مضامین

جان من، جان جگر، جان تمنا تم ہو

مولانا عبد الحمید نعمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نئی دہلی

جان من، جان جگر، جان تمنا تم ہو، تمہارے وعدے پہ کتنے مارے گئے، ویسے بھی وعدوں کا کیا، تمہارے آنے کی خبر سے خبر لی جارہی ہے، کرفیو لگانا پڑتا ہے، پھر بھی چرچا ہے کہ وہ آ رہے ہیں، آنے والے ہیں، وہ آ گئے ہیں، ہم جیسوں پر تمہارے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، دیکھ رہے ہیں کہ زیادہ کچھ بدلتا نہیں ہے، ایسا تو ہے نہیں کہ تمہارے آنے سے بہار آ جائے گی اور جانے سے بہار چلی جائے گی، ہمارے دیار میں تو کہاوت ہے کہ دل چنگا تو کٹھوتی میں گنگا، بہار ہو یا اس سے باہر، آنند کا سنسار نرالا ہوتا ہے، وہاں میلا آنچل، آگ کا دریا، خدا کی بستی، ٹیڑھی لکیر، مکان، دھمک، فائر ایریا، شام اودھ، صبح بنارس، سب یکساں لگتے ہیں، اس میں اداس نسلیں، کہاں ہوتی ہیں، لیکن تم میں ایسے ایسے ہرہمچاری ہوتے ہیں عمر گزر جانے کے باوجود بال برہمچاری ہی بنے رہتے ہیں، غیر شادی شدہ ہونے پر بھی ان کو کنورا کہنا مشکل ہے، تم سب جانتے ہوئے بھی ہر بار خاموشی سے بغیر کچھ بتائے آتے اور چلے جاتے ہو، یہ تمہاری خوبی بھی ہے اور خامی بھی، اب یہی دیکھو کہ 12بجاتے ہوئے آ گئے، کرفیو کے باوجود، پتا نہیں لوگ پٹاخے کیوں چھوڑتے ہیں؟ آنے کی خوشی میں یا آنے سے روکنے کے لیے، بہت سے تو ایسا انتظار کرتے ہیں کہ لگتا ہے کہ تم روزگار ہو یا بے روزگاروں کے لیے سروس، اگر تمہیں پرائیویٹ سیکٹر کی تحویل میں دے دیا جائے تو کیا ایسے ہی اپنے من سے آجاؤ گے، اسے آخر من کی بات کرنے والے بھی کیوں نہیں سمجھتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ من مندر کا دیوتا اس سے دور چلا گیا ہو، اپنے من سے نہیں آ پاؤ گے تو کوئی وقت کا اسیر کہہ پائے گا کیا؟ شاعر لوگ بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ رقص کرنا ہے تو پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ، کیا زنجیر کو زیور سمجھ لیا جائے، یہ وقت کا چکر ہے کیا؟ پہلے بھی نہیں بتایا اور اب بھی ادھر دیکھنے لگے، اگر خود کے متعلق نہیں بتا پاتے ہو تو غیروں کی خبر دینے کی کتنی توقع کی جائے، دنیا کس طرح گول ہے، تمہاری طرح یا گیند، سنترے کی طرح؟ جیسے بھی ہو، لیکن اس سے پیسوں کے بولنے کا کیا تعلق ہے،؟ کچھ تو پتا چلے، کورونا کی مصیبت کو موقع مت سمجھو، کچھ کر دکھاؤ، ورنہ تمہارے آنے کے انتظار اور آمد کا فائدہ کیا ہے،؟ آنے کا مطلب تبھی ہے، جب آنے سے پہلے اور جانے کے بعد یادگار گھڑی بن جائے، آنے سے مل جائے اور جانے سے کھوجائے، کورونا کال میں کچھ کر جاؤ تبھی آنے میں آنند ہے، ورنہ لعنت و آفت کے لیے دل پاگل نہیں ہوتا ہے، اتنا بے حس نہیں ہے، یہ دل، چچا غالب کی اطلاع ہے کہ دل نادان ہے، دلگی بھی کرتا ہے، لیکن بے حس و بے غیرت نہیں ہے، سال بھر رہو یا کم، زیادہ، دلبر بن کر رہو، دلال بن کر نہیں، بنیا وادی اور دلالی کے دور میں ویسے بھی درد کم نہیں ہے، دوستی سے درد، دوا بن جاتا ہے امید ہے کہ سال بھر، درد آشنا، دوست اور دلبر بن کر رہو گے،

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: