہیں جو سیکولر اور مذہبی دونوں سطحوں پر مکمل طور پر کامیاب تھے ۔ یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ اسلام کا اضافی اثر عیسائیت پر عیسیٰ مسیح اورسینٹ پال کے مشترکہ اثر سے وسیع ہے اور میرے احساسات کے مطابق سیکولر اور مذہبی ملاپ کا یہ فاقد المثال اثر،ہی ہے جو محمد ﷺ کو تاریخ ا نسانی میں بلا شرکت غیرے سب سے زیادہ مؤثر شخصیت ہو نے کا اہل بناتا ہے ۔‘
3. ایم کے گاندھی کی تحریرجو 1924 میں Young India میں شائع ہوئی: ’میری خواہش تھی کہ اس شخص کی زندگی کے بارے میں اچھی طرح معلوما ت حاصل کروں جس کی آج کروڑوںلوگوں کے دلوں پر حکومت چل رہی ہے۔ مجھے پہلے سے زیادہ یقین ہو گیا کہ وہ تلوار نہیں تھی جس نے نظام حیات میں اسلام کے لئے جگہ بنائی بلکہ یہ انتہا درجہ کی سادگی ، نبی (ﷺ) کی کامل تواضع ، وعدوں کا حد درجہ پاس ولحاظ، ان کااپنے دوستو ںاور متبعین کے لئے خود کو وقف کر دینا ، ان کی بہادری ، دلیری ،خداکی ذا ت میں مکمل اعتماد اور ان کا مشن تھا جس نے ہر چیز کو ان کے سامنے جھکادیا اور تمام رکاوٹوں کوختم کر دیا۔‘
4. تھومس کلائل Thomas Calyle متعجب ہوکریہ کہنے پر مجبور ہوا کہ ’کس طرح سے ایک تن تنہا آدمی آپس میں لڑنے والے قبیلوں او رخانہ بدوش بدوؤں کو دو دہائیوں سے بھی کم عرصہ میں ایک سب سے زیادہ طاقتور اور مہذب قوم کی شکل میں جوڑنے میں کامیاب ہوا!‘
5. سر برنارڈشا Sir Bernard Shaw آپ ﷺ کے بارے میں کہتے ہیں :’جتنے بھی لوگ آج تک دنیا میں آئے وہ ان میں سب سے زیادہ عظیم انسان تھے ۔ انھوں نے ایک مذہب کی تبلیغ کی ، ایک ریاست کی تعمیر کی ، اخلاقی ضوابط متعین کئے ، بہت ساری سماجی اور سیاسی اصلا حات کیں ،اپنی تعلیمات کو پیش کرنے اور ان پر عمل کرنے کے لئے انھوں نے ایک طاقتور متحرک سماج قائم کیا اورآنے والے سارے زمانوں کے لئے انسانی دنیا میں ایک زبردست انقلاب برپا کردیا ۔‘
6. الفونسو دی لامر ٹائن Alfonso de Lamar tine ایک مشہور تاریخ داں گذرے ہیں ۔ انھوں نے آپ ﷺ کی عظمت پر تعجب کرتے ہوئے کہا ہے کہ : ’محمد بیک وقت فلسفی، مقرر، پیغمبر، قانون داں ، جنگ جو ،خیالات کا فاتح ،معقول عقائداور معبودان باطلہ سے پاک دینی رسوم کو رواج بخشنے والا اورروحانی سلطنت کے بانی تھے ۔ ان تمام معیاروں کا لحاظ کرتے ہوئے جن کے ذریعہ انسانی عظمت کو ناپا جاسکتا ہے ، ہم بلا جھجھک پوچھ سکتے ہیں کیا ان (ﷺ) سے بھی عظیم شخصیت کوئی ہے ؟‘
(Alfonso de Lamar tine , HISTOIRE DE LA TURQUIE , Paris,1854,Vol:11,pp276-277)
7. لین پول (Lane Pool)کا کہنا ہے کہ :’وہ سب سے زیادہ وفادار پاسبان، سب سے زیادہ شیریں زباں اور دوران گفتگو سب سے زیادہ خوش اطوار تھے۔جنھوں نے ان کو دیکھا وہ ان کی بہت تعظیم کرنے لگے اورجو ان کے قریب آئے وہ انھیں کے ہو گئے ۔ جنھوں نے بھی آپ کی حیات طیبہ کا نقشہ کھینچا ہے ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کسی کو نہیں دیکھا ‘ وہ اکثر کم سخنی سے کام لیتے لیکن جب کبھی وہ کلام کرتے تو بہت ہی سوچ بچار کر اور فصاحت و بلاغت کے ساتھ کرتے حتیٰ کہ اپنے تو اپنے غیر بھی ان کے شیریں کلام کو نہ بھلا سکے ۔‘ (Speeches and Table Talk of the Prophet Muhammad )
8. پروفیسر جولیس مسرمین Professor Jules Masserman نے لکھا ہے : پستیور Pasteur اور سالک Salik جیسے لوگ پہلے اعتبار سے لیڈر ہیں ۔گاندھی Gandhi اور کنفیوشس Confucius جیسے لوگ ایک طرف اور الیکزینڈر Alexander، قیصر Caesar اور ہٹلر Hitlor دوسری جانب دوسرے مفہوم میں اور شایدکہ تیسرے معیار کے مطابق لیڈر ہیں ۔ عیسیٰ Jesus اور بدھا Buddha تنہا تیسرے درجہ میںہیں ۔ شاید کہ زمانوں میں سب سے بڑے لیڈر محمد( ﷺ) ہیں جو ان تینوں صفات کا پرتو ہیں ۔ ‘
9. دیوان چند شرما Diwan Chand Sharma کے مطابق ’محمد ﷺ مجسم رحم تھے جنھوں نے اپنے ارد گرد کے لوگوں پر اتنا گہرا اثر چھوڑا کہ وہ انھیں کبھی فراموش نہ کرسکے ۔ ‘
10. جان ولیم ڈریپر ایم ایل ایل ڈی John William Draper,M.D.,L.L.D. کے مطابق :’جسٹینین Justinian کی 569 عیسوی کی موت کے 4/سال بعد عرب کے مکہ میں وہ آدمی پیداہوا جو نسل انسانی پر تمام انسانوںسے زیادہ مؤثر ثابت ہوا ۔۔۔ محمد (ﷺ) ۔۔۔ ‘A Hisory of the Intellectual Development of Europe. Lodon 1875,Vol:1 pp329-330)
11. پروفیسر ہر گروں جی Professor HURGRONJE کے الفاظ میں: ’قوموں کے اس اتحادنے ،جس کی بنیاد پیغمبر اسلام کے ذریعہ رکھی گئی ،عالمی اتحاد اور انسانی اخوت کے قوانین عالمی سطح پراس طرح وضع کئے کہ وہ دوسری تمام قوموں کے لئے مشعل راہ بن گئے ۔‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’حقیقت یہی ہے کہ دنیا کی ساری قومیں ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں جیسی قوموں کے اتحاد کے نظریہ کی مثال اسلام نے پیش کی ہے ۔ ‘
12. اینی بیسنت Annie Besant کے مطابق:’ جوبھی عرب کے عظیم نبی کی زندگی اور اخلاق کا مطالعہ کرے اور یہ بھی معلوم کرے کہ انھوں نے کیسے زندگی گذاری اور زندگی کے اصول و آداب سکھائے، اس کے لئے عظیم نبی کی تعظیم کر نے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو گا جو کہ اللہ کے ایک سب سے عظیم پیغمبر ہیں ۔ گر چہ جو کچھ بھی میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں اس کے بارے میں میں کہوں گا کہ ممکن ہے کہ ان میںسے بہت ساری چیزیں بہت سے لوگوں کے لئے نئی نہ ہوں، پھر بھی میں جب انھیں دوبارہ پڑھتا ہوں تو میں خود تعریف کا ایک نیا طریقہ اور اس عظیم عرب کے استاد کے لئے تعظیم کا ایک نیا طرز محسوس کرتاہوں ۔ ‘The life and Teachings of Muhammad, Madras 1932,p4)
13. انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا Encyclopedia Britannica : ’محمد(ﷺ) تمام انبیاء اور مذہی شخصیات میں سب سے زیادہ کامیاب شخصیت ہیں ۔‘
14. ریو آر بو سورتھ اسمتھ Rev. R Bosworth- Smith اپنی کتاب “Muhammad and Mohammadanism 1946میں لکھتے ہیں’قسمت کے دھنی ہونے کے اعتبار سے محمدﷺ تاریخ میںایک عدیم المثال شخصیت ہیں جو ایک قوم ، ایک سلطنت اور ایک مذہب کے بلا شرکت غیرے بانی ہیں ۔‘
’سلطنت اور چرچ دونوں کے سردار ،وہ ایک ہی ذا ت میں قیصر اور پوپ تھے ، وہ پوپوں کے تصنع سے خالی ایک پوپ اور قیصروں کی بڑی تعداد میں تیار فوج ، محافظ، پولس فورس او رمتعین آمدنی کے بغیر وہ ایک قیصر تھے ۔ اگر کسی آدمی کو کبھی یہ کہنے کا حق حاصل ہوا کہ اس نے خدائی منشاء کے مطابق حکومت کی تو وہ محمد ﷺ تھے ۔ کیوں کہ معاونین کی تائید کے بغیر بھی ان کے پاس یہ ساری طاقتیں تھیں ۔ انھوں نے کبھی طاقت کے اظہار کی پروا نہیں کی ۔ان کی ذاتی سادگی ان کی عوامی زندگی کی ترقی کا راز تھی ۔‘
عالم کے بڑے بڑے دانشوروں کی بیش قیمت آراء کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ آج کل دشمنان اسلام جو آپ ﷺکی تصویر پیش کر رہے ہیں اس کا آپ کی شخصیت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے ۔درحقیقت آپ ﷺ کی ذات اتنی عظیم تھی کہ آپ پر لب کشائی کی جرأت چاند کے صاف صفاف شبیہ پر تھوکنے کے مترادف ہے ۔بلندپائے کے غیر متعصب جن مفکرین اور دانش ور حضرات نے بھی آپ ﷺ کی زندگی کا گہرااور مکمل مطالعہ کیا ہے وہ آپﷺ کی عظمت کو سلام کرتے ہیں۔ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو کہ اس کائنات کا عظیم خالق ہے اور جس نے ایسے عظیم پیغمبر کو وجود بخشا جن کی عظمت کو صفحہ قرطاس پر معرض وجود میں لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔اس باب کا حرف آخر یہی ہے کہ آ پ ﷺکی زندگی نہ صرف ساری انسانیت کے لئے ایک بہترین نمونہ ہے بلکہ ان لوگوں کے لئے بھی جنھوں نے آپ ﷺ کی حیات آئینہ دار پر دھبہ لگانے کی ناکام کوشش کی ۔
صورت تیری معیار کمالات بناکر
دانستہ مصور نے قلم توڑ دیا ہے
بہت بہت قابلِ مبارکباد ہیں وہ مسلمان جو تحفظِ ناموسِ رسالت کی حقیقی فکر کرتے ہیں اور محسنِ انسانیت رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرتے ہیں. نبی علیہ السلام کے احسانات ہمارے اوپر اتنے زیادہ ہیں کہ اگر ہم 100 بار بھی مریں اور زندہ ہوں اور ہر زندگی میں ان کے احسانات کا ذکر کریں تو وہ زندگیاں ناکافی ہونگی.
صلی اللہ علیہ وسلم

٭ مضمون نگار مشہور عالم دین اور دارالعلوم دیوبند کے شعبہ انگریزی زبان و ادب کے استاذ و نگراں ہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: