مضامین

جمعیت علما سہارنپور کے ڈکٹیٹران: جمعیت کا دائرہ حربیہ یا مجلس حربی قسط نمبر (30)

محمد یاسین جہازی 9891737350

مرکز کی طرز پر کچھ ریاستی جمعیتوں نے بھی اپنے یہاں سول نافرمانی کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے اپنے یہاں ڈکٹیٹری کا نظام قائم کیا تھا، چنانچہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق جمعیت علمائے سہارنپور اور جمعیت علمائے مرادآباد نے اس حوالے سے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں اور اسیران فرنگ کی مصیبتیں جھیلی ہیں۔ مولانا محمد خادم حسین صاحب پشاوری ڈکٹیٹر دوم جمعیت علمائے سہارنپور کو یوم آرڈی نینس منانے اور شراب کی دوکان کی پیکٹنگ کرنے کے جرم میں 7اکتوبر1932کو سہارنپور سے گرفتار کیا اور تین ماہ قید سخت اور پچیس روپے کا جرمانہ لگایا گیا اور بصورت عدم ادائیگی جرمانہ مزید ایک ماہ کی قید کی سزائی سنائی گئی۔ (الجمعیۃ 12 اکتوبر 1932)۔آپ کو 7فروری 1933کو رہائی ملی۔ (الجمعیۃ13فروری1933)
غازی اسماعیل صاحب سہارنپور ڈکٹیٹر سہارنپور جمعیت کے مکان پر10اکتوبر کو چھاپا مارا گیا اور کافی اسباب اٹھا کر لے گئے۔ (الجمعیۃ16اکتوبر1932)
”جناب مولانا خادم محمد صاحب اصلاحی ڈکٹیٹر دوم جمعیت علمائے سہارنپور نے اپنی گرفتاری کے وقت جناب مولانا قاری احمد اللہ صاحب کو اپنا قائم مقام نامزد فرمایا۔ (20اکتوبر1932)۔
21اکتوبر 1932کو سہارنپور جمعیت کے دفتر پر چھاپہ مار کر مولانا لطف الرحمان صاحب کو گرفتار کرلیا۔اسی دن پھر دوبارہ چھاپا مارا اور محمد اسماعیل صاحب کو گرفتار کرلیا۔ رات کو پھر تیسرا چھاپا مارا۔ لیکن کوئی گرفتار نہیں ہوا۔ (الجمعیۃ28اکتوبر1932)
جناب منظور احمد صاحب کو 14اکتوبر کو شراب کی پکٹنگ کی وجہ سے گرفتار کیا گیا اور تین ماہ قید بامشقت اور پچیس روپے جرمانہ لگایا گیا۔ (الجمعیۃ28اکتوبر1932)
حضرت مولانا سید محمد علی صاحب مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کے خلف اصغر جناب مولانا منت اللہ صاحب رحمانی نے جمعیت علمائے ہند کی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ کچھ دنوں سے سہارنپور آپ کی مساعی کا مرکز تھا۔ 23اکتوبر کو آپ کسی کام سے بازار تشریف لے گئے تھے کہ آپ کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ گرفتاری کس دفعہ کے تحت عمل میں آئی۔ حضرت مولانا محمد علی صاحب مونگیری صوبہ بہار کے علما و مشائخ میں نہایت بلند پایہ بزرگ تھے۔ اس لیے خیال ہے کہ جناب مولانا منت اللہ صاحب کی گرفتاری حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے بے شمار عقیدت مندوں اور لاکھوں مریدوں میں بیداری کا موجب ثابت ہوگی۔
سہارنپور۔ 28اکتوبر۔ کل تقریبا ۱۱/ بجے ڈسٹرکٹ جیل سہارنپور میں مولانا منت اللہ صاحب اور ان کے سات رفقا کا مقدمہ پیش ہوا۔ چند منٹ کی رسمی کارروائی کے بعد مسٹر جیال سٹی مجسٹریٹ نے مولانا منت اللہ، مولانا لطف الرحمان، مولانا تفضل حسین، مولانا عبد الغفار صاحب آزاد، مولانا محمد قاسم، نہال احمد، عبد العلی صاحبان کارکنان و رضاکاران جمعیت علمائے سہارنپور کو آر ڈی نینس جدید دفعہ 672کے ماتحت تین تین ماہ قید اور پچیس پچیس روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنا دیا گیا۔ سزا کا حکم سن کر کارکنوں اور رضاکاروں نے نعرے لگائے، جس پر سٹی مجسٹریٹ نے کہا کہ یہ جیل ہے۔ جیل کے ضوابط کے موافق آپ لوگوں کو سزا دی جائے گی، جس کے جواب میں کہا گیا کہ ہم ہر قسم کی سزا کے لیے تیار ہیں۔ (الجمعیۃیکم نومبر1932)
آپ کو 21جنوری 1933کو رہا کیا گیا۔ (الجمعیۃ28جنوری1933)
22اکتوبر 1932کو مسلمانان سہارنپور کا عظیم الشان اجلاس ہوا، جس کے بعد پولیس نے جمعیت علمائے سہارنپور کے کئی کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ (الجمعیۃیکم نومبر1932)
جناب محمد یاسین صاحب کو 24اکتوبر1932کو سہارنپور سے اخراج کردیا۔ (الجمعیۃیکم نومبر1932)
قاری احمد اللہ صاحب ڈکٹیٹر سوم جمعیت علمائے سہارنپور کو 8نومبر 1932میں آر ڈی نینس جدید کی دفعہ 67کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔موصوف نے ایک جلسہ میں تقریر کے بعد شراب کی دوکان کی پکٹنگ کی تھی۔ آپ کے ساتھ جناب اطہر صاحب کو بھی گرفتار کیا گیا۔ (الجمعیۃ 9و 16 نومبر1932)۔ ان دونوں حضرات کو تین تین ماہ قید بامشقت اور پچیس پچیس روپے جرمانہ کی سزا دی گئی۔ (الجمعیۃ13نومبر1932)
شیر دیوبند مولانا راشد حسن صاحب عثمانی برادر زادہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحبؒ کو جمعیت علما سہارنپور کا چوتھا ڈکٹیٹر بنایا گیا۔ (الجمعیۃ13نومبر1932)
11نومبر1932کو بعد نماز جمعہ چوتھے ڈکٹیٹر نے پرجوش تقریر کی اور پھر جلوس نکالا گیا۔ پولیس نے جمعیت کے رضاکاران کو گرفتار کرلیا۔ (الجمعیۃ 16نومبر1932)
11نومبر1932کو شراب کی پکٹنگ کرتے ہوئے مقبول احمد کو گرفتار کرکے تین ماہ قید بامشقت کی سزا دی گئی۔ (الجمعیۃ 20نومبر1932)
جناب عبد الرحمان صاحب کو شراب کی پکٹنگ کی وجہ سے 20نومبر1932کو گرفتار کیا گیا۔ (الجمعیۃ 24نومبر1932)
ڈکٹیٹر چہارم جمعیت علمائے سہارنپور مولانا راشد حسن عثمانی کو 7دسمبر1932کو گرفتار کرکے تین ماہ قید بامشقت اور پانچ سو روپے جرمانے کی سزا دی۔ (الجمعیۃ13دسمبر1932)
23جنوری 1933کو آپ کا تبادلہ سہارنپور جیل سے فیض آباد جیل کردیا گیا۔ (الجمعیۃ 28 جنوری 1933)
جمعیت علمائے سہارنپور کے پانچویں ڈکٹیٹر مولانا قاری اسحاق صاحب کوزیر دفعہ 9کریمنل لاء ایکٹ مجریہ 1932کے تحت مقدمہ چلاکر چہ ماہ قید سخت اور بی کلاس کی سزا دی گئی۔ آپ کے ساتھ عبد الرشید صاحب کو بھی سزا دی گئی۔ (الجمعیۃ20جنوری1933)۔ بعد ازاں 17فروری کو سہارنپور جیل سے فیض آباد جیل منتقل کردیا۔ (الجمعیۃ24فروری1933)
3فروری کو آر ڈی نینس ڈے منایا گیا، جس کے اجلاس سے جمعیت علمائے سہارنپور کے چھٹے ڈکٹیٹر مولانا حبیب اللہ صاحب نے خطاب کیا۔ بعد ازاں جلوس مرتب کیا گیا اور شراب کی دوکان کی پکٹنگ کی، جس کی وجہ سے ڈکٹیٹر ششم، مولوی رشید الدین اور محمد ہاشم صاحبان کو گرفتار کرلیا گیا۔ (الجمعیۃ9فروری1933)۔ 14فروری کو مقدمہ کی سماعت کے بعد تین ماہ قید اور پچیس روپے جرمانہ لگایا گیا۔ (24فروری1933)۔ یکم جون 1933کو چارماہ کی قید بامشقت کے بعد آپ کو رہا کیا گیا۔ (الجمعیۃ16جون1933)
مجلس احرار جمعیت علما میں مدغم
تحریک سول نافرمانی کے تحت جب جمعیت نے ڈکٹیٹرشپ کا نظام قائم کیا تو مجلس احرار نے خود کو جمعیت علمائے ہند میں مدغم کرلیا۔
”دہلی25مارچ۔ آج جامع مسجد دہلی میں مسلمانوں کا ایک جلسہ عام ہوا۔ جس میں مولوی شمس الحق صاحب قادری نے جنھیں ڈکٹیٹر مجلس احرار اسلام بنایا جانا ہے، ایک اعلان پڑھ کر سنایا، جس میں مذکور تھا کہ مجلس احرار اسلام دہلی کی تمام خدمات جمعیت علمائے ہند کے ماتحت اور اسی کے نام سے موسوم ہوں گی۔“ (الجمعیۃ28مارچ 1932)
چنانچہ مجلس احرار کے ہزاروں کارکنان نے گرفتاریاں پیش کیں۔
ڈکٹیٹرس مجلس احرار اسلام
جناب عبد الکافی صاحب ڈکٹیٹر مجلس احرار اسلام کلکتہ(الجمعیۃ5اپریل 1932)
جمعیت علمائے مرآباد نے بھی اپنے یہاں ڈکٹیٹری کا نظام قائم کیا تھا، لیکن اس سلسلے میں قابل ذکر حوالے مجھے نہیں مل سکے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: