زبان و ادب

جرأت گفتار“ ۔ (17 اگست 2023)

۔ ”جرأت گفتار“ ۔ (17 اگست 2023)۔ نگاہ شوق بھی دیکھےتواب کدھر دیکھے۔ ہرایک سمت مکاں جلتے۔ اورشہر دیکھے۔ ملے ہے جوبھی وہی تلخ وتند لہجے میں۔ بھٹکتی روح محبت کی در بدر دیکھے۔ نہ وہ چمن ہے۔سبستاں ہےاورنہ قدریں ہیں۔ اداس غنچہ وگل۔ شاخ وبحر وبر دیکھے۔ فنا کی زد پہ ہے۔میراث وآبروٸیے چمن۔ شکشتہ ممنبرومحراب۔ جوجدھر دیکھے۔ نہ۔یہ ہواہےکبھی اورنہ ہوسکے گاکبھی۔ بغیر جرأت گفتار کے ۔ اثر ۔دیکھے۔ تمام عمر گزاری اسی توقع میں۔ گٸی ہے شام اداسی میں اب سحر دیکھے۔ نہ بادہ خوار پرانے ہیں اورنہ ساقی ہے۔ کوٸی تو لاٸے علی۔تازہ دم عمر دیکھے۔ بدل رہاہے زمانہ۔ بدل رہی ہے زمیں ۔ بدلتی چھاوں کے پتے شجر حجردیکھے۔ یہی ہے التجانادرچمن کے نگراں سے ۔ وہ آکےدیکھے ہنرمیرا۔بال وپر دیکھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close