مضامین

جس کی زندگی جہد مسلسل

مفتی محمد عفان صاحب منصور پوری

ایک مرد قلندر جس کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت رہی ، تعلیمی ملی ، سیاسی اور سماجی میدانوں میں زریں خدمات کے انمٹ نقوش چھوڑکر شب جمعۃ المبارک (۲۸ /ربیع الاول ۱٤٤٠ھ مطابق ۷ دسمبر ۲۰۱۸ )راھی ملک بقاء ہوگیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ، تغمده الله بواسع رحمته ويسكنه فسيح جنانه .
مولانا اسرار الحق قاسمی رحمہ اللہ نے غیر معمولی جد و جہد ، انتھک کوشش و لگن اور مقصد حق کی خاطر رات دن ایک کرکے بلندیوں اور کامیابیوں کے بام کو چھویا دو دو مرتبہ عوامی نمائندگی کرتے ہوئے پارلیمنٹ تک پہونچے لیکن عام نمائندگان سے بالکل مختلف مولانا اس ایوان میں بھی جہاں اچھے لوگ تلاش کرنے کے بعد بھی بہت کم مل پاتے ہیں نہ صرف یہ کہ اپنی شرافت و وضعداری کے اعتبار سے نمایاں و ممتاز رھے بلکہ اپنے قابل فخر اکابر کی روایات کو مضبوطی سے تھامے ہوئے عالمانہ شان کے ساتھ حق و صداقت کا آئینہ بھی دکھاتے رہے ۔
سب سے بڑی خوبی کی بات یہ کہ بلندیوں کے یہ مقام مولانا کے طرز و انداز اور معیار زندگی میں تبدیلی نہ لاسکے ، پارلیمنٹ ہاؤس میں بھی شانہ پر رومال ڈالے ہوئے وہ اسی سادہ لباسی کے ساتھ موجود دکھائی دیتے جس کو پہن کر وہ اپنے علاقے کے غریب عوام کے درمیان جاتے تھے ( جب کہ عموما پارلیمنٹیرین اس ہاؤس کے لئے بیش قیمت جوڑے تیار کراتے ہیں ) یقینا آج ہمارا ملک ایک مثالی پارلیمنٹیرین سے بھی محروم ہوگیا ۔
آپ اخیر تک عام لوگوں کے درمیان رھے اور انہی جیسی زندگی بسر کرنا اپنے لئے بھی پسند کرتے رہے ، آل انڈیا دینی تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام پسماندہ علاقوں میں مکاتب مدارس اور عصری تعلیم گاہوں کے قیام کے ذریعہ قوم کو زیور علم سے آراستہ کرنے کی کوشش کرتے رھے ، کشن گنج میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی شاخ کا قیام آپ ہی کی غیر معمولی دلچسپی اور تحریک کا نتیجہ ہے۔
دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علماء ھند آپ کے علمی فکری اور نظریاتی مراکز تھےاول الذکر تو آپ کا مادر علمی تھا اور اسی کی پاکیزہ فضاؤں میں پروان چڑھ کر آپ نے علمی کمالات اور اسلاف کی روش کو سینہ سے لگایا تھا اور ثانی الذکر یعنی جمعیت علماء ھند کا متحرک پلیٹ فارم آپ کی ہمہ جہت جہد عمل کا وہ اولین مرکزی میدان تھا جس سے وابستہ ہوکر آپ نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کیا ، ملک وملت کے مخلص و باشعور قائدین کے ساتھ ملکر حالات کا مقابلہ کیا ، قوم و وطن اور انسانیت کی خدمت کے طریقہ کار کو جانا ، تادم آفریں اسی پر کاربند رہے اور ملک وملت کے تئیں وہ طویل اور قابل قدر خدمات انجام دیں جن کو فراموش نہیں کیاجاسکتا ۔
فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی نور اللہ مرقدہ کا حد درجہ اعتماد آپ کو حاصل تھا ، طویل زمانہ تک سرد و گرم حالات میں قوم وطن کی خاطر دونوں کو پگھلتے سلگتے راتوں کی نیند اور دن کے چین کو قربان کرتے دیکھا گیا ، مولانا مرحوم اخیر تک حضرت فدائے ملت نور اللہ مرقدہ کی جرأت و بے باکی اور ہنگامی حالات میں انسانیت کی حفاظت کے لئے بے خطر میدان عمل میں کود پڑنے کو تفصیل سے ذکر کرتے واقعات کا تو ان کے پاس ایسا سلسلہ تھا جو ختم ہونے کا نام نہ لیتا تھا ، اعتراف کرتے تھے کہ حضرت فدائے ملت کے ساتھ رہ کر ہمیں دنیا کو سمجھنے کا اور کام کرنے کا طریقہ معلوم ہوا ۔
دینی ملی سیاسی ہر طرح کے عناوین پر بکثرت آپ کے سنجیدہ مضامین بھی اخبارات و رسائل کی زینت بنتے اور ان کو توجہ کے ساتھ پڑھا بھی جاتا۔
تقریر بھی آپ کی معلومات افزا ہوتی تھی ، اسلوب خطیبانہ تھا اور آواز میں بھی کڑک تھی ، ہر طرح کے جلسوں میں بلائے جاتے اور تقاضائے حال کے مطابق بہترین گفتگو فرماتے ۔
زندگی کے بیاسی سال تک انتھک محنت کرنے والا مرد مومن محنت کرتے کرتے آرام کی ابدی نیند سوگیا اور اپنے ساتھ نیکیوں کا ایسا دفتر لے گیا جس کی جزاء رب ذوالجلال انشاءاللہ اپنی شان عالی کے مطابق مرحمت فرمائیں گے ۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: