مضامین

جامعہ ،شاہین باغ اورملک کے دیگر مقامات پر بہنوں اور ماؤں نے جنگ یرموک کا کردار دوہرایا ہے

جہازی میڈیا جامعہ ،شاہین باغ اورملک کے دیگر مقامات پر احتجاج کر رہی خواتین کے عزم و حوصلہ کو سلام کرتا ہے

محمد یاسین جہازی 9891737350
اردن میں یرموک نام کا ایک دریا ہے جہاں پر 15تا 21 (اگست 636ء) میں مسلمانوں اور رومی فوجوں کے درمیان شدید جنگ ہوئی، جس کو تاریخ میں جنگ یرموک کہاجاتا ہے۔ جنگ کے دوسرے دن جب مسلمان فجر کی نماز پڑھ رہے تھے، تو اسی وقت جرنیل دیرجان (یا قناطیر) Nicolle کی سربراہی میں اس کی فوج نے مسلم میمنہ پر اچانک حملہ کر دیا۔اس اچانک حملہ سے مسلم مجاہدین قلب کی طرف پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔اور عورتوں کے خیمے تک پہنچ گئے۔ عورتوں نے جب یہ دیکھا کہ مرد پیچھے ہٹ رہے ہیں اور وہ حوصلہ ہار رہے ہیں ، تو حضرت ہندہ زوجہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہما نے اپنے شوہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ زمانہ کفر میں تو بہت بہادر بنا پھرتے تھے، اب کیا بزدل ہوگئے ہو۔ تمھیں معلوم ہے کہ جب یہ رومی ہمیں اپنے قبضے میں لے لیں گے ، تو وہ تمھاری غیرت کے ساتھ کیا کریں گے ؟ تمھاری غیرتوں کا جنازہ نکال دیں گے۔ ایک صحابیہ سودہ بنت عاصمؓ ایک ٹیلے پر چڑھ گئیں اورعورتوں سے پرجوش خطاب کرتے ہوئے کہنے لگیں:’’اری! تم کب تک خیموں میں بیٹھی رہو گی، تمھارے خاوند اور تمھارے مرد تو پیچھے ہٹ کے آ رہے ہیں۔‘‘یہ بات سنتے ہی سب عورتیں خیموں سے باہر نکل آئیں، اس وقت لبنی بنت جریرؓ کہنے لگیں: ’’اے عرب کی عورتو! تم اپنے اپنے آدمیوں کے ساتھ کھڑی ہو جاؤ اور اپنے معصوم بیٹوں کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا لو اور اپنے خاوندوں سے کہو کہ ہمیں اور ہمارے معصوم بچوں کو عجمیوں کے حوالے کرکے تم کہاں جا رہے ہو؟‘‘چنانچہ مسلمان عورتوں نے عجیب بہادری کا مظاہرہ کیا اور اپنے معصوم بیٹے ہاتھوں میں اٹھائے اور اپنے خاوندوں کو دکھا کر کہنے لگیں کہ ہمیں اور ہمارے ان معصوم بچوں کو تم رومیوں کے حوالے کرکے کہاں جاؤ گے؟ جب مسلمانوں نے اپنے معصوم بیٹوں کو دیکھا تو واپس پلٹے اور انھوں نے رومیوں پر اس شدت سے حملہ کیا کہ رومیوں کی طاقت منتشر ہوگئی ، اور ڈھائی لاکھ کی کثرت کے باوجود سوکھے پتوں کی طرح بکھر گئے۔
13؍ دسمبر 2019 یعنی جس دن سے ’’تحفظ حریت ہند‘‘ کی جنگ شروع ہوئی ہے، اسی یوم اول سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبات اور 15؍ دسمبر2019 سے شاہین باغ کی ماؤں و بہنوں نے بالیقین وہی تاریخ دوہرائی ہے، جو جنگ یرموک میں خواتین عرب اسلامیہ نے تاریخ بنائی تھی۔ جنگ یرموک میں چالیس ہزار مجاہدین کے مقابلے میں ڈھائی لاکھ رومی تھے؛ لیکن خواتین عرب نے حوصلہ افزائی کے وہ جوہر دکھائے کہ چالیس ہزار مردوں نے ڈھائی لاکھ فوجیوں کے پرکھچے اڑادیے اور میدان جنگ کو اپنے نام کرلیا؛ بالکل بعینہ شاہین باغ اور جامعہ کی طالبات نے CAA کے خلاف ایسی جنگ کو مہمیز کیا ہےکہ آج پورے بھارت کے مرد تو مرد عورتیں اور بیٹیاں بھی میدان کارزار میں کود پڑی ہیں اور ان کا یہ عزم ہے کہ ہماری یہ لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی ، جب تک کہ ہم بھارتیوں کی جیت نہیں ہوجاتی اور سی اے اے کو ختم نہیں کردیا جاتا۔
جہازی میڈیا ان شیر دل خواتین کے عزم و حوصلہ اور قابل تقلید کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ان کی خدمت میں سلام پیش کرتا ہے اور بھارت کے ان مردوں سے گذارش کرتا ہے، جو مرد حضرات ابھی تک گھروں سے نہیں نکلے ہیں اور دوسروں کے بھروسے جنگ جیتنا چاہتے ہیں کہ گھروں سے نکلیے اور مرد ہونے کا ثبوت دیجیے۔ اگر ہم نے مزید تاخیر کی اور ہم اس لڑائی میں کوئی کردار ادا کرنے سے رہ گئے، تو کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت کا مورخ ہم مردوں کے بارے میں یہ جملہ لکھ کر مرد سماج کو ہمیشہ کے لیے ٹیگ لائن دے دے کہ ’’ جب عورتیں معصوم بچوں کو گود میں لے کر سینہ پر گولیاں کھانے کے لیے شدید ترین سرد راتوں میں سڑکوں پر تھیں، تو خود کو مرد کہنے والے کچھ افراد چوڑیاں پہن کر بند گھروں میں لحاف میں چھپے ہوئے تھے۔ یا دوسرے الفاظ میں اب اصطلاح بدل گئی ہے کہ ’’چوڑیاں مردوں کے لیے ہیں اور میدان کارزار عورتوں کی شان ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: