اہم خبریں

جمعیت: ملی و قومی اتحاد کا مرکزی پلیٹ فارم ہے

جمعیت کا ممبربننا ملی وقومی اتحادکا دوسرا نام ہے

محمد یاسین جہازی

کفار مکہ کی چیرہ دستیوں سے گلو خلاصی کے لیے مدینہ کی طرف مسلمانوں کی ہجرت؛ درحقیقت اسلام کے لیے ایک نقطہ انقلاب ہے۔ صحابہ کرام ؓ کے بعد جب سالار قافلہ اسلامی فداہ امی و ابی سرور کونین محمد عربی ﷺ بھی مدینہ پہنچ گئے، تو گرچہ اہل مدینہ، مکہ والوں کی طرح، اسلام کے تعلق سے اتنی شدید نفرت نہیں رکھتے تھے، اس کے باوجود سرور کائنات ﷺ نے اسلام کے تحفظ اور مسلمانوں کے فاتحانہ دور کے آغاز کے لیے بڑی حکمت کے عملی مظاہر پیش کیے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کے والدجناب مالک کے مکان پر ایک میٹنگ رکھی گئی، جس میں مسلمانوں کے علاوہ مدینہ کے دس بڑے قبیلوں کے سرداروں نے شرکت کی اور یہودیوں کے تین بڑے قبیلوں کے سرداروں کو بھی مدعوین خصوصی کے طور پر شریک کیا گیا۔اور پھر مشترکہ طور پر کچھ تجاویز منظور کی گئیں، جو تاریخ میں میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہے۔
محققین اور تاریخ نگاروں کے مطابق اس میں پچاس کے قریب یا اس سے زائد دفعات ہیں؛ دفعات کے تناظر میں حالات کے پس منظر کا تجزیہ کیا جائے، تو آپ اسی سچائی پر پہنچیں گے کہ مدینہ میں اجتماعی نظام کا جو قدیم سلسلہ موجود تھا، آپ نے اس کو توڑنے کے بجائے، تقویت پہنچانے اور سرداروں کی لیڈر شپ میں قبیلہ وار اجتماعیت کے نظریے کو برقرار رکھا۔ اور یہی وہ حکمت عملی تھی، جس نے دنیا میں سب سے پہلے قومیت اور ملت کی بنیاد پر وطنیت کا تصور پیش کیا۔ سرور کائنات ﷺ کا یہ دانش مندانہ عمل بالیقین ان ممالک کے مسلم باشندگان کے لیے فلاح و نجات کا ضامن ہے، جہاں جمہوریت میں قائدانہ رول ادا کرنا چاہتے ہیں، یا مذاہب کی رنگا رنگی میں اپنے وجود کو امتیازی تشخص بخشنا مقصود ہے۔
موجودہ حالات کے تناظر میں بھارتی مسلمانوں کے لیے اپنے ماضی کے وقار اور لیڈر شپ کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے اس نبوی فارمولہ سے بہتر کوئی اور فارمولہ نہیں ہوسکتا کہ مذاہب کی کثرت کے باوجود اپنی اسلامی شان و شوکت کو برقرار رکھنے کے لیے ملی اتحاد کا عملی ثبوت بہم پہنچاتے ہوئے اہل وطن کے ساتھ مذہبی آزادی اور رواداری کے مظاہر دکھلائیں۔
یہاں تک پہنچنے کے بعد اب آپ کا اگلا سوال یہی ہوگا کہ آخر اس کی عملی شکل کیا ہوگی؟ ظاہر ہے کہ یہ سوال جتنا زیادہ آسان ہے، عملی اعتبار سے اس کا جواب اتنا ہی مشکل ہے؛ کیوں کہ بھارت کا مسلمان جس طرح عقیدے کے اعتبار سے مختلف النوع ہیں، اسی طرح اپنی مسلکی تاریخ میں اتنا ہی دست و گریباں؛ چنانچہ شیعہ سنی کی تاریخ میں، سنی شیعہ کی نظر میں، دیوبندی بریلوی کے عقیدے میں، بریلوی دیوبندی کی تحقیق میں، اہل حدیث دیگر فرقوں کے علمی تجزیے میں اور دیگر فرقے اہل حدیث کے نظریے میں اتنا ہی بڑا کافر یا گمراہ ہے، جتنا کہ ایک بت پرست حقیقی معنی میں مشرک و نجس ہے۔ ان تمام اختلافات کے باوجود میثاق مدینہ کی روشنی میں محض اسلام یا پھر وطنیت کی بنیاد پرملی یا قومی اتحاد کی نیو رکھ سکتے ہیں۔ اور ہر چند کہ ہر ایک مسلک کے پاس اپنی اپنی تنظیمیں اور پلیٹ فارم ہیں، اس کے باوجود سب کے لیے ”جمعیت علمائے ہند“ کے پلیٹ فارم سے بڑھ کر اور بہتر شاید کوئی اور مرکز اتحاد نہیں ہوسکتا؛ کیوں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس تنظیم کی نیو میں کسی ایک فرقہ و مسلک کی نہیں؛ بالعموم سبھی مسلکوں کی فکر شامل ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ دور میں زمینی سطح سے مربوط اور دائرہ کار کے اعتبار سے اتنی وسیع کوئی اور تنظیم نہیں ہے؛ لہذا اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے، اپنے اپنے مسلک و مشرب کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی چھوٹی بڑی تحریکوں و تنظیموں میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے، جمعیت کا مقامی/ شہری/ ضلعی/ ریاستی / مرکزی نمائندہ کے حیثیت سے اپنا وجود تسلیم کراسکتے ہیں۔
مدینہ میں چوں کہ قبائلی طور پر اتحاد کا سسٹم موجود تھا، لہذا اسے بروئے کار لایا گیا۔ بھارت میں مرکزی اتحاد کے لیے نہ تو قبائلی معاشرہ موجود ہے اور نہ ہی کوئی اور سسٹم موجود ہے، سوائے اس کے کہ ماضی کی طرح آج بھی جمعیت کو مرکز بناکر ملی و قومی اتحاد قائم کیا جائے۔
یکم ستمبر سے 31/ دسمبر 2019تک جمعیت کی ممبر سازی مہم جاری ہے۔اور یہی وہ سنہری موقع ہے، جہاں ہم خود بھی اور احباب و متعلقین کو بھی ممبر بناکر جمعیت کے جھنڈے تلے اتحاد و اتفاق کا حسین مرکز قائم کرسکتے ہیں۔ تو دیر کس کی بات کی ہے، آپ اپنے علاقے کے مقامی ذمہ داران جمعیت سے ملاقات کیجیے اور ان سے ممبر شپ حاصل کرکے جمعیت کے وسیع نیٹ ورک کا حصہ بن جائیے، تاکہ اتحاد کے قیام اور ملت مسلمہ کو تقویت پہنچانے میں آپ کے کردار کو سنہرے حروف میں لکھا جاسکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: