اہم خبریں

جمعیت ایک ہوسکتی ہے :قوم و ملت کے لیے خوشی کی خبر

*دورزہ قومی اجلاس مجلس عاملہ میں موجودہ فرقہ وارانہ صورت حا ل پر اہم تجویز منظور ، پسماندہ طبقات کے مسائل کے لیے جد وجہد کرنے کافیصلہ*

نئی دہلی ۲۲؍ جولائی۲۰۲۲ء
جمعیۃ علماء ہند کا دوروزہ قومی اجلاس مولانا محمود اسعد مدنی، صدر جمعیۃ علماء ہند کے زیر صدارت بمقام مفتی کفایت اللہ ہال ، آئی ٹی او ، نئی دہلی منعقدہوا ، جس میں جمعیۃ علماء ہند میں جاری مصالحتی عمل کے علاوہ،فرقہ وارانہ صورت حال،ہیٹ کرائم کے انسداد،آئین کے تحفظ اور ملک و ملت کو درپیش متعدد اہم مسائل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔
سابقہ کارروائی کی خواندگی جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے کی ، اس موقع پر اپنے صدارتی کلمات میں صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا محمود مدنی نے ملک کے موجودہ حالات پر فکر مندی کا اظہار کیا اور کہا کہ حالات کو بہتر کرنے کے لیے ہر طرح کی کوشش کی ضرورت ہے ، جمعیۃ علماء ہند اس سلسلے میں آئینی ، سماجی جد وجہد کے علاوہ بین المذاہب ہم آہنگی پروگرام کا انعقاد کررہی ہے ، نیز انسداد ہیٹ کرائم کے لیے باضابطہ ایک شعبہ قائم کیا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ انتہائی اہم ہے کہ ملک کے ارباب اقتدار کس طرح کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ،اس کو درست کیے بغیر حالات کی بہتری بہت مشکل ہے ۔مولانا مدنی نے اس موقع پر پسماندہ طبقات کے مسائل حل کرنے کی کوششوں کو وقت کی بڑی ضرورت قرار دیا ۔
*آج کے اجلاس میں خاص طور سے جمعیۃ میں جاری مصالحتی عمل سے متعلق طویل مباحثے کے بعد متفقہ طور سے درج ذیل تجویز منظور ہوئی’’جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ حالیہ مصالحتی عمل کو بنظر استحسان دیکھتی ہے اور اس کو جاری رکھنے پر اتفاق کرتی ہے اور اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی دامت برکاتہم کو دستور کے مطابق کسی مناسب حل کے لیے گفتگو کا اختیار دیتی ہے،نیز یہ ضروری سمجھتی ہے کہ جانبین اس سلسلے میں محض زبانی گفتگو پر اکتفا نہ کریں بلکہ جملہ تجاویزاور موقف تحریر ی شکل میں پیش کریں ۔*
*’’علاوہ ازیں مصالحتی کوششوں کو تقویت دینے اور تکمیل تک پہنچانے کے لیے جملہ اراکین عاملہ ،مدعوئین خصوصی ، صوبائی صدور اورنظمائے اعلی کی طرف سے اپنے اپنے عہدوں اور رکنیت سے ،صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی دامت برکاتہم کی خدمت میں استعفیٰ پیش کرنے کی تجویز بھی منظور کی گئی ۔‘‘*
فرقہ وارانہ حالات پر مجلس عاملہ نے منظور کردہ تجویز میں کہا کہ’’ منافرت انگیزی، مذہبی عناد اور مذہبی ییشوائوں کی توہین کو جس طرح سیاسی لیڈروں ، مذہبی رہ نمائوں اور میڈیا کے ذریعہ فروغ دیا جارہا ہے ، وہ ملک کے لیے بہت ہی زیادہ نقصان دہ اور قومی و بین الاقوامی سطح پر شدید بدنامی کا باعث ہے۔بالخصوص برسر اقتدار جماعت اور اس سے وابستہ سیاسی رہ نمائوں ، یہاں تک کہ ممبران پارلیامنٹ، ممبر ان اسمبلی کے تحقیر آمیز بیانات پر فو ری طور پر روک لگایا جانا ضروری ہے ، کیوں کہ وہ سماج کے بہت بڑے حصے کو متاثر کرتے ہیں ۔‘‘
’’ان حالات کے تدارک کے لیے سپریم کورٹ نے تحسین پونہ والا کیس (۲۰۱۸ء ) میں گائیڈ لائن بھی جاری کی تھی ، لیکن صدافسوس سرکاروں نے اس پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی ،بالآخر ۲۱؍جولائی ۲۰۲۲ء کو صدر محترم جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سرکاروں سے اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب کی ہے ۔یہ اجلاس ملک کے حالات کے مدنظر صدر جمعیۃ علماء ہند کے اس آئینی اقدام کو بروقت اور ضروری تصور کرتا ہے اور امید ظاہر کرتا ہے کہ سپریم کورٹ فرقہ پرستی پر نکیل کسنے کے لیے موثر ہدایت جاری کرے گی ۔‘‘
’’اس کے مدنظر یہ اجلاس حکومت ہند سے بالخصوص مطالبہ کرتا ہے کہ انسداد فرقہ وارانہ فسادات اور تحقیر آمیز رویوں کے سلسلے کو بلاتاخیر بند کیا جائے اور تشدد کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں موثر قانون بنا کر اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ نیز اکثریت و اقلیت کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کی جائے۔اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند اپنی تمام یونٹوں کو متوجہ کرتی ہے کہ وہ اجلاس مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند ( منعقدہ ۲۸، ۲۹، مئی ۲۰۲۲ء ) کی تجویز کی روشنی میں سدبھائو نا سنسد کا انعقاد کریں جس میں سبھی مذاہب کے بااثر افراد کو جمع کریں اور جمعیۃ سدبھائو منچ کے تحت سدبھائونا کمیٹی قائم کریں ۔ ‘‘
ایک بنیادی فیصلے میں مجلس عاملہ نے تمام صوبائی ذمہ داران و ضلعی ذمہ داران کو پابند کیا ہے کہ وہ ضلعی سطح پر کارکنان کے لیے تربیتی پروگرام کا انعقاد کریں جس میں قیام مکاتب ، جمعیۃ کے دیگر تعمیر ی پروگرام جیسے تفسیر قرآن، بیان سیرت، اصلاح معاشرہ وغیرہ کا انعقاد عمل میں لایا جائے، ایجنڈا نمبر (۵) کے تحت جمعیۃ علماء ہند کے تحت چل رہے عدالتی کارروائیوں کے جائزے سے متعلق تفصیلی رپورٹ مولانا نیاز احمد فاروقی ( ایڈوکیٹ) نے پیش کی۔
ایک اہم فیصلے میں مجلس عاملہ نے یہ طے کیا کہ پسماندہ طبقات کی تنظیموں کے ذمہ داران سے مشاورتی میٹنگ کی جائے اور ان کے مسائل کو سن کر حل کرانے کی کوشش کی جائے ۔
اجلاس میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی اور ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی کے علاوہ مفتی ا بوالقاسم نعمانی مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند، مولانا محمد سلمان بجنوری نائب صدر جمعیۃ علماء ہند ، مولانا مفتی احمد دیولہ نائب صدر جمعیۃ علماء ہند، مولانا قاری شوکت علی خازن جمعیۃ علما ء ہند ،نائب امیرا لہند مولانا مفتی محمد سلمان منصورپوری ، مولانا رحمت اللہ کشمیری ، مولانا بدرالدین اجمل، مولانا مفتی محمد راشد اعظمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند ، حاجی محمد ہارون مدھیہ پردیش ، حافظ شبیر احمد حیدرآباد، مولانا محمد عاقل گڑھی دولت ، مولانا مفتی محمد عفان منصورپوری ، مفتی محمد جاوید اقبال کشن گنجی ، مولانا نیاز احمد فاروقی، قاری محمد امین راجستھان، مولانا عبد الرب اعظمی، مولانا ندیم صدیقی مہاراشٹرا، مولانا ذاکر قاسمی ممبئی ، مفتی عبدالرحمن نوگاواں سادات ، ڈاکٹر مسعود اعظمی ، مولانا سراج الدین معینی اجمیری ندوی درگاہ اجمیر شریف ،مفتی افتخار قاسمی کرناٹک ، مفتی شمس الدین بجلی کرناٹک، مولانا محمد ناظم پٹنہ ، حاجی محمد حسن چینئی، مولانا منصور کاشفی تامل ناڈو، مولانا محمد ابراہیم کیرالہ ، مولانا عبدالقدو س پالن پوری ، مولانا کلیم اللہ خاں قاسمی ، پروفیسر نثار احمد انصاری احمد آباد، حافظ عبیداللہ بنارس ، مفتی عبدالرحمن ،مولانا یحیٰ کریمی میوات، مولانا غلام قادر کشمیر ، مولانا حبیب الرحمن الہ آباد ،حافظ بشیر احمد آسام، مولانا سعید احمد منی پور، قاری ایوب اعظمی ، مولانا محمد مدنی ، مولانا عبدالواحد کھتری، مولانا علی حسن مظاہری ، مولانا اسلام الدین قاسمی دہلی ، حافظ پیر خلیق صابر حیدرآباد ، مولانا اکرم تقی اڈیشہ،مولانا محمد ناظم پٹنہ ، سعود احمد سید ایڈوکیٹ شریک ہوئے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: