اہم خبریں

جمعہ جماعت اور دیگر اجتماعی عبادات سے متعلق علماء کرام و مفتیان عظام کا متفقہ فیصلہ

گڈا جھارکھنڈ / مفتی محمد سفیان القاسمی

تیزی سے پھیل رہے کرونا وائرس اور حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد اجتماعی طور پر ادا کی جانے والی عبادات کی شکل کیا ہوگی اس پر ملک کے مؤقر علماء کرام اور بہت سے معتبر دار الافتاء سے ہدایات جاری کی چکی ہیں، اسی ضمن میں جھارکھنڈ کے گڈا ضلع میں لجنۃ العلماء و المفتیین کی ایک میٹنگ کال کانفرنسنگ کے ذریعے ہوئی جس میں موجودہ حالات میں اجتماعی طور پر ادا کی جانے والی عبادات کے بارے میں غور و خوض ہوا، اور اس میں متفقہ طور پر عوام کے لئے کچھ ہدایات جاری کرنے پر اتفاق ہوا جس کی تائید علاقے کے مؤقر علماء کرام نے بھی کی، اس کا کچھ خلاصہ درج ذیل ہے.

کرونا وائرس سے بچنے کے لئے ماہرین جو تدابیر بتا رہے ہیں ان پر عمل کیا جائے اور بھیڑ کی کوئی بھی شکل ہو اس سے اجتناب کیا جائے چنانچہ مسجدوں میں اذان تو دی جایے مگر جماعت میں اور بطور خاص جمعہ میں کم سے کم تعداد میں لوگ شریک ہوں یعنی صرف اتنی تعداد ہو جس سے جماعت ہو جائے اور قانونی اعتبار سے جرم بھی نہ ہو باقی لوگ گھروں پر نماز ادا کریں حتی کہ جمعہ کے دن ظہر کی نماز تنہا گھر پر ادا کریں، اسی طرح ذکر و اذکار، اور دعا و استغفار کے لیے اجتماعی شکل نہ اپنائی جائے. مصافحہ و معانقہ کے تعلق سے طے پایا کہ اس سے بھی گریز کیا جائے، نماز جنازہ میں کوشش ہو کہ بیس سے زیادہ افراد نہ ہوں. میٹنگ میں اس پر زیادہ زور دیا گیا کہ یہ احتیاط ہمارے لیے صرف قانونی طور پر ہی لازمی نہیں بلکہ شرعی طور پر بھی ضروری ہے، کیوں کہ انسانی جان کا تحفظ شرعاً سب سے مقدم ہے اور کرونا وائرس صرف موہوم خطرہ نہیں بلکہ یہ حقیقی خطرہ ہے اور اس سے متاثر لوگوں کی تعداد دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے لہذا احتیاط کرنا شرعی نقطہ نظر سے بھی ضروری ہے
بعض لوگ اس وبا سے بچنے کے لئے اجتماعی اذان کی تلقین کر رہے ہیں، جبکہ اجتماعی اذان قرآن و حدیث اور صحابہ کے عمل سے ثابت نہیں لہذا میٹنگ میں کہا گیا کہ ایسی بدعت سے پرہیز کیا جایے، ہاں اگر کوئی انفرادی طور پر اذان کہے تو اس کی گنجائش ہے.
میٹنگ میں مفتی اقبال قاسمی، مفتی زاہد امان قاسمی ،مفتی عباد الرحمن قاسمی ،مفتی نور الدین قاسمی ،مفتی محمد سفیان قاسمی، مفتی نظام الدین قاسمی مفتی عبد السلام قاسمی ،مفتی غلام سرور قاسمی، مفتی روشن ضمیر قاسمی، اور مفتی صدیق قاسمی شریک تھے جبکہ مؤیدین میں کئی مؤقر علماء کرام و مفتیان عظام ہیں جن میں قاضی شفیق قاسمی، مفتی عبد الرحمن مظاہری، مفتی مجیب الرحمن قاسمی، مولانا سلیم الدین مظاہری ،مولانا ریاض قاسمی ،مولانا شمس پرویز مظاہری ،مولانا ثمیر الدین قاسمی، مولانا عبد الستار رحمانی مولانا عرفان قاسمی ،مفتی عبد العزیز قاسمی وغیرہ وغیرہ شامل ہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: