اہم خبریں

جرم بطور سزا

حیدرآباد پولیس کا ملزمین کو مار ڈالنا جن کی تائید میں سیاسی جماعتوں کا کھڑا ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم قتل وغارت گیری کی جانب جارہے ہیں جو سب کو بے چین و بے کل کرنے والی بات ہے
اداریہ انڈین ایکسپریس (7/دسمبر 2019ء)
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا)
Cell:9890245367

جب پارلیمنٹ سے کسی احکامات کو سرسری طور پر تعمیل کرنے کی بات کی جاتی ہے تو وہ جمہوریت کو اپنے غیر قانونی کنارے تک پہنچانے والی ہوجاتی ہے۔ یہیں ہندوستان کھڑا ہوا ہے۔ جیسا کہ تلنگانہ کی پولیس نے چار ملزمین کو مار گرایا، جو حیدرآباد کی خاتون کے ریپ کے الزام میں ملوث تھے۔ لیکن کس طرح ان کے مار ڈالنے کی بے حیائی والی فوٹو گرافی کی گئی ہے کہ وہ چار لوگ پولیس کسٹڈی میں غیر مسلح تھے۔ جنہیں جائے واردات پر لے جایا گیا تھا جہاں اُس ویٹرنری ڈاکٹر کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی اور مار ڈالا گیا تھا۔ اس موقع پر کہا جاتا ہے کہ اُن چاروں نے پولیس والوں سے ہتھیار چھین لیے۔ اس واقعہ سے ہمیں اُس قرونِ وسطیٰ کے خیالات کا انعکاس ہوتا ہے کہ کس طرح عوام کو انصاف رسانی کے سلسلہ میں بار بار ہمیں لوک سبھا، راجیہ سبھامیں سننے کو ملتا تھا۔ ایک لیجسلیٹر نے اس واقعہ کو دوسرے معاملات کی طرح اسے بھی لنچنگ آف ریپسٹ (Lynching of Rapist)کہا ہے۔ جبکہ یہ کام قانون بنانے والوں جنہوں نے دستوری قسم کھائی ہے اُن کے اختیارات سے دستبردار ہوکر کام کیا گیا ہے۔
اکثر سیاستداں پولیس کی تعریف میں نکل پڑے ہیں۔ بی جے پی کے رکن پارلیمان اور سابق وزیر راجیہ وردھن راٹھوڑ نے کہاکہ ”برائی پر اچھائی کی فتح ہوئی ہے۔“ بی جے پی قائد شائنا این سی نے اس عمل کو (فطری انصاف) کہا ہے۔ بی ایس پی کی چیف مایاوتی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی پولیس سے دوسری ریاستوں کی پولیس کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔ سماج وادی پارٹی کی ممبر پارلیمنٹ جیہ بچن نے کہا کہ یہ لنچنگ کا عمل اس سے بہتر کبھی نہیں ہوا۔ کانگریس کے لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی قانون داں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ لوگوں کے جذبات و احساسات کا احترام کریں۔ مدھیہ پردیش کے سابق چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہاکہ حیدرآباد کے شیطانوں کو اُن کے کیے کی سزا ملی ہے۔ شریر اور بدتمیزوں کو اس طریقہ سے برتاؤ دینا چاہیے۔ حیدرآباد کے لوگوں کا خوشی کا اظہار کرنا اور پولیس والوں پر گلاب کی پتیوں کو اُچھالنا یہ سیاسی تنگ نظری کی منطق ہے۔ یہ اس طرح کے بیانات دیئے جارہے ہیں۔ لیکن اس کی وجہ سے ہندوستان کی سیاسی جماعتوں کے معیار میں کمی دکھائی دے رہی ہے کہ کس طرح وہ بھی اس زہریلے غصہ کے اظہارمیں پہل کررہے ہیں۔ جبکہ اس سے قبل کبھی بھی تفریق شدہ سوسائٹی کے بارے میں ایسا دیکھنے نہیں ملا ہے۔ یہ تمام لوگ ان کے ساتھ خوشی نہیں منارہے ہیں بلکہ یہ ہجوم کے خون کی پیاسی نظریات کی ترجمانی کررہے ہیں۔
اب عوام کے نام پر اس موقع پر یہ کہا جارہاہے کہ موجودہ جو نظام جس میں سول سوسائٹی نے جرم کو طئے کرنے اور سزا دینے کا معاملہ ہے وہ اس وقت ختم ہوچکا ہے۔ اس کے کس طرح اقتدار توازن کی غدگنی جو طاقت و قوت کے خاتمہ کے لیے کھڑی رہتی ہے۔ ہجومی تشدد کے کئی واقعات جو پچھلے چند سالوں میں ہوئے ہیں وہ ہمیں اس بات کا انتباہ دیتے ہیں کہ ہم اس دُشمن کی تلاش کریں جو لوگوں کو تشدد کی طرف بھڑکاتا ہے۔ خواہ وہ بچوں کو اُٹھانے والے الزامات کے تحت ہو، یا گائے کی اسمگلنگ کے تحت ہو، حالانکہ ایک متجسس سوسائٹی میں آج کل عوامی غم و غصہ کے مطابق گیم پلان تیار کیا جارہاہے۔ تاکہ دیگر لوگوں کو پھنسایاجاسکے۔ جن میں غریب اوردرمیانی کلاس شامل ہے۔ یہی سیاسی جماعتیں جو اس تشدد کی کارروائیوں کو دیکھتی تو ہیں لیکن خاموش تماشائی بنی ہوتی ہیں۔ کیونکہ طاقتور لوگ ہی اس میں ملزم ہیں۔ حیدرآباد میں اس وقت جو سوال اٹھایا جارہا ہے وہ انصاف پر مبنی نہیں ہے۔ کیونکہ اگر وہ چار لوگ معصوم ہو تب؟ لیکن پھر بھی اگر وہ معصوم نہیں تھے تب بھی؟ اُن کے الزام کو عدالتی نظام کے ذریعہ نہ صرف ثابت کرنا تھا بلکہ سزا بھی دلائی جانی تھی۔ لیکن بے صبروں کو یہ طویل قانونی طریقہ کار پر بھروسہ نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے پولیس کی غیر قانونی کام کو منصفانہ قرار دیا ہے۔ عدلیہ کو چاہیے کہ اب فوری طور پر اپنی ثابت قدمی پر کھڑے ہوکر یہ غیر جمہوریہ پیچ دار والے معاملات کا خاتمہ کرے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close