مضامین

جمعیت کا بارھواں یعنی آخری ڈکٹیٹر: جمعیت کا دائرہ حربیہ یا مجلس حربی قسط نمبر(28)

محمد یاسین جہازی 9891737350

مولانا مبارک حسین صاحب نے اپنے بعد مولانا عبد الحق صاحب صدر جمعیت علمائے آسام کو بارھواں ڈکٹیٹر مقرر کیا۔
”یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مولانا مبارک حسین صاحب نے اپنی گرفتاری کے وقت مولانا عبد الحق صاحب صدر جمعیت علمائے آسام کو جمعیت علمائے ہند کا بارھواں ڈکٹیٹر مقرر کیا ہے۔“ (الجمعیۃ 5فروری1933)
بارھویں ڈکٹیٹر کا زبردست خطاب
28اپریل۔آج بعد نماز جمعہ جامع مسجد دہلی میں زیر اہتمام جمعیت علمائے ہند، مسلمانان دہلی کا ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ حضرت مولانا عبد الحق صاحب ڈکٹیٹر جمعیت علمائے ہند صدر جلسہ تھے۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد حضرت مولانا اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں کے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ نے سب سے پہلے اپنی طویل علالت کے حالات اور وقت پردہلی نہ پہنچ سکنے کے اسباب بیان فرمائے۔ اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے دہلی میں آکر معلوم ہوا ہے کہ میری علالت کے زمانہ میں یہاں بعض ناعاقبت اندیشوں نے گمراہ کن افواہیں اڑائیں اور اشتعال انگیز مضامین اخبارات میں شائع کیے؛ مگر الحمد للہ کہ آپ حضرات جو جمعیت علمائے ہند کے مسلک کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور اس کی مذہبی و سیاسی خدمات سے کماحقہ واقف ہیں، اس قسم کے پروپیگنڈا سے متاثر نہیں ہوئے۔ میں نے سنا ہے کہ عوام کو بد ظن کرنے کے لیے یہ کہا گیا کہ جنگ آزاد ی میں جمعیت علمائے ہند نے اپنا مسلک بدل دیا ہے اور ثبوت میں یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ آر ڈی نینس ڈے کا سلسلہ ختم ہوگیا، حالاں کہ سب کو معلوم ہے کہ آر ڈی نینس ڈے کے ماہانہ مظاہرے آرڈی نینسوں کے اجرا کے خلاف اظہار ناراضگی کرنے اور وائسرائے سے ان کی واپسی کا مطالبہ کرنے کے غرض سے مقرر کیے گئے تھے۔ جب آر ڈی نینس ختم ہوگئے، تو پھر ان کے خلاف مظاہرے کیا معنی رکھتے ہیں۔ جہاں تک کہ جمعیت علمائے ہند کے مذہبی و سیاسی مسلک کا تعلق ہے، آپ حضرات جانتے ہیں کہ وہ گزشتہ تیرہ سال سے بدستور قائم ہے اور اس میں ایک نقطہ کا فرق بھی نہیں آسکتا۔ جب تک ہندستان آزاد نہیں ہوگا، جمعیت کی جدوجہد جاری رہے گی۔رہا موجودہ پروگرام کا سوال، اس میں بھی ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ میں عنقریب مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کر رہا ہوں، جس میں جدید صورت حالات پر بحث کی جائے گی۔
آخر میں آپ نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ سودیشی اشیا کا استعمال کریں اور آزادی ہند کی راہ میں دوسری اقوام کے ساتھ متحد ہوکر گامزن ہوں۔ آپ کے بعد مولانا عبد الماجد صاحب نے بھی غیر مسلم اقوام کے ساتھ مصالحت اور اتحاد و اتفاق پر زور دیا اور ڈکٹیٹر صاحب کے ارشادات کی مزید وضاحت فرمائی۔“ (الجمعیۃ یکم مئی1933)
بارھویں ڈکٹیٹر کی ایک اور تقریر
”دہلی23مئی۔ آج بعد نماز جمعہ جامع مسجد دہلی میں مسلمانوں کا ایک عظیم الشان جلسہ زیر اہتمام جمعیت علمائے ہند منعقد ہوا۔ مولانا مولوی عبد الحق صاحب ڈکٹیٹر جمعیت العلمائے ہند صدر جلسہ تھے۔ مولانائے موصوف نے اپنی تقریر صدارت میں مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کی تلقین فرمائی اور قومی و ملی ضروریات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ میں عنقریب ہندستان کے بعض اہم مقامات کا دورہ کرنے والا ہوں، تاکہ وہاں کے مسلمانوں تک جمعیت کی آواز کو پہنچایا جائے اور انھیں اپنے بقا و استحکام کی منظم جدوجہد کرنے کی طرف مائل کیا جائے۔ اسی سلسلہ میں ارادہ ہے کہ مختلف صوبوں کے علما سے مل کر ان کے نظام کو اور زیادہ استوار کرنے کی تدابیر پر بھی غور کروں اور اس دورہ کے بعد مجلس عاملہ اور دیگر اہل الرائے اراکین مجلس انتظامیہ کا ایک جلسہ طلب کرکے ان کے سامنے موجودہ ضروریات اور صورت حالات کو پیش کردوں، تاکہ وہ حضرات تمام واقعات پر کامل غورو فکر کے بعد کوئی ایسا پروگرام تجویز کریں، جو مقتضیات زمانہ کے مطابق ہو اور جس کے ماتحت مسلمانوں کے اندر از سر نو مذہبی و سیاسی زندگی پیدا ہوسکے۔ آپ نے سامعین کو جمعیۃ العلماء ہند پر کامل اعتماد رکھنے اور اس کی بتائی ہوئی راہ عمل پر چلنے کی ہدایت کی اور فرمایا کہ مسلمانوں کی صحیح رہنمائی وہی حضرات کرسکتے ہیں، جو ایک طرف اسلام کی حقیقی تعلیمات سے کما حقہ واقفیت رکھتے ہوں اور دوسری طرف موجودہ حالات و کوائف سے بھی آگاہ ہوں۔ اور ظاہر ہے کہ اس ضرورت کو اگر کوئی جماعت باحسن الوجوہ پورا کرسکتی ہے، تو وہ علمائے کرام ہی کی جماعت ہے۔
جناب صدر کی تقریر کے بعد مولوی سلطان احمدصاحب نے ایک مختصر تقریر میں مسلمانوں کی تعلیمی و اقتصادی تباہ حالی کا منظر پیش کیا اور انھیں اپنی ملی اصلاح اور قومی فلاح کی طرف پرزور الفاظ میں توجہ دلائی۔ جلسہ کی کارروائی تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہی۔“ (الجمعیۃ21مئی 1933)
بارھویں ڈکٹیٹر کی گرفتاری سے پہلے ہی، جمعیت علمائے ہند نے اس نظام کو ملتوی کردیا اور استخلاص وطن کی جدوجہد کے لیے نئی حکمت عملی طے کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنادی گئی۔ تفصیل آگے آرہی ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: