مضامین

تین ملکوں کا سفر— کچھ سبق آموز پہلو

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

مؤرخہ۳۱/دسمبر ۹۱ء کو ہم لوگ سفر کے اگلے مرحلہ پر روانہ ہوئے اور بحرِ ہند کے ایک چھوٹے سے جزیرہ ری یونین پہنچے، جو نقشہ میں ایسا نظر آتا ہے جیسے سمندر کے رخسار پر ایک خوبصورت سا تِل، قدرتی خوبصورتی کے مظاہر پہاڑ، جنگل اور سمندر ہوتے ہیں اور یہ تینوں چیزیں یہاں جمع ہیں؛ اس لئے جس کو فطرت کا کچھ شعور ہو، وہ یہاں کی رعنائی میں کھو جاتا ہے، مجھے متعدد بار اس جزیرہ میں جانے کا موقع ملا، اور اس تأثر میں کوئی فرق نہیں آیا، شاید فطری نظاروں کے اعتبار سے یہ دنیا کا خوبصورت ترین علاقہ ہے، اس جزیرے کی ایک بلند اور سرسبز وشاداب پہاڑی پر دارالعلوم اشرفیہ قائم ہے، جہاں دورہئ حدیث تک تعلیم ہوتی ہے، یہ چوں کہ فرانس کی کالونی ہے؛ اس لئے فرنچ ہی سرکاری اور عوامی زبان ہے، دارالعلوم میں بھی زیادہ تر فرنچ زبان ہی میں تعلیم ہوتی ہے۔
مجھ کو اور میرے ساتھ عزیزی مولوی محمد عمر عابدین قاسمی مدنی سلمہ کو یہاں ختم بخاری کے لئے مدعو کیا گیا تھا، اس ادارہ کے بانی وناظم جواں عمر فاضل مولانا محمد زکریا گنگات ہیں، ما شاء اللہ اس ادارہ کو متعدد مخلص اور باصلاحیت اساتذہ کی خدمات حاصل ہیں، جن میں مولانا انس لالہ، مولانا محمد عثمان، مولانا محمد یوسف اور مولانا امداداللہ وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں، انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کے درمیان مثالی ہم آہنگی ہے؛ اسی لئے اس ادارہ نے کم وقت میں ظاہری اور معنوی دونوں حیثیتوں سے نمایاں ترقی کی ہے، ادارہ کے ذمہ داران باشعور اور وسیع الفکر ہیں، جس کا اندازہ ان کی علمی اور دعوتی سرگرمیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے، مولانا زکریا گنگات صاحب نے متعدد پروگرام رکھے، بنیادی پروگرام تو ختم بخاری شریف کا تھا، جو میرے ذمہ تھا، اور مولوی عمر عابدین سلمہ نے علماء کی ذمہ داریوں پر خطاب کیا جو بہت پسند کیا گیا، یہ مرکزی پروگرام ۵۱/دسمبر کو دارالعلوم کے احاطہ میں ہوا، جس میں وہاں کے لحاظ سے بڑی تعداد میں عوام وخواص نے شرکت کی، اس سے ایک دن پہلے ۴۱/ دسمبر کو ایک ہوٹل میں مساجد کے نمائندوں کے ساتھ کھانے پر اس حقیر کی ملاقات رکھی گئی، مسلم سماج میں مساجد کی کیا اہمیت ہے، منتظمین مساجد کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور مساجد کے ذریعہ کیا کام کئے جا سکتے ہیں؟ اس پر اس حقیر نے اختصار کے ساتھ گفتگو کی اور لوگوں کے سوالات کے جواب دیے، ۶۱/ دسمبر کو صبح میں ہیلی کاپٹر کے ذریعہ جزیرہ کی سیر کا پروگرام رکھا گیا، یہ بڑا خوبصورت تفریحی پروگرام تھا، پائلٹ نے ہیلی کاپٹر کو پہاڑ کی چوٹیوں کے اتنے قریب سے گزارا کہ لگتا تھا کہ کہیں ہیلی کاپٹر ٹکرا نہ جائے، پہاڑوں کے درمیان جو تنگ اور گہرے درے ہیں، کیپٹن نے بڑی مہارت کے ساتھ ان کے درمیان سے بھی ہمیں گزارا، ایک گھنٹہ تک ہم لوگ اس خوبصورت جزیرہ کو فضا سے دیکھتے رہے؛ چوں کہ اس جزیرہ کے سارے پہاڑ درختوں اور سر سبز پودوں سے ڈھکے ہوئے ہیں؛ اس لئے بے حد خوبصورت نظر آتے ہیں، بہر حال ایسے مناظر دیکھ کر خالق کائنات کی قدرت پر انسان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔
آج ہی مغرب کے بعد سینٹ لوئس کی وسیع اور خوبصورت مسجد میں عوامی پروگرام تھا، جس میں اس حقیر کے علاوہ مولوی محمد عمر عابدین سلمہ نے خطاب کیا، اور اخیر میں لوگوں کے سوالات کے جواب دیے گئے، ۷۱/دسمبر کو سینٹ دینس کی ایک مسجد میں علماء اور عالمات کے لئے سیمینار رکھا گیا، جس کا عنوان تھا ”نئے مسائل اور ان کا حل“ اس حقیر نے پاور پوائنٹ کے ذریعہ اس موضوع پر خطاب کیا اور راقم الحروف سے پہلے مولوی محمد عمر عابدین سلمہ نے عربی زبان میں دنیا بھر کی اہم فقہ اکیڈمیوں کا تعارف کرایا اور ان کی اہم تجاویز کی طرف اشارہ کیا، آج ہی بعد مغرب اس شہر کے ایک ہال میں ایک تربیتی پروگرام مردوں اور عورتوں کے لئے رکھا گیا، جس سے مولانا محمد عمر عابدین سلمہ نے خطاب کیا، لوگ ان کے خطاب سے بہت متأثر ہوئے۔
۸۱/دسمبر کو بعد مغرب لڑکیوں کی ایک درسگاہ مدرسہ ہدایت النساء میں پروگرام رکھا گیا، جس میں ہم دونوں کی خواتین سے متعلق مسائل پر گفتگو تھی، یوروپ کے ملکوں میں فرانس ایک ایسا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ شخصی آزادی کا غلغلہ بلند ہے، اس کا اثر نہ صرف مسلم خواتین پر ہے؛ بلکہ دینی تعلیم حاصل کرنے والی طالبات و عالمات پر بھی ہے، اس پس منظر میں راقم الحروف نے خواتین سے متعلق مغربی تصور اور عورتوں کے لئے اس کے نقصانات اور اسلام کا خاندانی زندگی میں تقسیم کار کا نظام اور اس نظام میں عورت کے لئے فوائد، سہولتوں اور رعایتوں پر روشنی ڈالی، پھر اخیر میں سوالات کے جواب دیے گئے، یہ پروگرام مدرسہ ہدایت النساء کے کانفرنس ہال میں رکھا گیا تھا، بیرونی حصہ میں مردوں کی نشستیں، اور اندرونی ہال میں خواتین کی، جس میں پروجیکٹر کے ذریعہ تقریر نشر کی جا رہی تھی۔
ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے یہاں کی جو بات قابلِ تقلید نظر آئی، وہ یہ ہے کہ یہاں جو مسلمان آباد ہیں، زیادہ تر ان کے آباء واجداد ہندوستان کے صوبہئ گجرات سے آئے تھے، اس کے علاوہ قریب کے دوسرے جزائر سے سیاہ فام مسلمان بھی یہاں آکر آباد ہوئے، اور کچھ مقامی لوگوں نے بھی اسلام قبول کیا، یہ سبھی حضرات فرنچ بولتے ہین، مسجدوں میں فرنچ زبانوں میں ہی بیانات ہوتے ہیں، اس کا نتیجہ ہے کہ وہاں اچھی فرنچ بولنے اور لکھنے والے مسلمانوں کی کافی تعداد ہے، علماء کے طبقہ میں بھی فرنچ زبان کے اچھے مقرر ہیں، جن کا خطاب غیر مسلم حضرات بھی پسند کرتے ہیں، اور خود مسلمانوں کی پڑھی لکھی نوجوان نسل بھی متأثر ہوتی ہے۔
مولانا محمد انس لالہ جو جامعہ اشرف العلوم میں شیخ الحدیث ہیں، فرنچ زبان میں ان کی ویب سائٹ بہت مقبول ہے، اور مسلم وغیر مسلم دونوں طبقہ کے لوگ بکثرت اس سے استفادہ کرتے ہیں، یہ ہندوستان کے مسلمانوں اور علماء برادری کے لئے قابل تقلید ہے، ہندوستان ایسا ملک ہے، جہاں ایک درجن سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں، یہ مختلف علاقوں کی زبانیں ہیں، اور ہر علاقہ میں کئی پشتوں سے مسلمان آباد ہیں، اور غیر مسلم بھائیوں سے زندگی کے مختلف مراحل میں ان کا تعلق ہے؛ لیکن چند زبانیں جیسے: ملیالم، تمل، بنگلہ، گجراتی کو چھوڑ کر مقامی زبان میں اچھی تقریر کرنے والے مقررین اور معیاری زبان لکھنے والے مصنفین اور صحافی نہ ہونے کے برابر ہیں، اور بالخصوص علماء تو اس میں بہت پیچھے ہیں، حد یہ ہے کہ ہندی ملک کی قومی زبان ہے، اور اترپردیش، بہار، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ جیسی کثیر آبادی والی ریاستوں میں بولی جاتی ہے؛ لیکن ہندی میں اچھے مسلمان مصنف اورمقبول مقرر بہت کم ملتے ہیں، اور علماء کا رویہ تو کچھ ایسا ہے کہ گویا اس زبان کو تقریروتحریر کا ذریعہ بنانا کوئی گناہ کی بات ہو۔
مقامی زبانوں کے ساتھ اس رویہ نے ہمیں بڑا نقصان پہنچایا ہے، اگر آپ مقامی زبان سے واقف ہیں اور اس میں بولنا اور لکھنا جانتے ہیں تو اس سے برادران وطن میں اُنس پیدا ہوتا ہے؛ کیوں کہ ہَم زبانی کا تعلق بھی اُنس کا ایک ذریعہ ہے، اس کے ذریعہ برادران وطن کے درمیان اسلام کا تعارف کرایا جا سکتا ہے، مقامی میڈیا میں اسلام کے خلاف جو باتیں کی جاتی ہیں، ان کا بہتر اور مؤثر جواب دیا جا سکتا ہے، سرکاری اسکیموں کو سمجھا اور سمجھایا جا سکتا ہے، اور بچوں کو ان کی تعلیم میں مدد مل سکتی ہے، شاید فرانس کے مسلمانوں کو فرنچ زبان کے پوری طرح اختیار کر لینے کا ثمرہ ہے کہ یورپ کے ملکوں میں سب سے زیادہ مسلمان اسی ریاست میں ہیں، اور اسلام قبول کرنے والے مردوخواتین کی تعداد بمقابلہ دوسرے مغربی ملکوں کے یہاں زیادہ ہے۔
۹۱/ دسمبر کو افریقہ کا یہ خوشگوار سفر اپنے اختتام کو پہنچا، اور ہمارا یہ مختصر قافلہ دبئی پہنچا، اس پورے سفر میں مولوی عمر عابدین سلمہ کی رفاقت نے بڑی سہولت پہنچائی، جسمانی آرام بھی اور معنوی آرام بھی کہ جہاں میری طبیعت مضمحل ہوتی میں مختصر گفتگو کرتا اور وہ اس کی تلافی کرتے، اور چوں کہ وہ انگریزی میں بھی اچھی طرح گفتگو کر لیتے ہیں، اس سے بھی آسانی ہوئی، وہ تو دبئی ائیر پورٹ ہی سے حیدرآباد کے لئے روانہ ہوگئے؛ لیکن میں نے دبئی میں اپنے چھوٹے لڑکے عزیزی ظفرعابدین ندوی سلمہ (شرعی ایڈوائزر دبئی اسلامک بینک) کے یہاں تین چار دنوں قیام کیا، انسان کو اپنی اولاد کی طرح اولاد کی اولاد کو دیکھ کر بھی ایک خوشی ہوتی ہے، وہ خوشی یہاں حاصل رہی، میں نے منع کر دیا تھا کہ یہاں کوئی پروگرام نہ رکھا جائے، میں صرف اپنے بچوں کے ساتھ وقت گذاروں گا، انھوں نے بڑی حد تک اس پر عمل کیا؛ لیکن مولانا عبدالمتین ندوی بھٹکلی نے آخر پکڑ ہی لیا، اور ایک بھٹکلی دوست کے یہاں نشست رکھی گئی، مقامی حالات کے تحت قصداََ کم لوگوں کو دعوت دی گئی، جب آدمی اپنے وطن سے باہر ہوتا ہے تو اسے اپنے وطن کی ایک ایک بات عزیز ہوتی ہے؛ اس لئے حاضرین کا تقاضا ہوا کہ ہندوستان کے موجودہ حالات اور مسلمانوں کے لائحہئ عمل پر کچھ عرض کیا جائے؛ چنانچہ گفتگو کی گئی اور خاص طور پر یہ بات کہی گئی کہ ہمیں ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہئے، ہندوستان کا دستور نہایت مستحکم بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے، اور آج بھی اس ملک کی غالب اکثریت سیکولر مزاج اور انصاف پسند ہے۔
میں نے ان سے گزارش کی کہ ہندوستان میں مقیم لوگوں کے مقابلہ آپ کے معاشی حالات بہتر ہیں، آپ اس کو صرف خوبصورت مکانات کی تعمیر اور تزک واحتشام کے ساتھ منعقد کی جانے والی تقریبات میں خرچ کرنے کے بجائے اپنے بچوں کو ایسی تعلیم دلائیں کہ خود ان کو بھی فائدہ ہو اور وہ امت کے لئے بھی اثاثہ بنیں، ان کو سول سروسیز کے امتحانات کے لئے تیار کرائیں، ان کو صرف ڈاکٹر نہ بنائیے، میڈیکل سائنٹسٹ بنائیے، ان کو صرف کسی شعبہ کا انجینئر نہ بنائیے؛ بلکہ ان کو اس لائق بنائیے کہ وہ ایجادات واختراعات کی دنیا کو کچھ دے سکیں، ان کو لاء کی تعلیم دلائیے، اور موقع دیجئے کہ وہ بہترین قانون داں بنیں، اچھے بیرسٹر بن سکیں، اور اس ملک میں پوری قوت کے ساتھ سپریم کورٹ تک ملت کے مقدمات کی پیروی کریں، یہ آپ کی جانب سے ہندوستان کی ملت مسلمہ کے لئے بہترین تحفہ ہوگا۔
دبئی ہی میں میرے ایک قدیم وعزیز شاگرد مولانا ڈاکٹر عبدالعزیز قادری آکر ملے، وہ ما شاء اللہ بہت اچھی خدمت کر رہے ہیں اور جمعہ کے دن انگریزی زبان میں ان کا خطاب ہوتا ہے، انھوں نے کہا کہ وہ معہد سے فاصلاتی طور پر افتاء کرنا چاہتے ہیں؛چنانچہ ان کے سامنے اصول افتاء سے متعلق تفصیلی محاضرہ دیا گیا، اور مشق فتاویٰ کے لئے پچیس تیس سوالات لکھائے گئے، اس واقعہ کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جس شخص میں علم کی طلب ہوتی ہے، اس کی پیاس بجھائے نہیں بجھتی، اور وہ عمر کی قید سے آزاد ہوتی ہے، اگر ہر تعلیم یافتہ مسلمان اپنی اپنی لائن میں اس پیاس کو پیدا کر لے تو یہ قوم علم کے جواہر پاروں سے مالا مال ہو جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close