اہم خبریں

تیز رفتار زمانے میں بھی ناول کی مقبولیت کا راز موضوعات کی رنگا رنگی میں پوشیدہ:شافع قدوئی

ناول کی تفہیم کے حوالے سے نئی نسل کے قلم کاروں سے امیدیں وابستہ: سید محمد اشرف ”عہدحاضر میں اردو ناول میں تفہیم وتعبیراور اردو ناول کی قرأت“پر دو روزہ کل ہند سیمینار

علی گڑھ (پریس ریلیز)
البرکات اکیڈمی، علی گڑھ میں دو روزہ کل ہند سیمینار کا انعقاد ”عہدحاضر میں اردو ناول میں تفہیم وتعبیراور اردو ناول کی قرأت“پر اترپردیش اردو اکیڈمی اور اسلوب آرگنائزیشن کے زیراہتمام کیا گیا۔ سمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت مشہورناقد شافع قدوائی نے کی اور بطور مہمان خصوصی افسانہ نگار سید محمد اشرف کی شرکت نے۔ پروفیسر شافع قدوائی نے اپنی صدارتی تقریر میں اردو ناول کے ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے موجودہ عہد کے تمام اہم ناولوں کا معروضی جائزہ پیش کیا اور گزشتہ چار یا پانچ دہائیوں میں لکھے جانے والے ناولوں کے موضوعات میں تازگی و تنوع پر گفتگو کرتے ہوئے ناول کے روشن اور تابناک مستقبل کی طرف بھی معنی خیز اشارے کئے۔ انھوں نے کہا کہ تیز رفتار زمانے میں بھی ناول کی مقبولیت کا راز موضوعات کی رنگا رنگی میں پوشیدہ ہے۔مہمان خصوصی سید محمد اشرف نے اپنی تقریر میں کہا کہ زبان کے ذریعے ناول نگار ایک ایسی نئی حقیقت پیش کرتا ہے جو سچ اورجھوٹ سے ماورا ہوتے ہوئے بھی قاری کے ذہن پر نہ صرف اثر کرتی ہے بلکہ اس کا اثر دیر پا ہوتا ہے، اورکبھی کبھی صرف ایک کیفیت باقی رہ جاتی ہے جواس ناول کے حوالے سے زندگی بھر ہمارے حافظے کا حصہ بنی رہتی ہے۔ یہ ایک کامیاب ناول کی اہم خوبی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ناول کی تفہیم کے حوالے سے نئی نسل کے قلم کاروں سے امیدیں وابستہ ہیں۔
اپنے استقبالیہ کلمات میں اسلوب کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر شعیب نظام نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تجزیے کے لیے اسلوب آرگنائزیشن نے ہندوستان بھر سے نوجوان نسل کے ابھرتے ہوئے قلم کاروں کو بہت سوچ سمجھ کر مدعو کیا ہے جس سے وہ ہمارے عہد کے بڑے فکشن نگاروں سے مل کر ان سے ان کے فن پرسوالات کرسکیں اورہمارے فکشن نگار بھی یہ دیکھ کر اندازہ لگاسکیں کہ نئی نسل کے لکھنے والے فن کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں کس طرح پیش کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ رسمی انداز سے گریز کرتے ہوئے کلیدی خطبہ کے لئے تفسیر حسین کو مدعو کیا گیا تھا۔جلسے کے دوران پورا ہال فکشن کے شائقین سے بھرا ہوا تھا جس میں نو جوان نسل کی شمولیت سب کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔
دوسرے اجلاس میں صدارتی خطبہ مشہور افسانہ نگار پروفیسر طارق چھتاری نے پیش کیا۔ ناول کی قرأت پروفیسر ثروت خان، صادقہ نواب سحر، شاہد اختر اورغضنفر نے بہت خوبصورت انداز میں پیش کی۔ ان ناولوں کے تجزیے ڈاکٹر محمد اختر، آفتاب احمد نجمی، ڈاکٹر مہ جبیں خان اورترنم جبیں نے پیش کیے۔ نظامت سفینہ بیگم نے کی۔ پروفیسر طارق چھتاری کی صدارتی تقریر اتنی دلچسپ اورناول کے فن کو سمجھنے میں اتنی معاون تھی کہ آخر تک اس کا ذکر شرکائے محفل ایک دوسرے سے کرتے رہے۔ سیمنار کا پہلا دن نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام پذیرہوا۔
سیمینار کے دوسرے دن محسن خاں، رحمان عباس، شبیر احمد، یعقوب یاور، سید محمد اشرف، رینو بہل اوررضوان الحق نے مختلف اجلاس میں اپنے ناولوں کی قرأت ایسے دلنشیں انداز میں پیش کی کہ سیمنار ہال میں موجود تما م سامعین کے چہروں پر لطف و انبساط کی کیفیت واضح طور پر محسوس کی گئی۔ان ناولوں پرکامیاب تجزیے ڈاکٹر محمد اختر،ڈاکٹر نور فاطمہ، ڈاکٹر شیبا حیدر، ڈاکٹر شہنا ز یوسف، ڈاکٹر شہناز رحمان، ڈاکٹر دائم انصاری،محمد حنیف خان، خوشتر زریں ملک،گلشن عزیز، حمیرہ عالیہ، سفینہ بیگم،مقصود دانش، وسیم احمد فدا، استوتی اگروال،حامد رضا احسن ایوبی وغیرہ نے پیش کیے۔
آخری اجلاس میں معروف فکشن نگار سید محمد اشرف نے اپنے ناول آخری سواریاں کے ایک دیہاتی زبان پرمشتمل حصہ پر قرأت کی جسے سن کر قاضی عبدالستا ر کی قرأت کی یاد تازہ ہوگئی۔ کہانی کی اتنی عمدہ قرأت کرنے والے لوگ اب کم یاب ہوگئے ہیں۔ اس دو روزہ سیمینار کی سب سے بڑی خصوصیت یہ رہی کہ تمام تجزیہ نگا راورناظم نو جوان نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔اس میں شعوری طورپرایک بھی معروف تنقید نگار کو زحمت نہیں دی گئی تھی۔یہاں تک کہ پروفیسر شافع قدوائی کی صدارت میں کلیدی خطبہ تفسیر حسین نے پیش کیا جو عام روایت کے عین خلاف تھا۔ دونوں دن پوراہال سامعین سے بھرا رہا۔ منتظمین نے اس دورہ سیمینار کے تینوں اجلاس میں وقفے کے دوران مہمان نوازی کا بہترین انتظام کیا۔ سیمینار میں ثروت خان، شاداب الفت، حمیرا عالیہ، انتخاب حمید، رضوان الحق، شاہد اختر، رینو بہل، غضنفر کی کتابوں اور رسالہ انتساب کی رسم اجرا بھی عمل میں آئی۔
جلسے کے اختتام پر سیمنار کے منتظم ڈاکٹر شعیب نظام اورمحسن خاں نے تمام مہمانوں اوربالخصوص نو جوان نسل کا شکریہ اد ا کیا اورتحفہ کے طورپر معدوم ہوتی ہوئی فن کاری کیلی گرافی کے بے حد عمدہ نمونے جو بچوں نے اپنے ہاتھوں سے تیار کیے تھے نذر کئے گئے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: