اسلامیات

*تم بدلو توحالات بدل سکتے ہیں!*

{ تمام دن اور مہینہ اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے اور اللہ کی پیدا کی ہوئی کوئی چیز منحوس نہیں ہوتی،اس کو برا کہنا اللہ کی صفت َ ِتخلیق کو براکہنا ہے }
*تحریر :مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی – ناظم اعلیٰ – مدرسہ عربیہ ھدایت الاسلام انعام وہار سبھاپور دہلی این سی آر :*
                        _____________
عام طور پر انسان اپنی غلطیوں کو دوسرے کی طرف منسوب کرتا ہے ۔وہ خود کسی غلطی کا اعتراف کرنا نہیں چاہتا،اسی مزاج کی وجہ سے جب کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے اور قدرت کی جانب سے اس کی سزا کے طور پر کسی بیماری میں مبتلا کیا جاتا ہے ‘کوئی پریشانی اور مصیبت آتی ہے یا رزق کی تنگی میں مبتلا ہوتا ہے تو اپنی معصیت کا جائزہ لینے اور اس سے توبہ کرنے کے بجائے انسان زمانے کو برا بھلا کہتا ہے اور اس کو زمانہ کی نحوست تصور کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ کیسا برا زمانہ آگیا ہے ۔یہ مہینہ ،یہ ہفتہ یا یہ دن بہت برا اورمنحوس ہے، اس میں کوئی کمائی نہیں ہورہی ‘ گھر میں بڑی پریشانی آگئی ہے ۔
مسلسل گھر والے بیمار ہیں ،کوئی تدبیر کام نہیں آرہی یہ اور اس طرح کے جملے اپنی زبان سے لوگ نکالتے ہیں اور وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ساری کائنات اللہ کے اختیار میں ہے ،سورج اپنی روشنی کی کرنیں بکھیرنے میں ،ہوا لوگوں کو راحت پہنچانے میں بارش کا ہر قطرہ زمین کو نفع دینے میںاپنے رب کے حکم کا محتاج ہے، اس کی مرضی کے بغیر زمانے کی کوئی سوئی آگے نہیں بڑھتی ‘آسمان سے کوئی وبا آتی ہے ‘زلزلہ یا طوفان آتا ہے ‘بیماری یا کوئی پریشانی آتی ہے ‘انسان کسی حادثہ یا تنگی کا شکار ہوتا ہے تو سب اسی کے حکم سے ہوتا ہے ‘زمانہ کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا ۔
تمام دن اور مہینہ اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے اور اللہ کی پیدا کی ہوئی کوئی چیز منحوس نہیں ہوتی ‘اس کو منحوس اور برا کہنا اللہ کی صفت َ ِتخلیق کو برکہنا ہے۔ گویا وہ اللہ کے پیدا کرنے میں عیب لگا رہا ہے اور اس کی چیزوں کو خراب کہہ رہا ہے جو ایک طرح سے اس کی ذات کی توہین ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ جو زمانہ کوبرا بھلا کہتا ہے گویا وہ مجھے برا بھلا کہہ رہا ہے اور یہ کہ کر میری تخلیق میں عیب لگا رہا ہے جس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور وہ شعوری یا غیر شعوری میں میری ناراضگی مول لے رہا ہے، اس سے اس کے حالات مزید خراب ہوں گے اور مزید پریشانیاں بڑھیں گی چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ انسان زمانہ کو برا بھلا کہہ کر مجھے تکلیف دیتا ہے حالانکہ زمانہ تو میں ہی ہوں،سارے تصرفات میرے اختیار میں ہیں‘میں دن اور رات کو جیسا چاہتا ہوں بدلتا ہوں۔ ‘‘ ( صحیح بخاری)۔ اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ میرے حالات بہتر ہوں ‘پریشانیاں دور ہوں ‘گھر میں خوش حالی آئے اور زندگی خوش گوار ثابت ہو تو اسے چاہئے کہ اللہ سے صلح کرلے ‘اپنی معصیت اور گناہوں سے توبہ کرکے روٹھے ہوے رب کو راضی کرلے ،وہ راضی ہوگا تو ساری چیزیں ٹھیک اور درست ہوجائیں گی ‘وہ ناراض رہے گا تو ہزار تدبیریں کر لی جائیں حالات درست نہیں ہوسکتے اس لئے کہ حالات کا بدلنا اور انہیں بہتر بنانا اللہ کے اختیار میں ہے اسی لئے دوسری حدیث میں موجود ہے کہ اگر تمہارے حکمراں ظالم اور شرپسند ہوں تو انہیں برا بھلا نہ کہو ‘تمہاری معصیت اور سرکشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر انہیں مسلط کیا ہے ۔تم اگر حالات بدلنا چاہتے ہو تو اللہ سے کہو ‘دعا مانگو، گریہ وزاری کرو ‘گناہوں سے توبہ کرکے نیک راہ اختیار کرو وہ تمہارے بادشاہ اور حکمرانوں کو نرم بنا دے گا اور ان کے دل میں تمہاری محبت ڈال دے گا پھر وہ تم سے بہتر سلوک کرے گا اور تمہارے حق میں نرم رویہ اختیار کرے گا۔ ملک کے موجودہ حالات میں یہ حدیث ہمارے لئے بڑی روشنی فراہم کرتی ہے ۔
لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ہم نماز بھی نہ پڑھیں اور حالات بھی بہتر ہوں ‘اخلاق و کردار ہمارے نہایت پست ہوں اور ہمارے لئے رحمت کے دروازے بھی کھلے رہیں ایسا نہیں ہو سکتا ذاتی احوال سے لے کر ملکی اور بین اقوامی سطح پر حالات کا بدلنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اس لئے ہم اپنے حکمرانوں کو گالیاں دینے اور برا بھلا کہنے کے بجائے اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور انہیں قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں،اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد ہماری دست گیری کریگی اور دیکھتے ہی دیکھتے حالات ایسے بدلیں گے کہ ہم ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد کفار کے مقابلے میں بہت کم تھی،ان کے پاس اسلحہ نہیں تھا ‘نہتے اور کمزور تھے مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت پر انہیں بھر پور یقین تھا۔
ظاہری اسباب کے بجائے رب کی طاقت پر ان کی نظر تھی ‘ اس سے ان کا مضبوط تعلق تھا اوراسی سے وہ مدد کے طلبگار تھے ۔خود رسول اکرم ﷺ جنگ سے پہلے رات بھر اللہ کے سامنے روتے اور گڑگڑاتے رہے جس میں اس بات کا پیغام ہے کہ مسلمانوں کواللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط اور مستحکم کرنا چاہئے اور بزدلی کے بجائے پُرعزم اور حوصلہ مند رہنا چاہئے ۔ظاہری اعتبار سے تعداد کم ہو ‘وسائل اور اسباب بھی نہ ہوں تو بھی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عزت اور غلبہ عطا کرے گا ‘اسلام غالب ہونے آیا ہے مغلوب ہونا اس کی فطرت میں نہیں بشرطیکہ اس کے ماننے والے اس کے قابل ہوں اور ان میں اس کی اہلیت پائی جائے کیو نکہ اللہ تعالیٰ نااہلوں کو عظمت و رفعت عطانہیں کرتا ۔اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں۔ وہ جب کسی سے محبت کرتا ہے اور نوازنا چاہتا ہے تو کسی پرواہ کے بغیر خوب نوازتا ہے اور اس کے لئے ایسی راہیں ہموار کرتا ہے کہ عام ذہن حیران اور ششدر رہ جاتا ہے ۔ سوچئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش اللہ تعالیٰ نے خود فرعون کے گھر میں کس طرح کی ؟نمرود کی دہکتی ہوئی آگ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علہ السلا م کے لئے کس طرح بے اثر کردی ؟اصحاب فیل کواللہ تعالیٰ نے کس طرح چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے ہلاک کردیا ؟ہجرت کی رات کفار مکہ کے قتل کے منصوبوں کو کس طرح اللہ تعالیٰ نے ناکام بنا دیا اور کس طرح عاد و ثمود کو دنیا سے نیست و نابود کیا ‘کس طرح فرعون اور اس کے لشکرِ جرار کواللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کیا ؟ظاہر ہے کہ جہاں انسانی عقل کام نہیں کرتی اور راستے مسدود نظر آتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے وہاں راہیں ہموار کیں اور اپنی قدرت کا نظارہ وہاں دکھایا ۔آج بھی رب اسی طاقت کے ساتھ موجود ہے ۔ہماری نظر اپنے رب کی طاقت پر ہونی چاہئے اور شکوہ شکایت کے بجائے اپنے عمل کو درست کرنا چاہئے کہ سارے مسائل کا یہی حل ہے ۔مسلمان بازاروں ‘دکانوں ‘ گزرگاہوں اور ہر شعبۂ حیات میں چلتا پھرتا قرآن نظر آئے ۔تاجر ہے تو سچا تاجر ہو، امانت داری کو کسی بھی حال میں ہاتھ سے جانے نہ دے ۔
ڈاکٹرہے تو پیسہ کمانے کے جذبہ کے بجائے انسانی بنیادوں پر ہمدردی اور خیرخواہی کے جذبات دل میں پائے جائیں ۔وکیل ہے تومظلوموں کو ناجائز مقدمات سے بری کرنے کی جدو جہد کرے اور خیر اور نفع رسانی کی کوشش کو بنیاد بنائے ۔کوئی ٹیچر ہے تو قوم کی امانت کو سنوارنے کی فکر کرے ‘اخلاق و انسانیت ‘اخوت و محبت اور مظلوموں کی داد رسی پیش نظر رہے ‘ پھر حالات بدلیں گے اوراللہ تعالیٰ کی نصرت ہمارے ساتھ ہوگی اور یہی لوگ جن کو ہم اسلام اور مسلمانوں کے دشمن سمجھتے ہیں اسلام کے پاسباںثابت ہوں گے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر اس کا اعلان کرتے ہوے ارشاد فرمایا : ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کرلے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی ،نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی ومددگار ہوسکتا ہے۔‘‘( الرعد11)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان جب بدل جاتا ہے تو حالات بھی بدل جاتے ہیں یعنی وہ اپنا عمل اور کیریکٹربدل لے اور سچے معنی میں شریعت کا غلام بن جائے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کیلئے نزولِ رحمت کا فیصلہ ہوتا ہے اور اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کیلئے ایسا حصار قائم کیا جاتا ہے جس کو کوئی پار نہیں کر سکتا۔اس کو ایسی عزت دی جاتی ہے جس پر دوسرے لوگ رشک کرتے ہیں ،اس کی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے غیب سے ایسا انتظام کیا جاتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے وہ زمانہ دیکھا جبکہ چاروں طرف سے اسلام پر یلغار تھا ۔
ان کیلئے امن اور چین و سکون کا سانس لینا مشکل تھا لیکن ان حالات میں انہوں نے اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط کرلیا تھا ،اس کی رضامندی انہیں حاصل تھی، اس کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ساری طاقت کے باوجود پسپا کردیا‘ان کے نام و نشان کو مٹادیا اور صحابۂ کرامؓ کو ایسی عزت دی کہ ان کے نام پر دنیا کانپ اٹھتی تھی ۔آج تو اتنے مشکل حالات بھی نہیں، اللہ تعالیٰ نے سکون عطاکیا ہے اور مکمل آزادی کے ساتھ ہم اپنی زندگی گزار رہے ہیں ۔شریعت پر عمل کرنے کی راہیں کھلی ہوئی ہیں ۔صرف چند اندیشے ہیں اور خطرات منڈلا رہے ہیں تو وہ بھی ہمارے اعمالِ بد‘ہماری کوتاہیوں اور دین سے دوری کا نتیجہ ہے ضرورت ہے کہ ملک کے حالات اور حکمرانوں پر تبصرہ کرنے اور ان کے بارے میں شکوہ و شکایت کرنے کے بجائے اپنے حالات کا جائزہ لیں اور شریعت کی پابند زندگی گزارنے کا عہد کریں ۔اپنے آپ کو بدلیں تو پھر ہم آسمان سے رحمتوں کے نزول کا نظارہ کریں گے اور پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا بول بالا ہوگا :::::::::::::::

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: