اسلامیات

تو آپ نمازی نہیں؛ خطرناک قسم کے چور ہیں

محمد یاسین جہازی قاسمی

اسوأ الناس سرقۃ من یسرق من صلاتہ
تمام عبادات میں جتنی اہمیت اور تفصیلات کے ساتھ نماز کو بیان کیا گیا ہے، اتنی اہمیت اور تفصیلات کے ساتھ کسی دوسری عبادت کو بیان نہیں کیا گیا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے نماز کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نماز کی حقیقت تین چیزیں ہیں:
(۱) دل اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کی تسلیم سے لبریز ہو۔
(۲) زبان سے اللہ کی اس عظمت و کبریائی کو بہتر سے بہتر الفاظ میں بیان کیا جائے ۔
(۳) جسم کے پورے اعضا اس عظمت و کبریائی اور اظہار بندگی کی شہادت کے لیے لگے رہیں۔ چنانچہ نماز میں یہی ہوتا ہے کہ جب دل میں اللہ تعالی کی محبت انگڑائیاں لینے لگتی ہیں، تو ہم صدائے اللہ اکبر سنتے ہیں، تو تمام کاروبار حیات کو بند کرکے مسجد کی طرف چل پڑتے ہیں۔ پھر دنیا کی تمام چیزوں اور فکروں سے بے نیاز ہوکر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہوئے اللہ اکبر کہہ کر نیت باندھ لیتے ہیں ، زبان ثنائے خداوندی میں مصروف ہوجاتی ہے اور بدن کے تمام اعضا اللہ تعالیٰ کے سامنے اظہار عاجزی میں لگ جاتے ہیں، چنانچہ جیسے ہی قیام کا وقت ہوتا ہے ، تو زبان مصروف تلاوت ہوجاتی ہے۔ رکوع اور سجدے کا نمبر آتا ہے تو فورا سر جھک جاتا ہے اور جبین نیاز خم ہوجاتی ہے ، اور مکمل روحانی کیفیت کے ساتھ ہماری نماز پوری ہوتی ہے۔نماز خدائے واحد کے سامنے کمال خشوع و خضوع کی آخری حد ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے نماز کے فضائل و برکات کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ نماز تمام خطاوں اور گناہوں کو دھو ڈالتا ہے۔
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ کہیں جارہا تھا،پت جھڑ والا موسم تھا، راستے میں ایک درخت ملا، جس کے پتے خود ہی جھڑ رہے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس درخت کی دو ٹہنیاں پکڑیں اور انھیں ہلانے لگے، تو یکایک ان کے پتے اور جھڑنے لگے۔ ظاہر ہے کہ جس درخت کے پتے از خود جھڑ رہے تھے تو اس کو ہلاکر جھاڑیں گے تو سب جھڑ جائیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا: ائے ابو ذر ! میں نے عرض کیا حاضر ہوں یارسول اللہ! آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب مومن بندہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے نماز پڑھتا ہے، تو اس کے گناہ ان پتوں کے طرح جھڑ جاتے ہیں۔
یہ حدیث شاہد عدل ہے کہ اللہ کی رحمتوں کو متوجہ کرنے کے لیے نماز کی کتنی اہمیت ہے۔ جب نماز اس قدر اہم ہے، تو اس کو ادائیگی کے طریقے بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں اور اس کی ادائگی کے لیے شرائط و آداب بھی دیگر عبادتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ ان تمام باتوں کو سر دست چھوڑتے ہوئے آئیے آج ہم اس پر گفتگو کریں گے کہ کچھ ہم ایسی غلطیاں نماز میں کرتے ہیں، جن غلطیوں کا ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا اور ہماری نماز بھی نہیں ہوتی۔ اس طرح کی نماز میں‌ ہم چوری کر رہے ہوتے ہیں اور نماز کی چوری سب سے بری چوری ہوتی ہے، نماز کی وہ چند چوریاں‌اور غلطیاں درج ذیل ہیں:
(۱) تکبیر تحریمہ نہ کہنا: تکبیر تحریمہ زبان سے اتنی آواز سے کہنا ضروری ہے کہ آدمی کم از کم خود سن لے۔ اگر کوئی شخص بغیر زبان سے بولے صرف من ہی من میں اللہ اکبر کہہ لیتا ہے اور نیت باندھ لیتا ہے ، تو اس کی نمازہی شروع نہ ہوگی ۔ اور جب نماز ہی شروع نہ ہوگی ، تو نماز کیسے ہوگی۔
(۲) ستر عورت :لوور پہن کر نماز پڑھنا نماز میں خصوصی طور پر اور عام حالتوں میں خصوصی طور پر شرعی حدود کے پردے والے حصہ کو چھپانا ضروری ہے۔ لباس کی جتنی مقدار پہنا صالح معاشرے میں تہذیب و شرافت کی بات سمجھی جاتی ہے، اتنا لباس نماز میں بھی پہننا نماز کے آداب کا حصہ ہے، لیکن اگر کوئی شخص صرف شرعی پردے والے حصوں پر لباس پہنا ہوا ہے تو اس کی نماز ہوجائے گی۔ لباس کے تعلق سے مردوں کے لیے شرعی حدود یہ ہیں کہ ناف سے لے گھٹنے سمیت حصے کو چھپایا جائے ۔ اور عورتوں کے لیے پورا بدن ستر میں شامل ہے صرف چہرہ اور دونوں ہاتھ گٹوں تک اور دونوں پیر ٹخنوں تک اس سے علاحدہ ہے۔ لہذا اگرکوئی بہن نماز پڑھ رہی ہے اوراس کے ہاتھ کہنیوں تک کھلے ہوئے ہیں، اس کی نماز نہیں ہوگی۔ اسی طرح مردوں میں ایک عام بیماری یہ ہوگئی ہے کہ لوور پہنتے ہیں ، جس میں پیر کے نیچے ممنوع والے حصہ ٹخنہ تو چھپا ہوا ہوتا ہے، لیکن جو اصلی ستر ہے یعنی ناف کے نیچے والا پشت کی جانب کا حصہ، وہ بالکل کھل جاتا ہے۔ ویسے لوور اتنا نیچے ہوتا ہے کہ عام اور قیام کی حالت میں بھی شرعی دائرہ ستر سے نیچے رہتا ہے، لیکن جب لوور پہنے والا رکوع میں جاتا ہے، مزید ستر کا حصہ کھل جاتا ہے اور سجدہ میں تو گویا پورا ہی کھل جاتا ہے۔ جس سے حصے کو عام حالت میں بھی کھلا رکھنا ناجائز ہے ، وہ حصہ جب نماز میں کھل جائے تو نماز کیسے درست ہوسکتی ہے۔ یہ آج کے معاشرے کی ایسی کمزوری ہے، جس میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ ایک سلیم الفطرت اور نمازی شخص کو یہ بالکل زیب نہیں دیتا ۔
(۳)پھٹا جنس پہننا: آج کل ایک فیشن یہ بھی چلا ہوا ہے کہ جگہ جگہ جنس میں شکن اور پھٹن ہوتی ہے ، اس کے باوجود اس کو شوق و رغبت سے ہمارے نوجوان خریدتے ہیں اور پہنتے ہیں ، اور اسی میں نماز بھی پڑھتے ہیں۔ اگر شرعی دائرہ ستر میں کہیں یہ پھٹن ہے تو اس کی بھی نماز نہیں ہوگی۔
(۴) سجدے میں دونوں پیر اٹھالینا: بہت سے لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ جب سجدے میں جاتے ہیں تو دونوں پیروں کی انگلیوں کو ایک ساتھ زمین سے اوپر اٹھالیتے ہیں اور اس سے کھیلتے ہیں رہتے ہیں ۔ کبھی ایک پیر سے دوسرے پیر میں کھجاتے ہیں ، کبھی ایک دوسرے کے اوپر چڑھاتے ہیں اور کبھی صرف ایک دونوں کو زمین سے اوپر اٹھائے رکھتے ہیں۔ اگر دونوں ایک ساتھ اٹھ جائیں، تو دھیان رکھیں کہ آپ کی نماز ہی نہیں ہوگی۔سجدے کی حالت میں چوں کہ انسان کی نظر اپنے پیر پر نہیں پڑتی ، اس لیے معلومات کے بعد بھی لاشعوری میں پیر اٹھ جاتے ہیں، اس کا علاج یہ ہے کہ اگر کوئی ساتھی اپنے ساتھی کو ایسا کرتے دیکھے ، تو اسے ضرور بتائے کہ آپ سجدے میں دونوں پیر اٹھاتے ہیں، اس لیے آپ کی نماز نہیں ہوتی۔ خود راقم کا واقعہ ہے کہ گاوں کی جامع مسجد میںیہ بات بتائی ، لیکن میں خود لاشعوری طور پر اس جرم کا مجرم تھا،اللہ جزائے خیر دے اس شخص کو ، انھوں نے نماز کے بعدمجھے متوجہ کیا ، تو احساس ہوا اور اس دن سے لے کر آج تک جب بھی سجدے میں جاتا ہوں تو عموما پیر کو ٹکانے کا خیال رہتا ہے۔
(۵) عمل کثیر کا ارتکاب کرنا: بسا اوقات ہم نماز پڑھتے پڑھتے کچھ ایسے کاموں میں مشغول ہوجاتے ہیں کہ دوسرے دیکھنے والے کو شبہ ہوجاتا ہے کہ یہ شخص یہ نماز پڑھ رہا ہے یا کچھ اور کر رہاہے ۔ اس کی کئی شکلیں ہیں،جو ذیل میں درج ہیں:
(الف) (۱)کبھی ایسا ہوتا ہے کہ گرمی لگ رہی ہے، تو ہم دونوں ہاتھوں سے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں سے ہوا کرنے لگتے ہیں۔ اگر ہم نے دونوں ہاتھ ایک ساتھ لگا دیے تو نماز ختم ہوگئی۔ اور اگر صرف ایک ہاتھ سے ہوا کیا تو اگر تین مرتبہ سے زیادہ کیا تو نماز ٹوٹ گئی۔ از سر نو نماز کی نیت باندھ کر پڑھنی پڑے گی۔
(ب) (۲)اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ موبائل بجنے لگا تو اس کی ایک شکل یہ ہے کہ جس جیب میں ہے ، اس طرف کے ہاتھ سے رنگ بند کردیں۔ یہاں تک کی گنجائش ہے۔ لیکن ہم کرتے کیا ہیں کہ موبائل بج رہا ہے ،ہم بڑے اطمینان سے جیب سے نکالتے ہیں، پھر بغور دیکھتے ہیں کہ کس کا فون آرہا ہے ، پھر کچھ دیر تک سوچتے رہتے ہیں کہ فون کاٹوں یا نہ کاٹوں اور جب تک گھنٹی بج رہی ہوتی ہے ۔ دوسرے نمازی کو خلل ہورہا ہوتا ہے۔ پھر بہت آرام سے فون کاٹتے ہیں یا کوئی میسج بھیجتے ہیں کہ میں ابھی کال ریسیو نہیں کرسکتا ۔ یاد رکھیے کہ یہ زیادہ کام ہے ، عمل کثیر ہے اور اس سے ہماری نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
(ج) (۳)کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بدن میں کہیں کھجلی ہورہی ہوتی ہے ، حسب ضرورت کھجانا تو ایک فطری ضرورت ہے، لیکن نماز کی حالت میں احتیاط ضروری ہے۔ لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ جب کھجاہٹ کا تقاضا ہوتا ہے کہ تو نماز کے تمام تقاضوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور کھجلی کے تقاضوں میں منہمک ہوجاتے ہیں اور یہ انہماک اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ کھجاہٹ کی لذت نماز کی لذت پر غالب آجاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکالتا ہے کہ ہم جسمانی طور سے نماز کی ہیئت سے دور تو ہو ہی جاتے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ فکری اعتبار سے بھی نماز ہم سے الگ ہوجاتی ہے،ہمیں ایسے موقع پر کھجلی سے زیادہ نماز کا خیال رکھنا چاہیے۔
(د) (۴)کبھی یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ شرعی حدود کا لباس بھی پہنا ہوا ہے، کپڑے سے ہوا بھی نہیں کھارہا ہے، موبائل بھی جیب میں نہیں ہے، اور نہ ہی اسے کھجلی ہورہی ہے، لیکن جسم کی ساخت پر کپڑے کو بار بار ٹھیک کرتے رہتے ہیں۔ جیسے کہ ایک شخص کرتا پہن کر نماز پڑھ رہا ہے ، تو جیسے ہی رکوع سے یا سجدے سے قیام کی طرف لوٹتا ہے ، تو سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیچھے کے دامن کو سنوارنے میں لگ جاتا ہے۔ اور یہاں بھی عموما دونوں ہاتھوں کا استعمال ہوتا ہے اور ہماری نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ یا کوئی شخص نہات چست شرٹ یا ٹی شرٹ پہنا ہوا ہوتا ہے ، اور نیچے لوور ٹائپ کا پتلون یا جنس ، تو یہ صاحب بھی بار بار اپنے ٹوپ کے کپڑے کو نیچے کی طرف کھینچتا رہتا ہے اور دونوں ہاتھوں سے یہ کام کرتا ہے، ایسے افراد کی بھی نماز نہیں ہوتی۔
(ھ) (۵)جب ہم نماز پڑھتے ہیں تو پڑھتے پڑھتے ہماری نظر سامنے کی دیوار پر پڑتی ہے ، جہاں کچھ لکھا ہوا ہوتا ہے۔ اگر صرف ایک اچٹی نگاہ پڑی اور آپ نے نگاہ پھیر لی، اس کو پڑھنے کی کوشش نہ کی ، تو آپ کی نماز برقرار ہے ، لیکن اگر نماز سے دھیان ختم کرکے، اس کو پڑھنے میں لگ گئے ، تو آپ کی نماز ختم ہوگئی۔
(و) (۶)آج کل گرمی کا موسم ہے ، اس موسم میں دیہات وغیرہ میں مچھر افزائش بڑھ جاتی ہے،جو بار بار دوران نماز ہمیں پریشان کرتے ہیں ، یا مکھیاں بدن پر بیٹھ جاتی ہیں اور ہمیں الجھن محسوس ہوتی ہے، تو اگر ایک ہاتھ سے ان کو بھگانے کی کوشش کرتے ہیں، تو ایک حد تک اس کی گنجائش ہے، لیکن بعض دوستوں کو دیکھا گیا ہے کہ سر پر مکھی بیٹھی ، تو انھوں نے زور سے ہاتھ مارا، لیکن مکھی یا مچھر اڑ گیا ، پھر فورا دوبارہ بیٹھ گیا، ہم نے دوبارہ اڑا دیا ، اس طرح کرتے کرتے کبھی ایسا بھی کربیٹھتے ہیں کہ زبان سے بھی مچھر ، مکھی کو بھگانے لگتے ہیں اور پھر ہماری نماز نوٹ جاتی ہے۔
(۶) نماز میں تاخیر سے شامل ہونا: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم وضو کررہے ہوتے ہیں یا مسجد کے دور کنارے ہوتے ہیں، یا سنت پڑھ رہے ہوتے ہیں اور امام صاحب رکوع میں چلے جاتے ہیں، ہم اس رکعت کو پانے کے لیے جلدی بازی کرتے ہیں اور دوڑے بھاگتے نماز میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اتفاق یہ ہوتا ہے کہ آپ اللہ اکبر بھی پورا نہیں کرپاتے کہ امام صاحب رکوع سے اٹھتے ہوئے سمع اللہ لمن حمد کہہ دیتے ہیں، لیکن ہم پھر بھی دو تین سکنڈ کے لیے رکوع میں چلے جاتے ہیں اور پھر امام کے ساتھ شامل ہوکر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے وہ رکعت پالی۔ اس رکعت کو پانے کا پیمانہ یہ ہے کہ امام رکوع میں تھے ، آپ نے تکبیر تحریمہ کہی ، رکوع میں گئے اور ایک مرتبہ آپ نے سبحان اللہ کہا، پھر امام صاحب رکوع سے اٹھے، تو یہ رکعت آپ نے پالی۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوا، بلکہ یہ ہوا کہ آپ نے تکبری تحریمہ کہی اور امام صاحب نے سمع اللہ لمن حمد کہنا شروع کردیا، یا پھر تکبیر تحریمہ کے بعد آپ ابھی رکوع میں گئے ہی تھے ، سبحان ربی بھی نہیں کہہ پائے تھے کہ امام نے سمع اللہ کہہ دیا تو آپ کی شمولیت نہیں ہوئی۔ اور جب نماز میں ہی شمولیت نہیں ہوپائی ، تو ہماری نماز بھی نہیں ہوئی۔ یہ بیماری بہت عام ہوگئی ہے، اس پر ہر شخص کو اپنا اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
(۷) عورتوں کا ستر عورت کے بغیر نماز پڑھنا: عورتوں کا دائرہ کار اور دائرہ عمل دونوں گھر ہے، لیکن پھر بھی ملازمت یا دگر مجبوری کے پیش نظر کچھ بہنیں مسجد میں بھی نماز کے لیے آتی ہیں اور شوق و رغبت کے ساتھ نماز پڑھتی ہیں، لیکن مشاہدہ یہ بتلاتا ہے کہ عموما اس قسم کی عورتیں نماز کے شرعی طریقے سے ناواقف ہوتی ہیں۔ مرد اور عورتوں کی نماز میں جو فرق رکھا گیا ہے، وہ عورتیں ان فرقوں کا لحاظ نہیں رکھتیں ۔ وہ مسجدوں میں جس طرح مردوں کو نماز پڑھتے دیکھتی ہیں، وہ ویسے ہی نماز پڑھنے لگتی ہیں، کچھ لمحہ کے لیے مان لیتے ہیں کہ ان کا عمل اچھا کہا جاسکتا ہے، لیکن پریشانی یہ ہے کہ وہ لباس میں بھی مردوں کی نقل کرتی ہیں، شریعت میں ان کے لیے جو پردہ کے شرعی حدود ہیں، ان حدود میں ان کا لباس نہیں ہوتا ، جس کی وجہ سے نماز ہی نہیں ہوتی۔ اس کی تفصیلات پیش خدمت ہیں:
(الف) دونوں ہاتھ کھلے ہونا: عورتوں کی کہنیاں ستر کا حصہ ہیں، جن کے کھلے ہونے سے نماز نہیں ہوتی۔ آج کل لڑکیوں کے لباس میں کہنیاں بالعموم کھلی ہوتی ہیں۔ ایسے کپڑے پہن کر نماز نہیں ہوتی۔
(ب) جنس پہن کر نماز پڑھنا: لڑکیوں کی جنس بالعموم ٹخنوں سے اوپر ہوتی ہیں، جن سے نماز نہیں ہوتی، کیوں کہ ٹخنوں سے اوپری حصے ستر میں داخل ہیں۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ اگر شرعی پردے کیے بغیر نماز پڑھیں، تو ایسے لباس میں نماز نہیں ہوتی۔ لہذا ان چیزوں کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close