زبان و ادب

تم اپنا کاغذ کب دکھلاؤگے؟

Gauridankeshnews.com) ویب سائٹ پر مذکورہ نظم کے انگریزی ترجمے سے اردو ترجمہ: ڈاکٹر ظفر الاسلام خان(

تم اپنا کاغذ کب دکھلاؤگے؟

ایک نظم کی وجہ سے کنڑ زبان کے صحافی اور شاعر سراج بیساریلی کو کرناٹک کی بی جے پی سرکار نے گرفتار کرلیا ۔ پچھلے منگل کو کوپل کی ایک مقامی عدلت نے پچاس ہزار جمع کرنے پر ان کو ضمانت دے دی ہے لیکن مقدمہ چلتا رہے گا ۔ اس نظم کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے:

آدھار اور راشن کارڈ کی لائنوں میں کھڑے ہوئے

اپنے انگوٹھوں کے نشان لگاتے ہوئے

انٹرنٹ سرورز کی حماقتوں کو جوجھتے ہوئے

لوگ اپنی کمائی سے محروم ہورہے ہیں

اور تم ہو کہ ان سے کاغذات مانگتے ہو

تم اپنا کاغذ کب دکھلا ؤگے ؟

قوم کو آزاد کرنے کے لیے جان دینے والوں کو

تاریخ کے صفحات سے نوچ کر نکالنے والو

تم اپنا کاغذ کب دکھلا ؤگے؟

تم تاج محل کا کاغذ مانگتے ہو

تم چار مینار اور گول گنبد کے کاغذ مانگتے ہو

تم قطب مینار اور لال قلعہ کے کاغذ مانگتے ہو

تم اپنا کاغذ کب دکھلا ؤ گے؟

دلالو! انگریزوں کے جوتے چاٹنے والو

اور اب مذہبی نفرت کا مدہوش کرنے والا خون پینے والو

اے ہٹلر کی اولاد

تم اپنا کاغذ کب دکھلا ؤ گے؟

میرے شہر میں لوگ روزی روٹی کے لیے پکوڑا اور چائے بیچتے ہیں

لیکن انھوں نے اپنی انسانیت نہیں بیچی

اپنی عزت نفس نہیں بیچی

اپنے جھوٹے قصے نہیں بیچے

بتا ؤ، تم اپنا کاغذ کب دکھلاؤ گے؟

وہ ٹائروں کے پنکچر ٹھیک کرتے ہیں

ان کو سڑکوں پر لے آتے ہیں

لیکن وہ خود کو کبھی نہیں بیچتے

لیکن تم! تم نے تو قوم کو بیچ دیا

تم اپنا کاغذ کب دکھلا ؤ گے؟

تم، جس نے ملک کے باشندوں کو بے وقوف بنایا

تمھارے لیے جعلی کاغذ بنانا کوئی مشکل نہیں

اگر تم میں ذرا بھی انسانیت ہے تو بتاؤ

تم اپنا کاغذ کب دکھلا ؤ گے؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: