مضامین

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تحریک کا 36واں دن

سی اے اے قانون کی کاپیاں نذرآتش

جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی نے پریس کانفرنس میں دیں متعدداطلاعات ، قومی سطح پر ہفتہ واری متحدہ مظاہرے کا اعلان، ’سرو دھرم پرارتھنا ‘کا انعقادآج ، روہت ویمولا کو کیا گیا یاد
نئی دہلی :جامعہ ملیہ اسلامیہ پر چل رہے سی اے اے ،این پی آر اور این آرسی کے خلاف تحریک پچھلے 36 دنوں سے لگاتار جاری ہے، جس میں جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی کے ساتھ ساتھ مقامی لوگ بھی کثیرتعداد میں رہے ۔روز کی طرح جامعہ کی تحریک کو حمایت دینے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کےلئے مظاہرہ میں متعددافراد نے شرکت کی اور جامعہ مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ساتھ ہی ساتھ روہت ویمولا کی تیسری شہادت برسی کو مظاہرین اپنے طور پریادکیا۔روہت ویمولا کی پھانسی کوادراہ جاتی قتل قراردیا گیا ساتھ ہی روہت کے خودکشی نوٹ کو پڑھ کر اس جذبہ کو محسوس کرنے کی کوشش کی گئی جو اس خط کے ہر سطر میں بکھرا ہوا ہے ۔ اسی اثنا میں جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی کی جانب سے ایک پریس کانفرنس بلائی گئی،جس میں جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی کی جانب سے کئی اہم اطلاعات دی گئیں ۔جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی کی جانب سے قومی سطح پر ہفتہ واری متحدہ مظاہرے کا اعلان کیا گیا۔کال فار ریس اسٹینس’ نامی اس اعلان کا زورز بروز پروگرام کچھ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے ۔
16 جنوری : آئین کے تمہیدکی قرات
17 جنوری: سی اے اے قانون کی کاپیاں نذرآتش کرنا، روہت ویمولا کا یوم شہادت منانا۔
18 جنوری : سرو دھرم پرارتھنا کا انعقاد
19 جنوری: صدرجمہوریہ ہند کو پوسٹ کارڈ لکھیں جس میں ان سے اپیل ہو کہ سرکار سی اے اے کو واپس لے اور بل لاکر این پی آر کے نفاذ پر روک لگایا جائے ۔
20 جنوری:مقامی بازاروں میں جانا اور لوگوں کو این پی آر ،این آرسی اورسی اے اے کے خطرناک نتائج کے بارے میں بیداری پیدا کرنا،’جن گھوشنا مارچ‘ کا انعقادکرنا۔
21 جنوری: سی اے اے ، این پی آر اور این آرسی کے خلاف یک روزہ بھوک ہڑتال
22 جنوری: چیف الیکشن کمشنر کو کو پوسٹ کارڈ بھیجنا جس میں انتخابات کو دوبارہ کرانے کا مطالبہ کیا جائے ۔
جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی کی جانب سے 20 جنوری کویک روزہ کل ہندمارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔’جن گھوشنا مارچ‘ کے عنوان سے ہونے والے اس مارچ کی کال ابھی تک ملک کے 12 بڑے شہروں میں کیا جا چکا ہے، جن میں کولکاتہ، لکھنو ¿، ملا پورم اور احمدآباد قابل ذکر ہیں ۔ اس مارچ کا انعقاد جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی، ینگ انڈیا اور دیگر تنظیمیں مل کر کر رہی ہےں۔جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی نوجوانوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے شہر میں اس مارچ کو مقررہ تاریخ پر منعقد کریں۔اس مارچ کے آغاز کےلئے درج ذیل شہروں میں درج وقت اور مقام متعین کیا گیا ہے ۔
دہلی – منڈی ہاو ¿س (12 بجے دوپہر)
حیدرآباد – اندرا پارک ( 2 بجے دوپہر)
پنے – فلم و ٹیلی ویژن پرشکشن سنستھان (5 بجے)
الہ آباد – سبھاش چوراہا (11 بجے صبح)
جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی کی جانب سے اپنا مخصوص وہاٹس ایپ نمبر+91-9205448022 جاری کر دیا گیا ہے،جس پر دیش بھر میں این آرسی ،سی اے اے اوراین پی آر کی مخالفت میں ہونے والے مظاہروں کی تصویریں،ویڈیوز زاشتراکک کی جا سکتی ہیں۔جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی کی اور سے جامعہ ملیہ اسلامیہ پر چل رہے آندولن کو پچھلے دو دنوں سے غیر معینہ مدت کےلئے 24X7کر دیا گیا ہے۔ یہتحریک اب چوبیس گھنٹے بلا انقطاع جاری رہے گی۔
آج ہمارے درمیان اپنی بات رکھنے اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے پہنچے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر کرشناسوامی نے طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آئین کے محافظ ہیں ، اسی لئے ہم سڑکوں پر اتر کرآئین کو بچانے کی فکر میں جٹے ہیں۔ سرکار کو اسی سے پریشانی ہے۔ روہت ویمولا کے یوم شہادت پر انہوں نے کہا کہ ہمیں غریب، دلت طبقہ کوحمایت دینا ہے اور انہیں آگے بڑھنے کےلئے حوصلہبھی دینا ہے تاکہ روہت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔
دلی یونیورسٹی کی طلبہ لیڈر دامنی کین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک ایک طرح کی لڑائی ہے جو منواسمرتی اور آئین کے درمیان ہے۔ سرکار منواسمرتی کاتحفظ کرکے ہم پر برہمن واد تھوپنا چاہتی ہے، لیکن ہم آئین کی تحفظ میں جٹے رہیںگے۔ انہوں نے آگے کہا کہ منواسمرتی پسماندہ طبقات وقبائلی لوگوںکے ساتھ بھید بھاو ¿ کرتی ہے، صرف آئین ہی ہے جو انہیں انکے حقوق فراہم کرسکتا ہے۔ سرکار پسماندہ طبقات اورقبائلی لوگوں کے حقوق چھیننا چاہتی ہے۔
ریوولیوشنری ورکرس پارٹی آف انڈیا کی ترجمان شوانی نے کہا کہ بی جے پی کی سرکار دیش کےلئے خطرا ہے۔ یہ سرکار غریبوں کو نشانے پر لے رہی ہے۔ یہ ہمارافرض بنتا ہے کہ ہم غریبوں کو CAA و NRC کے بھیانک نتائج کے بارے میں آگاہ کریں۔ انہوں نے آگے کہا کہ سرکار کے خلاف جو آواز اٹھا ئے گا، سرکار اسے بھی نشانے پر لے گی ۔
ان کے علاوہ بھی بہت سے مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close