مضامین

جمعیت نے تقسیم ملک کی مخالفت کیوں‌کی؟

شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

ملک میں‌آئے دن ہورہے ماب لنچنگ،دہشت گردی کے کیس میں‌بے قصوروں‌کی گرفتاری اور انصاف کی سست رفتار دیکھ کر کچھ نوجوان پڑھا لکھا طبقہ یہ سمجھنے پر مجبور ہورہا ہے کہ ہمارے اکابر نے نظریہ پاکستان کی مخالفت کرکے تاریخی غلطی کی ہے؛ جب کہ سچائی یہ ہے کہ اس نظریہ کی مخالفت اور تقسیم ملک کا فیصلہ قبول نہ کرکے جمعیت نے سب سے بڑا تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے. اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کو جاننے کے لیے یہ تحریر پڑھنا ضروری ہے. یہ تحریر حضرت شیخ الاسلام نور اللہ مرقدہ کاخطبہ صدارت سے اقتباس ہے، جو انھوں‌نے جمعیت علمائے ہند کے تیرھویں‌اجلاس عام منعقدہ 20-21-22 ،مارچ 1942 میں‌پیش کیا تھا.
مسلمان اور آئندہ آئین حکومت
ہندستان کے داخلی مسائل میں مسلمانوں کا مسئلہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ گذشتہ ایک صدی سے ہندستان میں برطانیہ کی حکمت عملی نے مسلمانوں کو بھی ہندستان کی اقلیتوں میں داخل کرکے ان کے متعلقہ مسائل کو اقلیتوں کے مسائل سے وابستہ کردیا ہے۔ برطانوی سیاسین اور مدبرین ہمیشہ مسلمانوں کو ایک سیاسی اقلیت کی صف میں شمار کرنے اور ان کے معاملے کو اقلیتوں کے معاملات میں شامل کرنے کے عادی ہوگئے ہیں اور اسی بنا پر ہندستان کی غیر مسلم قومیں بھی ہندستان کے سیاسی مستقبل میں مسلمانوں کے متعلقہ مسائل کے ساتھ وہی سلوک کررہی ہیں، جو اقلیتوں کے مسائل کے ساتھ کرنے والی ہیں۔ یہ خیال انگریزوں اور غیر مسلموں تک محدود نہیں رہا؛ بلکہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود مسلمانوں کے ایک طبقے کے دلوں میں بھی یہ احساس پیدا ہوگیا کہ وہ ہندستان میں ایک سیاسی اقلیت ہیں اور اس وجہ سے وہ تمام اندیشے اور وسوسے اور خطرات ان کے دلوں پر چھا گئے، جو ایک اقلیت کو اپنی زندگی اور انفرادیت کے متعلق اکثریت کی طرف سے پیش آتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ ہندستان کی مجموعی مردم شماری میں تعداد کے لحاظ سے مسلمان بھی عددی اقلیت میں ہیں؛ لیکن یہ بھی یقینی ہے کہ بجائے خود ہندستان میں مسلمانوں کی تعداد یورپ کے کسی بڑے سے بڑے خطے کی آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔ نیز ہندستان کی تعمیر میں ان کا حصّہ سب سے زیادہ ہے۔ ہندستان میں ان کی تعداد نو اور دس کروڑ کے درمیان ہے۔ تہذیب اور ثقافت کے لحاظ سے وہ اہم خصوصیات کے مالک ہیں۔ جغرافیائی حیثیت سے انھیں قدرتی استحکام حاصل ہے۔ ہندستان کے گیارہ صوبوں میں سے چار میں وہ اکثریت رکھتے ہیں۔ اور اگر صوبوں کی از سرنو تحدید اور توسیع کی جائے، تو وہ تیرہ مجوزہ صوبوں میں سے چھ صوبوں میں اکثریت حاصل کرلیں گے۔ ان تمام حالات میں بھی اگر مسلمانوں کو ایک سیاسی اقلیت قرار دے کر دیگر اقلیتوں میں انھیں شامل کردیا جائے، تو اس سے زیادہ سیاسی غلطی اور کیا ہوسکتی ہے اور اس سے بڑا اور کیا فریب دنیا کو دیا جاسکتا ہے۔ اور اگر مسلمان ابھی تک اس غلطی میں مبتلا ہیں کہ ان کی زندگی بغیر برطانیہ کی سرپرستی کے قائم نہیں رہ سکتی، تو مسلمانوں کی تاریخ میں اس سے زیادہ المناک کوئی دوسری مثال نہیں مل سکتی۔ مسلمان ہندستان میں اپنی پوری مذہبی آزادی اور پوری تہذیب اور ثقافت کے ساتھ زندہ رہیں گے اور کسی غیر کی غلامی قبول کرنے سے وہ عزت کے ساتھ مرجانے کو ترجیح دیں گے۔ شعر ؎
ہُمَا خُطَّتَا اِمَّا اِسَارٌ وَ ذِلَّۃٌ
وَ اِمَّا ردًی وَالْقَتْلُ بِاْلْحُرِّ اَجْدَرَ
آزاد ہندستان میں مسلمانوں کا سیاسی مقام
آئندہ آزاد ہندستان میں برطانیہ نے اپنے مقاصد میں استعمال کرنے کی غرض سے مسلمانوں کے لیے کونسا سیاسی مقام تجویز کیا ہے، میں اس وقت اس بحث کو چھیڑکر تلخیوں میں اضافہ کرنا نہیں چاہتا؛ لیکن خود ہندستان کے سیاسی مفکرین کے سیاسی تصورات کا جہاں تک تعلق ہے، انھیں تین گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک گروہ وہ ہے، جو ہندستان کے آئندہ آئین حکومت کی تشکیل اس طریق پر کرنا چاہتا ہے کہ فرقہ وارانہ اکثریت کی ایسی مستحکم مرکزی حکومت قائم ہوکہ مسلمانوں کو تمام ہندستان میں ایک اقلیت کی جگہ ملے اور ان کی زندگی اور بقا تمام تر ایک طاقتور اور ناقابل تسخیر اکثریت کی مرضی سے وابستہ ہو؛ لیکن یہ تصور محض ایک پریشان خواب ہے، جو کبھی شرمندہئ تعبیر نہ ہوگا۔ یہ تصور اندھی سیاست ہونے کے علاوہ صائب الرائے مفکرین کے نزدیک ناقابل عمل بھی ہے۔ اس تصور کو جس قدر جلد دماغوں سے محو کردیا جائے، اُسی قدر ہندستان کے مجموعی مفاد کے لیے بہتر اور ہندستانیوں کے لیے مفید ہوگا۔
ملک کی تقسیم
دوسرا گروہ وہ ہے جو پہلے گروہ کے تصور اور اس کے عواقب و نتائج سے گھبراکر مسلمانوں کی نجات اور خوش عیشی کے لیے صرف یہ راستہ تجویز کرتا ہے کہ ہندستان کی وحدت کو پارہ پارہ کرکے اپنا جداگانہ سیاسی منطقہ بناکر براہِ راست تاج برطانیہ کے ساتھ اپنی قسمت کو وابستہ کردے، اس گروہ نے اپنے تقسیم ہند کے مطالبے کو تو نہایت بلند آہنگی اور شدت کے ساتھ منظر پر لانا شروع کردیا ہے؛ لیکن اس کے کسی پہلو پر ہلکی سی روشنی بھی نہیں ڈالی۔ ظاہر ہے کہ ہندستان کے ہر صوبہ میں مسلمانوں کی آبادی ان کے مذہبی مقدس شعائر، مساجد، مزارات، علمی ادارے، اوقاف وغیرہ اس قدر کثیر تعداد میں موجود ہیں کہ مسلمان کسی حالت میں ان کو نظر انداز نہیں کرسکتے اور تقسیم ہند کی صورت میں ان کا حشر کیا ہوگا، اس پر مجوزین تقسیم بالکل خاموش ہیں، اس لیے جب تک یہ نظر یہ پوری تفصیل کے ساتھ روشنی میں نہ آئے، اس وقت تک اس پر کوئی بحث بے سود اور بے نتیجہ ہے۔
یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ مجوزین تقسیم کے نزدیک بھی اسلامی منطقہ میں قائم ہونے والی حکومت کا دستور اساسی بھی اسلامی اور الٰہی حکومت کا دستور نہ ہوگا۔ اس کی بنیاد بھی یورپین طرز حکومت پر ہوگی اور اپنے تحفظ کے اطمینان ہوجانے پر اسے قبول کرنے میں بھی وہی اہون البلییتن اختیار کرنے کا اصول برتنا ہوگا۔ نیز اس نظریہ کے ماتحت ہندو منطقے اور مسلم منطقے قائم ہوجانے کی صورت میں ہندو منطقوں میں مسلمان- جن کی پوزیشن زیادہ سے زیادہ 14 فی صدی اور اکثری طور پر، یا پانچ فی صدی ہوگی- بالکل بے دست و پا اور زندہ در گور ہوجائیں گے اور مسلم منطقوں میں غیر مسلم -جن کی تعداد45 فی صدی تک ہوگی- مسلم حکومت کے لیے وبال جان ہوں گے۔
پس مسلم منطقے ہندو منطقوں کے تقریباً ساڑھے تین کروڑ مسلمانوں کی تباہی اور ہلاکت کی دستاویز پر خود دستخط کرکے اور اپنی جگہ ایسی حکومت- جس میں غیر مسلم متعصب موثر اقلیتیں ان کے لیے وبال جان ہوں – حاصل کرکے کونسی فلاح و بہبود اور اطمینان و مسرت حاصل کرسکیں گے؟ کیا یہ غضب کچھ کم ہے کہ مسلم اقلیتوں کے مسلمانوں کی حفاظت کے لیے جو کام کیا گیا ہو، وہ ایسے طرز پر کیا جائے کہ انھیں غریب بے کس مسلمانوں کی ساڑھے تین کروڑ کی تعداد ہلاک و برباد کردی جائے اور اپنی اکثریت بھی شدید خطرات میں مبتلا ہوجائے۔
متحدہ ہندستان
تیسرا گروہ وہ ہے، جو ہندستان کے آئندہ آئین کو وفاقی لامرکزی اصول پر مرتب کرنا ہندستان کے لیے اور اس کے تمام صوبوں اور قوموں کے لیے مفید اور قابل عمل سمجھتا ہے۔ وفاق میں شامل ہونے والی حکومتیں اپنی اپنی جگہ کلیۃً آزاد اور خود مختار ہوں گی۔ مرکزی حکومت ان کی آزادی میں کوئی مداخلت نہیں کرسکے گی۔ مرکز کو صرف وہ اختیارات ملیں گے، جو وفاق کے اجزا اس کو اتفاق رائے سے سپرد کریں گے اور غیر مصرحہ اختیارات صوبائی حکومتوں کو حاصل رہیں گے۔ ہر حکومت میں اقلیتوں کے تہذیبی، سیاسی، مذہبی حقوق کی حفاظت کی جائے گی اور اُن کی صوابدید کے موافق تحفظات دیے جائیں گے۔ اکثریت اپنے حقوق اکثریت سے مستفید ہوگی اور اقلیتیں امن و اطمینان کی زندگی بسر کریں گی۔ غیر مسلم اکثریت کے صوبوں میں مسلمان اقلیت کو کسی تکلیف اور بے انصافی کا خوف نہ ہوگا۔ ان کے تمام سیاسی اور مذہبی حقوق اور مقدس شعائر بجائے خود محفوظ ہوجائیں گے اور مسلم اکثریت کے صوبوں میں غیر مسلم اقلیتیں امن و اطمینان سے زندگی بسر کریں گی اور ان کے ساتھ کوئی بے انصافی نہ کی جائے گی اور ان کے تمام سیاسی اور مذہبی حقوق اور شعائر محفوظ ہوجائیں گے۔ ہندستان کے ذی بصیرت اصحاب رائے اس تجویز کو موجودہ ماحول میں قابل عمل اور ہندستان کے پیچیدہ مسائل کے حل کرنے کا واحد راستہ سمجھتے ہیں۔ آزاد مسلم کانفرنس منعقدہ دہلی کی تجویز اس رائے کی آئینہ دار ہے، جس کا اجمالی خاکہ یہ ہے کہ ہندستان کے آئندہ دستور اساسی میں مندرجہ ذیل اصول کو پیش نظر رکھا جائے:
(۱) مسلمانوں کے شخصی قانون (پرسنل لاء) اور ان کے مذہب اور تہذیب کی حفاظت۔
(۲) مسلمانوں کے سیاسی حقوق اور ان کی حفاظت۔
(۳) آئندہ حکومت کی ایسی تشکیل، جس میں صوبہ وار کامل خود مختاری کے ساتھ لامرکزیت کے اصول پر وفاق کے لیے ناگزیر وفاقی امور کی تشریح۔
(۴) مسلمانوں کے اقتصادی معاشرتی تمدنی حقوق اور ملازمتوں میں تناسب کی تفصیل اور ان کے لیے تحفظات۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: